ایم اشرف

سریلی اور سدا بہار دھنوں کے خالق

جمعرات فروری

M.Ashraf
وقار اشرف
لاتعداد سریلی اور سدا بہار دھنوں کے خالق نامور موسیقار ایم اشرف کو دنیا سے رخصت ہوئے 14 برس ہو گئے مگر ان کی ترتیب دی ہوئی دھنیں آج بھی کانوں میں رس گھولتی ہیں۔ انہیں جب کوئی پیار سے بلائے گا تم کو ایک شخص یاد آئے گا،ہمارے دل سے مت کھیلو،تمہی ہو محبوب میرے،تو جہاں کہیں بھی جائے میرا پیار یاد رکھنا،میرا بابو چھیل چھبیلا میں تو ناچوں گی،دل کو جلانا ہم نے چھوڑ دیا سمیت بے شمار لازوال گیتوں کی دھنیں بنانے کا اعزاز حاصل تھا۔

وہ ماسٹر عنایت اور ماسٹر عبداللہ کے بھانجے اور موسیقار اختر حسین کے شاگرد تھے۔ بطور میوزک ڈائریکٹر شباب کیرانوی کی فلم ”سپیرن“ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا،اس فلم سے احمد رشدی کو زبردست شہرت ملی تھی،احمد رشدی نے ایم اشرف کی موسیقی میں جو گیت گایا اس کے بول تھے”چاند سا مکھڑا گورا بدن“ اور اسی گانے پر احمد رشدی کو نگار ایوارڈ ملا تھا۔

(جاری ہے)

ایم اشرف کا زیادہ تر کام شباب پروڈکشن کے لئے ہی تھا۔اپنے 45 سالہ فلمی کیریئر کے دوران انہوں نے 400 فلموں کی موسیقی دی اور 2800 کے قریب فلمی گانے کمپوز کیے۔شوکت علی،ناہید اختر،نیرہ نور،رجب علی ،اسد امانت علی سمیت کئی معروف گلوکاروں کو متعارف کروانے کا اعزاز بھی انہیں حاصل تھا۔وہ 60ء اور 70ء کے عشروں میں مصروف ترین موسیقار تھے،اس دوران انہیں ایک درجن سے زیادہ ایوارڈ بھی ملے تھے۔


یکم فروری 1938ء کو پیدا ہونے والے ایم اشرف نے پاکستان کی تین نسلوں کیلئے میوزک کمپوز کیا۔60ء کی دہائی میں ایم اشرف نے موسیقار منظور کے ساتھ کام کیا اور منظور اشرف کے نام سے ان کی جوڑی بہت مشہور ہوئی تھی۔دونوں نے 1956ء سے 1967ء تک اکٹھے کام کیا اس کے بعد منظور منظر سے غائب ہو گئے لیکن ایم اشرف نے موسیقی کی دنیا میں اپنا الگ نام پیدا کیا۔

ساٹھ،ستر،اسی اور نوے کی دہائیوں میں انہوں نے مجموعی طور پر چھ سو سے زیادہ فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ملکہ ترنم نور جہاں اور مہدی حسن سے لے کر طاہرہ سید ،رجب علی،اخلاق احمد،نیرہ نور اور انور رفیع تک ہر گلوکار اور گلوکارہ نے ان کے مرتب کردہ گیت گائے۔لوک دھنوں پر ترتیب دیئے ہوئے ان کے پنجابی نغمے بھی بے حدمقبول ہوئے تھے جن میں نمبواں دا جوڑا اسی باگے وچوں توڑیا،دوپتر اناراں دے اور میرا لونگ گو اچا نمایاں ہیں۔

ایم اشرف کو جن فلموں کا شاندار میوزک دینے پر نگار ایوارڈ دیئے گئے ان فلموں میں گھرانہ میرا نام ہے محبت‘شبانہ اور قربانی شامل ہیں۔
ایم اشرف نے 1963ء میں فلم”تیس مار خان“ میں گلوکار شوکت علی اور 1974ء میں فلم ”ننھا فرشتہ“میں گلوکارہ ناہید اختر کو متعارف کروایا ۔نیرہ نور کا پہلا سپرہٹ گیت بھی ایم اشرف کی موسیقی میں تھا۔رجب علی نے بھی 1971ء میں ان کی فلم”یادیں“ میں گیت گایا تھا۔

اسد امانت علی خان کو شباب کیرانوی کی فلم”سہیلی“ میں ایم اشرف نے پہلی بار موقع دیا تھا۔ایم اشرف نے کئی ریکارڈ قائم کئے،انہوں نے سب سے زیادہ فلموں کی موسیقی دی اور چار اہم گلوکاروں کے ساتھ بیک وقت کام کیا جن میں نور جہاں،مہدی حسن،مسعود رانا اور احمد رشدی شامل ہیں۔انہوں نے بعد میں ناہید اختر سے بھی کئی شاندار نغمات گوائے جن میں ”کسی مہرباں نے آکے میری زندگی سجا دی“آج بھی مقبول ہے۔

فلم”شبانہ“میں انہوں نے مہدی حسن سے”تیرے بنا دنیا میں“ جیسا گیت گوایا تھا۔ایم اشرف کی مشہور فلموں میں مہتاب‘پ سپیرن‘آئینہ‘من کی جیت‘گھرانہ‘دامن اور چنگاری‘میرا نام ہے محبت‘شبانہ‘محبت زندگی ہے‘جب جب پھول کھلے‘زندگی‘سہیلی اور دیگر شامل ہیں۔یہ نامور موسیقار 4 فروری 2007ء کو حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے تھے۔ان کے بیٹے ایم ارشد بھی اپنے والد کا نام اور کام خوبصورتی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔

مزید موسیقی - میوزک کے مضامین :

Your Thoughts and Comments