علی اعجاز

اپنی مزاحیہ اداکاری سے سب کے لبوں کو ہنسی کی خیرات دینے والا نم آنکھوں سے دنیا چھوڑ گیا

جمعہ 18 دسمبر 2020

Ali Ijaz
چوہدری عبدالخالق
ریڈیو‘ٹی وی‘اسٹیج اور فلم کے معروف اداکار علی اعجاز کو ہم سے بچھڑے دو سال ہو گئے ہیں۔ٹیلی ویژن پر ”لاکھوں میں تین“،”دوبئی چلو“ اور ”خواجہ اینڈ سن“ اور فلم ”سالا صاحب“ میں منفرد اور یادگار کردار نبھانے والے یہ اداکار 18 دسمبر 2018 ء کو 76 سال کی عمر میں اس جہان فانی سے کوچ کر گیا تھا۔علی اعجاز 1941ء کو لاہور کے علاقے قلعہ گجر سنگھ میں پیدا ہوئے۔

یہیں کے رہنے والے اداکار منور ظریف سے بچپن کا یارانہ تھا۔منور ظریف اور ان کے بڑے بھائی دونوں ہی فلمی دنیا میں اپنی اداکاری کا لوہا منوا چکے تھے اور ان کو دیکھ کر علی اعجاز کو بھی ان کی طرح اسی شعبے میں آنے کا ارمان تھا۔تعلیم سے فارغ ہو کر ایک بینک میں ملازمت کر لی مگر اس کام میں ان کا دل ہی نہ لگتا تھا۔

(جاری ہے)

سید گھرانے سے تعلق رکھنے والے علی اعجاز کے گھر والے نہیں چاہتے تھے کہ وہ فلموں میں کام کریں۔

انہوں نے علی اعجاز کو اس شعبے میں جانے سے ہر طرح منع کیا یہاں تک کہ گھر والوں نے شرط رکھ دی کہ یا اپنا شوق پورا کر لیں یا گھر چھوڑ دیں مگر علی اعجاز نے اپنے شوق کی خاطر گھر چھوڑ دیا اور گھر سے بے گھر ہو گئے۔کچھ عرصہ بعد گھر والے جان گئے کہ یہ اپنا کام نہیں چھوڑے گا تو انہیں گھر آنے کی اجازت دی۔
علی اعجاز نے اپنے فنی سفر کا آغاز ریڈیو پاکستان لاہور سے اپنی آواز کے ذریعے کیا اور اس کے بعد اپنے آپ کو اسٹیج کیلئے وقف کر دیا۔

وہ الحمراء آرٹس کونسل کے اسٹیج پر ہونے والے ڈراموں میں حصہ لیتے رہے۔اس فیلڈ میں اپنی اداکاری سے لوگوں کے دلوں میں اترنے کیلئے کافی وقت لگ گیا لیکن انہوں نے زندگی کے کسی موڑ پر ہمت نہ ہاری لگن اور مفت سے اپنی جدوجہد کو جاری رکھا۔ان دنوں لاہور سے پاکستان ٹیلی ویژن کی نشریات شروع ہوئیں تو ریڈیو اور تھیٹر کے لوگوں کو ٹی وی پرکام کرنے کا نادر موقع مل گیا۔

ٹی وی کی نشریات ان دنوں ریڈیو پاکستان کی عمارت سے ہی کی جاتی تھیں۔یہ نشریات لائیو دکھائی جاتی تھیں کیونکہ اس وقت تک ریکارڈنگ نہیں ہوتی تھی۔علی اعجاز کیلئے ٹی وی اسٹیشن آنا جانا بہت آسان تھا کیونکہ ان کا گھر قریب ہی قلعہ گجر سنگھ میں تھا جہاں سے پیدل ہی آرام سے ٹی وی اسٹیشن آتے جاتے اور زیادہ تر وقت وہیں گزارتے تھے۔1964ء میں اطہر شاہ خان جیدی کے لکھے ہوئے ڈرامے”لاکھوں میں تین“ میں کام کیا۔

اس ڈرامے کے تین مرکزی کردار تھے جن میں سے ایک کردار علی اعجاز کو دیا گیا اور اس کردار میں انہوں نے اتنی جان ڈالی اور اس طرح اسے نبھایا کہ شہرت کی دیوی ان پر مہربان ہو گئی۔فلمساز،ہدایتکار شباب کیرانوی نے علی اعجاز کی جاندار اداکاری کو دیکھتے ہوئے اداکار ننھا کے ذریعے ملاقات کا پیغام بھیجا۔اس ملاقات میں انہیں فلم میں کام کرنے کی پیشکش کی گئی جسے انہوں نے قبول کر لیا۔


اس طرح ریڈیو‘تھیٹر اور ٹی وی کے بعد علی اعجاز پر فلمی دنیا کے دروازے بھی کھل گئے اور وہ فلمی اداکار بن گئے۔انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز فلم ساز ہدایتکار شباب کیرانوی کی فلم”انسانیت“سے کیا۔یہ فلم سپرہٹ ہوئی جس میں زیبا‘وحید مراد‘سلطان راہی‘سلمیٰ ممتاز اور طارق عزیز شامل تھے۔علی اعجاز نے اپناکردار اس خوبی سے ادا کیا کہ فلمی ناقدین بھی انہیں زبردست خراج تحسین ادا کرنے پر مجبور ہو گئے۔

اسی فلم میں انہوں نے اپنے کیریئر کا واحد گانا احمد رشدی اور آئرن پروین کے ساتھ مل کر گایا تھا۔ٹی وی پر آنے کا سب سے بڑا فائدہ ان اداکاروں کو ہوا جو ٹی وی کے راستے فلمی دنیا میں داخل ہوئے۔علی اعجاز نے فلم کے ساتھ ساتھ ٹی وی پر بھی کام کا سلسلہ جاری رکھا۔اسی دوران معروف صحافی عارف وقار کے لکھے ہوئے ایک ڈرامے”دبئی چلو“میں ایک یادگار کردار ادا کیا۔

اس ڈرامے کی کہانی گھر گھر کی کہانی تھی کیونکہ ان دنوں ہمارے ملک کے ستر فیصد نوجوان دبئی اور دوسری خلیجی ریاستوں میں جانے کے جنون کی حد تک شوقین تھے اور ان میں سے اکثر باہر جانے کے شوق میں نوسرباروں کے ہاتھوں لٹتے رہتے تھے۔
اس ڈرامے کے ہیرو علی اعجاز کو ایک معصوم نوجوان کی شکل میں پیش کیا گیا تھا جو دبئی جانے کے شوق میں نوسر بازوں کے ہاتھوں لٹ جاتا ہے۔

سچ پوچھیں تو گھر گھر علی اعجاز کی اصل پہچان اسی ڈرامے کی وجہ سے ہوئی۔یہ ڈرامہ اتنا پسند کیا گیا کہ اس کی مقبولیت دیکھتے ہوئے ملک کے کامیاب اور مشہور ہدایتکار حیدر چوہدری نے اسی کہانی پر فلم بھی بنائی اور اس فلم کا نام بھی ”دبئی چلو“رکھا گیا۔اس فلم کی کاسٹ میں بھی زیادہ تر ٹیلی ویژن کے اداکاروں کو شامل کیا گیا تھا جس میں مرکزی کردار علی اعجاز نے ادا کیا اور یہ فلم بھی باکس آفس پر ہٹ ہوئی۔

1979ء میں ریلیز ہونے والی اس فلم میں ان کے ساتھ ممتاز‘نغمہ‘اقبال حسن‘اسلم پرویز‘قوی اور ننھا شامل تھے۔اس فلم کے بعد ان کی ننھا کے ساتھ ایسی جوڑی بنی کہ ہر دوسری پنجابی فلم میں ان دنوں کو ہی کاسٹ کیا جانے لگا۔منور ظریف،جو اپنی زندگی میں مزاحیہ ہیرو کے طور پر اپنا لوہا منوا چکے تھے،اچانک اپنی وفات کے بعد بہت بڑا خلا چھوڑ گئے۔
ان دنوں رجحان ہی کچھ ایسا ہو گیا تھا کہ لوگ مزاحیہ ہیرو کی فلمیں بڑے شوق سے دیکھتے تھے اور اس طرح کی فلمیں وقت کی ضرورت بن چکی تھیں۔

اس خلا کو پورا کرنے کیلئے علی اعجاز کو ہی سامنے لایا گیا اس طرح علی اعجاز اپنے بچپن کے ساتھی کی کمی کو دور کرنے میں کامیاب ہوئے ۔فلموں میں ممتاز کے ساتھ ان کی جوڑی کو فلم بینوں نے بے حد پسند کیا اور ان دونوں نے بہت مشہور اور کامیاب فلموں میں کام کیا جن میں ”سالا صاحب“ سرفہرست ہے۔اس فلم میں انجمن کے ساتھ رنگیلا‘ننھا اور سلطان راہی بھی شامل تھے۔

یہ فلم ہر لحاظ سے کامیاب ثابت ہوئی۔کامیڈی سے بھرپور اس فلم کیلئے ملکہ ترنم نور جہاں کے گائے ہوئے گانوں ”وے اک تیرا پیار مینوں ملیا میں دنیا توں ہور کی لینا“ اور ”میں تے میرا دلبر جانی“ نے قوس قزح کے رنگ بھر دیئے تھے۔
 علی اعجاز نے جن فلموں میں کام کیا ان میں مشہور فلمیں یملا جٹ (1969)دلبر جانی(1970)دل اور دنیا(1971)جی او جٹا (1971)سجن دشمن(1972)لیلیٰ مجنوں(1973)جوگی (1975)وحشی جٹ(1975)ہتھکڑی(1975)وارنٹ(1976) دبئی چلو(1979)سوہرا تے جوائی(1980)چاچا بھتیجا(1981)مولا جٹ تے نوری نت(1981)مرزا جٹ(1982)دوستانہ (1982)سسرال چلو(1983)صاحب جی(1983)سونا چاندی(1983)جوڑا(1986)اور چور مچائے شور (1996)شامل ہیں۔


علی اعجاز نے ہر طرح کے کردار بڑی خوش اسلوبی سے نبھائے۔انہیں جو بھی کردار دیا گیا انہوں نے اس کو اپنی بے مثال اداکاری سے امر کر دیا۔ایک طرف سنجیدہ کرداروں میں اپنے آپ کو منوایا تو دوسری طرف مزاحیہ کرداروں کی جان بنے رہے۔کردار جوان کا ہو یا بوڑھے کا، اس عمدگی سے ادا کرتے کہ دیکھنے والا عش عش کر اٹھتا۔خاص کر بوڑھے کا کردار نبھانا ان پر ختم تھا۔

علی اعجاز اس وقت اگرچہ جوان تھے مگر انہیں زیادہ تر کردار بوڑھوں کے ہی دیئے جاتے تھے حتیٰ کہ وہ اپنی ہی عمر کی ہیروئن کے دادا بنے بھی نظر آتے تھے۔اس کی خاص وجہ یہ تھی کہ ایکٹنگ کے ساتھ ساتھ وہ ایک بوڑھے آدمی کی طرح توتلی زبان میں ڈائیلاگ ڈلیوری بڑی خوبصورتی سے کرتے تھے۔علی اعجاز نے ایک سو سات فلموں میں کام کیا جن میں 22 اردو 84 پنجابی اور ایک پشتو فلم ”خانو دادا“ شامل ہے۔

ان کے فن کا عتراف کرتے ہوئے حکومت کی طرف سے انہیں 1993ء میں پرائڈ آف پرفارمنس کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔علاوہ ازیں دو مرتبہ بیسٹ پرفارمنس کا نگار ایوارڈ بالترتیب 1981ء اور 1984ء کو ملا تھا۔
ذاتی حوالے سے علی اعجاز بڑے سادہ اور ملنسار انسان تھے۔گفتگو میں بڑی نفاست اور شائستگی ہوتی۔ملنے والے کو محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ یہ کوئی بڑے اداکار ہیں،ان کے طرز عمل میں کہیں غرور کا گمان نہ ہوتا۔

ان کی شادی اس وقت ہوئی جب ان پر بڑا عروج تھا۔اتنا بڑا معروف اداکار جس کے پاس نام اور ایک مقام تھا یہ وہ زمانہ تھا جب لڑکیاں ان کے آگے پیچھے پھرا کرتی تھیں۔بہرحال ان کی شادی ہوئی اور وہ لو میرج تھی جس سے ان کے دو بیٹے تھے۔ان کی بیوی بہت خوبصورت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون تھیں جبکہ انہوں نے خود میٹرک کیا ہوا تھا۔بہرحال جیون بھی ساتھ نبھانے کے عہد و پیمان کے بعد ان کی شادی ہو گئی شروع میں ان کی بیوی پوجا کی حد تک ان سے پیار کرتی تھی اس کا ہر طرح سے خیال رکھتی تھی۔

انسانی فطرت ہے کہ کسی کے پاس جب پیسہ آتا ہے تو گھر والوں کے ساتھ ساتھ دوسرے بھی پیسے والے آدمی کو سر پر اٹھائے رکھتے ہیں۔ان کے بیٹے آسٹریلیا پڑھنے گئے ہوئے تھے اور یہ نوٹ پینٹوں میں سی سی کر انہیں بھجواتے تھے۔ افسوس جب یہ بیمار ہوئے انہیں فالج ہوا،پیسوں کی ریل پیل ختم ہوئی تو بیوی کے ساتھ بیٹوں نے بھی ان سے منہ پھیر لیا۔اس دوران سب سے پہلے ان کا مکان اپنے نام کروایا بیوی نے ناصرف ان سے بول چال بند کر دی تھی بلکہ انہیں اپنی شکل دکھانے کی بھی روادار نہیں تھی۔


علی اعجاز نے ٹی کے ایک انٹرویو میں رو رو کر اپنے دکھوں کا اظہار کیا تھا جسے دیکھنے والوں کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے تھے۔انہیں آخری عمر میں ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا صدمہ سہنا پڑا۔ایک دوست کے ساتھ مل کر اسکیم موڑ ملتان روڈ پر پچاس ساٹھ لاکھ کی سرمایہ کاری سے ٹی وی کی بہت بڑی دکان بنائی تھی جب شدید بیمار ہوئے دوست کو ان کے حالات کا پتہ چلا تو اس نے بھی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دوکان کا سارا سامان چوری کر لیا۔

راتوں رات سامان ٹرکوں میں ڈالااور لے کر غائب ہو گیا۔بہرحال علی اعجاز اپنے گھر والوں کا رویہ بدلنے کی وجہ سے سخت اذیت میں مبتلا تھے۔ان کے ساتھ تلخ رویہ اختیار کرنے اور سخت الفاظ جیسے ڈفر‘ جاہل اور کھانے کی تمیز نہیں کہہ کر ان کی توہین کی جاتی تھی۔سوچنے کی بات ہے کیا انہیں یہ باتیں شادی کے تیس پینتیس سال اکھٹے رہنے کے بعد اس وقت معلوم ہونی تھیں۔

ایک اچھے بھلے انسان کے ساتھ اگر اس طرح کا رویہ اختیار کیا جائے تو وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے جبکہ ایک شدید بیمار آدمی کے ساتھ اس طرح کا سلوک انتہائی نامناسب ہے۔علی اعجاز کے ایک دیرینہ اور مہربان دوست قمر جمیل،جو ایک اچھے رائٹر اور ڈائریکٹر ہیں،ان کے گھر خبر گیری کیلئے جایا کرتے تھے جو ان سارے واقعات کے چشم دید گواہ بھی ہیں اپنے دوست کے حالات دیکھ کر بڑے پریشان ہوتے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ اتنے بڑے فنکار کو رہنے کیلئے مکان کی چھت پر برستاتی نما اسٹور دیا ہوا تھا جس میں ایک چارپائی‘ٹوٹا ہوا پانی کا کولر اور ایک پرانے زمانے کا ٹیبل فین تھا جبکہ خود گھر والے انہی کے پیسوں سے خریدے ہوئے فریج اور اے سی استعمال کیا کرتے تھے۔اب تصور کریں کہ گرمیو ں میں سب سے اوپر والے کمرے کتنے سخت گرم ہو جاتے ہیں۔ایک وقت ایسا آیا کہ علی اعجاز کو شک پڑ گیا تھا کہ ان کی بیوی انہیں زہر دے کر مار دے گی۔

بہرحال آخری دنوں میں علی اعجاز سخت کسمپرسی کا شکار رہے اور اپنے حالات پر دن رات آنسو بہاتے ہوئے 18 دسمبر 2018ء کو مالک حقیقی کے پاس چلے گئے۔علی اعجاز نے اپنے انٹرویو میں وصیت کی تھی کہ یاد رکھیں جب میں مرجاؤں تو میری قبر کے کتبے پر یہ شعر ضرور لکھوائیں
سارا ہی شہر تھا جس کے جنازے میں شریک
تنہائیوں کے خوف سے وہ شخص مر گیا

Your Thoughts and Comments