استاد نصرت فتح علی خان دنیائے موسیقی کا قیمتی سرمایہ

گیت،غزل،قوالی،کلاسیکل اور نیم کلاسیکل پر انہیں مکمل عبور حاصل تھا

پیر 16 اگست 2021

Ustad Nusrat Fateh Ali Khan
وقار اشرف
شہنشاہ قوالی استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 24 برس بیت چکے ہیں مگر ان کی گائی ہوئی قوالیاں اور گیت انہیں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے جدید مغربی اور مشرقی کلاسیکی موسیقی کے ملاپ سے ایک نیا رنگ پیدا کیا اور نئی نسل میں کافی مقبولیت حاصل کی۔ استاد نصرت فتح علی خان کا اصل نام پرویز تھا۔ان کے والد اُستاد فتح علی خان اور تایا استاد مبارک علی خان بھی اپنے وقت کے مشہور قوال اور موسیقی کے استاد تھے۔

نصرت کی چار بڑی بہنیں اور ایک چھوٹے بھائی فرخ فتح علی خان تھے۔تقسیم سے پہلے یہ خاندان جالندھر کے علاقے بستی شیخ میں رہائش پذیر تھا بعد ازاں فیصل آباد میں سکونت پذیر ہوا۔13 اکتوبر 1948ء کو فیصل آباد میں پیدا ہونے والے نصرت فتح علی خان واحد پاکستانی فنکار تھے جنہوں نے قلیل مدت میں شہرت کے بین الاقوامی ریکارڈ قائم کئے۔

(جاری ہے)

نصرت فتح علی خان سولہ برس کے تھے جب 1964ء میں ان کے والد کا انتقال ہوا اور انہوں نے اپنے والد کے چہلم پر پہلی مرتبہ پبلک میں سولو پرفارمنس دی۔

استاد مبارک علی خان کی وفات کے بعد قوال گروپ کا نام ”نصرت فتح علی خان‘مجاہد مبارک علی خان اینڈ پارٹی“ تجویز کیا گیا،انہوں نے سب سے پہلے ریڈیو پاکستان لاہور کے بہار فیسٹیول ”جشن بہاراں“ میں مختلف زبانوں میں کلام پیش کیا۔
نصرت فتح علی خان نے اپنی تمام عمر قوالی کا فن سیکھنے اور مشرق و مغرب میں اسے مقبول عام بنانے میں صرف کر دی۔

ان کے چوبیس گھنٹے موسیقی میں ہی گزرتے تھے،ساری ساری رات دھنیں کمپوز کرتے رہتے اور کب صبح ہو جاتی یہ یاد نہیں رہتا تھا۔وہ ایک معصوم شخصیت کے مالک تھے۔انہوں نے قوالی کے ذریعے صوفیائے کرام کا پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا اور ان کے فیض سے خود انہیں بے پناہ شہرت نصیب ہوئی۔انہوں نے اردو،پنجابی اور فارسی زبان میں قوالیاں اور غزلیں گائیں جنہیں بے حد سراہا گیا۔

ملی نغمے بھی گائے جن میں ”میرا پیغام پاکستان“ سب سے زیادہ مقبول ہے اور ہر سال 14 اگست کے موقع پر فضاؤں میں گونجتا ہے۔انہوں نے متعدد قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز بھی حاصل کیے۔کئی بھارتی فلموں میں بھی آواز کا جادو جگایا بالخصوص بالی ووڈ کی مشہور فلم دھڑکن کا گانا ”دولہے کا سہرا سہانا لگتا ہے“ کو بے حد پذیرائی ملی تھی۔ان کی کئی قوالیوں اور گیتوں کو پاکستان و بھارت کے گلوکاروں نے اپنے اپنے انداز میں گایا ہے۔


پاکستان میں نصرت فتح علی خان کا پہلا تعارف اپنے خاندان کی روایتی رنگ میں گائی ہوئی قوالیوں سے ہوا۔مشہور قوالی ”علی مولا علی“ انہی دنوں کی یادگار ہے بعد میں انہوں نے لوک شاعری اور اپنے ہم عصر شعراء کا کلام بھی اپنے مخصوص انداز میں گا کر کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔اس دور میں ”سُن چرخے دی مٹھی مٹھی کوک ماہی مینوں یاد آوندا“ اور ”سانسوں کی مالا پہ “ نے عام طور پر قوالی سے لگاؤ نہ رکھنے والے طبقے کو بھی اپنی طرف راغب کیا اور یوں نصرت فتح علی خان کا حلقہ اثر وسیع تر ہو گیا۔

وہ صحیح معنوں میں شہرت کی بلندیوں پر اس وقت پہنچے جب پیٹر گیبریل کی موسیقی میں گائی گئی ان کی قوالی ”دم مست قلندر مست مست“ ریلیز ہوئی،اس مشہور قوالی سے پہلے وہ امریکہ میں بروکلین اکیڈمی آف میوزک کے نیکسٹ ویوو فیسٹیول میں بھی فن کا مظاہرہ کر چکے تھے لیکن ”دم مست قلندر مست مست“ کی ریلیز کے بعد انہیں یونیورسٹی آف واشنگٹن میں موسیقی کی تدریس کی دعوت دی گئی۔

انہیں پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازا گیا۔انہوں نے بالی ووڈ میں پھولن دیوی کی زندگی پر بننے والی متنازع فلم ”بینڈٹ کوئین“ کے لئے بھی موسیقی ترتیب دی تھی۔
بین الاقوامی سطح پر صحیح معنوں میں ان کا تخلیق کیا ہوا پہلا شاہکار 1995ء میں ریلیز ہونے والی فلم ”ڈیڈ میں واکنگ“ تھا جس کے بعد انہوں نے ہالی ووڈ کی ایک اور فلم ”دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ“ کی بھی موسیقی ترتیب دی،اس کے ساؤنڈ ٹریک میں نصرت فتح علی خان نے مغربی موسیقی اور قوالی کے فن کی جُڑٹ کی تھی۔

ساؤنڈ ٹریک میں انہوں نے راگ درباری الاپ کیا تھا۔انہوں نے صرف چند سالوں میں چالیس ممالک میں اپنے فن کا لوہا منوایا۔1985ء میں ورلڈ آف میوزک ”آرٹس اینڈ ڈانس“ کی دعوت پر لندن فیسٹیول میں پرفارم کیا۔1987ء میں انہوں نے جاپان فاؤنڈیشن کی دعوت پر وہاں پرفارم کیا۔اسی برس پیرس گئے اور پھر دوبارہ 1988ء میں بھی فرانس میں پرفارم کیا۔1989ء میں بروکلین اکیڈمی آف میوزک کی دعوت پر نیویارک میں فن کا مظاہرہ کیا۔

عالمی سطح پر جتنی شہرت انہیں ملی وہ شاید کسی اور پاکستانی موسیقار یا گلوکار کو نصیب نہیں ہوئی۔
بطور قوال ان کے 125 آڈیو البم ریلیز ہوئے جو ورلڈ ریکارڈ ہے جن میں دم مست قلندر مست مست،علی مولا علی،یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے، میرا پیا گھر آیا،اللہ ہو اللہ ہو،کنہا سوہنا تینوں رب نے بنایا سمیت کئی یادگار قوالیاں اور گیت شامل ہیں۔بالی ووڈ کی کئی فلموں کی موسیقی ترتیب دینے کے ساتھ ساتھ اپنی آواز کا جادو بھی جگایا جس میں ”اور پیار ہو گیا“،”کچے دھاگے“اور”کارتوس“شامل ہیں۔

انہیں گیت،غزل، قوالی،کلاسیکل اور نیم کلاسیکل پر مکمل عبور حاصل تھا،انہوں نے اپنے فن کو اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بنایا اور دنیا بھر میں بے شمار غیر مسلموں کو مسلمان بھی کیا،وہ حقیقی معنوں میں پاکستان کے سفیر تھے کہ جہاں لفظ ”پاکستان“ سے لوگ ناواقف تھے وہاں پاکستان کو ایک عظیم ملک کے طور پر متعارف کرایا۔یہ نامور گلوکار و موسیقار جگر اور گردوں کے عارضے کے باعث 16 اگست 1997ء کو دنیائے موسیقی کو سوگوار کر گئے تھے۔

مزید موسیقی - میوزک کے مضامین :

Your Thoughts and Comments