نازیہ حسن پوپ موسیقی کی پاکستانی شہزادی

21 برس بعد بھی ان کی دلکش آواز کا سحر طاری ہے

جمعہ 13 اگست 2021

Nazia Hassan - Pop Mosiqui Ki Pakistani Shehzadi
وقار اشرف
افسانوی شہرت کی حامل مقبول ترین پاپ گلوکارہ نازیہ حسن کو مداحوں سے بچھڑے 21 برس بیت گئے مگر ان کے گانے انہیں مداحوں کے دلوں میں زندہ رکھے ہوئے ہیں،انہیں بجا طور پر برصغیر میں پاپ موسیقی کی بانی اور پاکستان میں پاپ موسیقی کی شہزادی کہا جاتا ہے،انہوں نے لاکھوں دلوں پر راج کیا،ان کے گیتوں کی مقبولیت آج بھی برقرار ہے۔

3 اپریل 1965ء کو کراچی میں پیدا ہونے والی نازیہ حسن کا پہلا البم ”ڈسکو دیوانے“ 1981ء میں ریلیز ہوا جس نے ہر طرف دھوم مچا دی اور ان کی شہرت آسمان کو چھونے لگی۔”ٹائم“ میگزین نے انہیں اس وقت کی پچاس بااثر شخصیات کی فہرست میں شامل کیا تھا جنہوں نے پاک و ہند کی نوجوان نسل کے مزاج پر گہرا اثر ڈالا۔

(جاری ہے)


انتہائی پڑھی لکھی،سنجیدہ،دلکش نازیہ حسن پیدا تو کراچی میں ہوئیں تاہم پلی بڑھی لندن میں تھیں لیکن ان کا کراچی آنا جانا لگا رہتا تھا،دس سال کی عمر میں نازیہ حسن نے موسیقار سہیل رعنا کے پی ٹی وی سے نشر ہونے والے پروگرام ”کلیوں کی مالا“ میں شرکت کی جس میں انہوں نے اپنا پہلا گانا ”دوستی ایسا ناتا“ بھی گایا تھا۔

لندن میں سکول کے پروگراموں میں بھی گاتی رہیں،70ء کی دہائی کے آخر میں ان کی شہرت لندن بھر میں پھیل چکی تھی جس پر معروف موسیقار بڈو نے ان سے رابطہ کیا اور یوں پہلا البم ”ڈسکو دیوانے“ لندن میں ریکارڈ ہوا جس نے آدھے ایشیا کو اپنے سحر میں جکڑ لیا کیونکہ اس میں انگریزی،اُردو،ہندی،کلاسک،ڈسکو اور پاپ سب کی جھلک تھی،انہی دنوں معروف بھارتی اداکار و ہدایت کار فیروز خان ایک فلم ”قربانی“ بنا رہے تھے جس کے لئے انہیں ایسی الگ آواز کی تلاش تھی جو صرف نازیہ حسن کی تھی،اس طرح فلم ”قربانی“ میں ان کا مقبول گیت ”آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے تو بات بن جائے“ شامل ہو گیا،اس وقت نازیہ حسن کی عمر صرف پندرہ سال تھی،یہی گانا فلم کے ہٹ ہونے کا باعث بھی بنا اور یوں ان پر شہرت کی دیوی اور بھی مہربان ہو گئی۔

”آپ جیسا کوئی“ پر انہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا،وہ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی تھیں۔بھائی زوہیب حسن کے ساتھ مل کر نازیہ حسن نے 1982ء میں بوم بوم،1986ء میں ینگ ترنگ،1987ء میں ہاٹ لائن اور 1992ء میں کیمرا کیمرا البم ریلیز کئے۔
نازیہ حسن ابھی لندن میں ہی تھیں کہ پاکستان میں بھی گلی گلی ان کے گانے چل رہے تھے ،عوام کی جانب سے فرمائش پر ٹی وی اور ریڈیو ان کے گانے چلا رہا تھا۔

ان کے گانے پاکستان اور انڈیا ہی نہیں امریکہ،برطانیہ اور روس کے میوزک چارٹس پر بھی سرفہرست رہے۔80ء کی دہائی کے اوائل میں جب ہر طرف نازیہ حسن کے گانے ”ڈسکو دیوانے“ کی گونج تھی اور دھڑا دھڑ ان کی کیسٹیں فروخت ہو رہی تھیں،ریڈیو اور ٹی وی ان کے گانے چلا رہے تھے کہ اچانک میڈیا نے ان کا ”بلیک آؤٹ“ کر دیا۔صدر جنرل ضیاء الحق سے ملاقات کے کچھ عرصہ بعد ان پر سے پابندی اٹھا دی گئی جس کے بعد بے نظیر بھٹو کے دور میں شعیب منصور کا شو ”میوزک 89“ پی ٹی وی پر پیش کیا گیا جس کی میزبانی نازیہ حسن اور زوہیب حسن نے کی،اس کے بعد پی ٹی وی کا موسیقی کا کوئی پروگرام ان کے بغیر مکمل نہیں ہوتا تھا۔

نازیہ حسن اور زوہیب حسن کا شو ماضی کے شوز سے مختلف تھا جس میں وائٹل سائنز اور دیگر پاپ سنگرز نے بھی پرفارم کیا اور نازیہ و زوہیب حسن نے بھی گانے گائے۔ میوزک کے ساتھ ساتھ نازیہ حسن کو 1991ء میں اقوام متحدہ نے ثقافتی سفیر بھی مقرر کیا۔
زوہیب حسن نے ان کی وفات کے بعد ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ چونکہ ہم گاتے تھے اس لئے کچھ لوگوں کا ہتک آمیز رویہ بھی سامنے آتا تھا مگر نازیہ چونکہ مجھ سے بڑی تھیں اور بلا کی خود اعتماد تھیں اس لئے وہ اس کے خلاف میری ڈھال بن جاتیں۔

میں نازیہ کی بیماری کے ایام کبھی نہیں بھول سکتا،دو سال تک ان کے ساتھ ہسپتال میں رہا،میں نے سب کچھ چھوڑ دیا تھا،وہ میری آنکھوں کے سامنے کمزور سے کمزور تر ہوتی گئیں اور پھر سب کو چھوڑ گئیں۔
نازیہ حسن اور زوہیب حسن نے برصغیر میں نوجوان نسل پر گہرا اثر ڈالا اور لاکھوں دلوں کی دھڑکن بنی رہیں۔1995ء میں نازیہ حسن کراچی کے ایک صنعت کار اشتیاق بیگ کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھیں مگر یہ شادی زیادہ کامیاب ثابت نہ ہوئی۔

نازیہ حسن کو پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی اور 1997ء میں ہی ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا،انہوں نے کینسر کے خلاف جنگ بہادری سے لڑی۔35 برس کی عمر میں پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہو کر 13 اگست 2000ء کو وہ اس دار فانی سے رخصت ہو گئیں لیکن ان کی سریلی آواز اور مسکراتا چہرہ پرستاروں میں آج بھی مقبول ہے،انہیں 2002ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے بعد از وفات پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا تھا۔

مزید موسیقی - میوزک کے مضامین :

Your Thoughts and Comments