قاضی واجد

مزاحیہ،سنجیدہ اور منفی کردار یکساں مہارت سے کئے

جمعرات فروری

Qazi Wajid
وقار اشرف
ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر کئی یادگار کردار ادا کرنے والے قاضی واجد کو اپنے چاہنے والوں سے بچھڑے تین برس بیت گئے۔ان کا شمار،ریڈیو، تھیٹر اور ٹی وی سے وابستہ ان فنکاروں میں ہوتا تھا جنہیں شوبز کی دنیا کا قابل فخر ورثہ قرار دیا جا سکتا تھا،مکالموں کی ادائیگی میں برہستگی، شفتگی،آواز کے اُتار چڑھاؤ اور چہرے کے تاثرات سے وہ اپنا ہر”سین“ مکمل کر دیتے تھے۔

وہ بلاشبہ گنتی کے ان چند بہترین فنکاروں میں سے تھے جو پاکستان نے پیدا کئے۔طویل کیریئر کے دوران انہوں نے مزاحیہ،سنجیدہ اور منفی غرض ہر طرح کے کردار یکساں مہارت سے کئے چاہے وہ”ہوا کی بیٹی“ کا منفی کردار ہو یا”تنہائیاں“ اور”دھوپ کنارے“جیسے کلاسک ڈراموں میں انتہائی شفیق باپ کا مثبت کردار۔

(جاری ہے)

ان کا پورا نام قاضی عبدالواجد انصاری تھا۔

10 برس کی عمر میں فنی کیریئر کا آغاز کیا اور پہلی مرتبہ ریڈیو پاکستان پر بچوں کے پروگرام”نونہال“میں صداکاری کی۔
پی ٹی وی پر پہلا ڈرامہ”ایک ہی راستہ“تھا جس میں منفی کردار نبھایا۔جب 1969ء میں”خدا کی بستی“ شروع ہوا تو اس میں راجہ کے کردار نے شہرت عطا کی۔اس کے بعد دھوپ کنارے،ان کہی،تنہائیاں،حوا کی بیٹی،چاند گرہن،پل دو پل،تعلیم بالغاں اور انار کلی میں یادگار کردار ادا کئے۔

طویل فنی خدمات پر انہیں 14 اگست 1988ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا تھا۔انتقال سے ایک سال قبل انہوں نے خواجہ معین الدین کے کھیل”تعلیم بالغاں“ کو بہروز ہنر واری،محمد قوی خان،شہزاد رضا اور دیگر فنکاروں کے ساتھ لاہور میں الحمرا کے سٹیج پر بھی پیش کیا تھا۔تھیٹر پر انہوں نے”تعلیم بالغاں“ کے ساتھ ساتھ”لال قلعے سے لالو کھیت“اور”وادی کشمیر“ جیسے ڈرامے بھی کئے۔

پی ٹی وی پر زیادہ کام کراچی مرکز سے ہی کیا۔
اگر پی ٹی وی لاہور سے محمد قوی خان نے سب سے زیادہ ڈرامے کئے ہیں تو پی ٹی وی کراچی مرکز میں یہ اعزاز قاضی واجد کے پاس تھا۔ مکالموں کی برجستگی انہیں ہم عصروں سے ممتاز بناتی تھی۔انہوں نے اگرچہ ٹی وی پر بہت زیادہ کام کیا اور آخری دم تک کام کرتے رہے لیکن ریڈیو کو اپنا پہلا پیار قرار دیا کرتے تھے اس لئے اداکار کے ساتھ ساتھ خود کو صداکار کہلوانا بھی پسند کرتے تھے۔

انہوں نے دس سے زائد فلموں میں بھی اداکاری کی لیکن اس دور میں چونکہ فلمیں لاہور میں بنتی تھیں جبکہ وہ کراچی ریڈیو سے منسلک تھے اس لئے زیادہ فلمیں نہ کر سکے۔ویسے بھی فلم ان کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی تھی اس لئے جلد کنارہ کشی اختیار کر لی لیکن تھیٹر سے تعلق وقت کے ساتھ مضبوط ہوتا چلا گیا۔
سکرین پر قہقہے بکھیرنے والے قاضی واجد عملی زندگی میں نہایت سنجیدہ انسان تھے،وہ خود تسلیم کیا کرتے تھے کہ وہ حقیقی زندگی میں بہت سنجیدہ قسم کے انسان ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مزاحیہ فلمیں دیکھتے تھے نہ کوئی مزاح والی کتاب پڑھتے تھے بلکہ سنجیدہ موضوعات پر کتابیں انہیں پسند تھیں۔

قاضی واجد 11 فروری 2018ء کو دل کا دورہ پڑنے سے کراچی میں انتقال کر گئے تھے۔

Your Thoughts and Comments