استاد غلام حسن شگن

مداحوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں

بدھ فروری

Ustad Ghulam Hassan Shaggan
وقار اشرف
نامور کلاسیکل گلوکار اُستاد غلام حسن شگن کو بچھڑے چھ برس بیت گئے مگر اُن کا فن آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہے۔1928ء کو امرتسر میں پیدا ہونے والے غلام حسن شگن کے والد استاد بھائی لعل محمد اور بھائی بھی مشہور کلاسیکل گلوکار تھے۔استاد بھائی لعل محمد کو 1927ء میں شکارپور میں ہونے والی میوزک کانفرنس میں ”سنگیت ساگر“ کے اعزاز سے نوازا گیا تھا۔

وہ کلاسیکی موسیقی کے گوالیار خاندان سے تعلق رکھتے تھے جس کا ایک اہم حوالہ خیال طرز گائیکی بھی ہے،اس خاندان کا تعلق براہ راست تان سین سے ہے۔قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان لاہور آکر قیام پذیر ہو گیا،ان کے والد نے ریڈیو پاکستان لاہور میں بحیثیت میوزک سپر وائزر ملازمت اختیار کی۔اپنے والد کی زندگی میں ہی غلام حسن شگن نے بھی خاندانی روایت کو آگے بڑھانا شروع کر دیا تھا ور بچپن میں ہی ریڈیو پاکستان کے لئے پروگرام کرنا شروع کر دیا تھا۔

(جاری ہے)

اس دور میں استاد بڑے غلام علی خاں،استاد برکت علی خاں،خاں صاحب عنایت حسین،حافظ علی خاں،استاد نتھو خاں جیسے بڑے نام ریڈیو سے منسلک تھے۔
1998ء میں حکومت پاکستان نے اُستاد غلام حسن شگن کو پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا۔2000 میں ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارہ امتیاز بھی عطا کیا گیا۔دورہ بھارت کے دوران انہیں سنگیت رتن اور سندھ سنگیت منڈلم جیسے القابات بھی ملے تھے۔

وہ صرف برصغیر میں مشہور نہیں تھے بلکہ فرانس،سوئیڈن،سپین،سوئٹزر لینڈ،جرمنی اور برطانیہ کے موسیقار بھی ان کی بہترین پرفارمنس پر ان کے معترف تھے۔
1962ء میں دہلی میوزک کانفرنس میں انہیں سنگت کار اعظم کے گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔نومبر 1962ء میں آل انڈیا سدارنگ میوزک کانفرنس کلکتہ میں سنگیت سمراٹ کا خطاب دیا گیا۔اسی برس موسیقی کی ایک اور کانفرنس میں شہنشاہ موسیقی کا خطاب ملا۔

1995ء میں آل پاکستان میوزک کانفرنس میں ملکہ موسیقی روشن آراء بیگم ایوارڈ سے نوازا گیا۔1996ء میں آل ورلڈ میوزک فیسٹیول روحانی(مراکش) میں جادوئے موسیقی کا خطاب دیا گیا۔غلام حسن شگن کے دو بیٹے قادر علی شگن اور مظہر حسن شگن بھی موسیقی کی دنیا سے وابستہ ہیں۔ قادر علی شگن گائیک اور موسیقار ہیں جبکہ مظہر حسن شگن رباب اور مینڈولین بجاتے ہیں۔غلام حسن شگن دل کے عارضے میں مبتلا ہو کر پچاسی سال کی عمر میں 3 فروری 2015ء کو جہان فانی سے کوچ کر گئے تھے۔

مزید موسیقی - میوزک کے مضامین :

Your Thoughts and Comments