مینا شوری

سہراب مودی نے خورشید جہاں سے ”مینا“ کا فلمی نام دیا

جمعہ 3 ستمبر 2021

Meena Shorey
وقار اشرف
”لارا لپا گرم“ کے نام سے مشہور اداکارہ مینا شوری کو مداحوں سے بچھڑے 34 برس بیت چکے ہیں مگر ان کی اداکاری کو فلم بین نہیں بھولے۔ وہ 3 ستمبر 1987ء کو کینسر کے باعث راہی ملک عدم ہو گئی تھیں۔انہوں نے ہندی،اُردو اور پنجابی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جس پر انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے پاکستان کی 98 فلموں میں کام کیا جن میں 59 اردو اور 39 پنجابی تھیں۔

وہ اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کی فلموں میں یکساں مہارت سے کام کرتی تھیں۔انہوں نے ہیروئن،سائیڈ ہیروئن اور ویمپ کے کردار یکساں مہارت سے ادا کیے،کچھ فلموں میں ماں کے کردار بھی کئے۔
1922ء کو رائے ونڈ میں پیدا ہونے والی مینا شوری کا اصل نام خورشید جہاں تھا،کچھ عرصے بعد ان کا خاندان کولکتہ چلا گیا جہاں سے ممبئی آیا اور وہاں سکونت اختیار کی ،ممبئی میں ہی وہ مشہور فلم ساز،اداکار و ہدایت کار سہراب مودی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں جو اس وقت فلم ”سکندر“ بنا رہے تھے۔

(جاری ہے)

اس فلم میں پری چہرہ نسیم،جو دلیپ کمار مرحوم کی اہلیہ سائرہ بانو کی والدہ تھیں،پرتھوی راج کے بالمقابل ہیروئن کا کردار ادا کر رہی تھیں لیکن کسی وجہ سے انہوں نے فلم چھوڑ دی اور یوں مینا شوری کو اس فلم میں موقع مل گیا،انہوں نے فلم میں مہاراجہ پورس کے بیٹے راج کمار امر کی محبوبہ کا کردار کیا،سہراب مودی نے ہی انہیں خورشید جہاں سے ”مینا“ کا نیا فلمی نام دیا۔

تقسیم ہند کے بعد وہ بمبئی ہی میں رہیں۔ان کی قابل ذکر بھارتی فلموں میں چمن،مداری،زیورات،انمول رتن،کالے بادل،دُکھیاری ،راج رانی،ایک تھی لڑکی،شری متی 420،آگ کا دریا،پتھروں کے سوداگر،ڈھولک،ایک دو تین اور فلمستان لمیٹڈ کے تحت بننے والی فلم ”ایکٹریس“ شامل تھیں۔
1949ء میں روپ کے شوری کی فلم ”ایک تھی لڑکی“ میں مینا شوری ہیروئن اور موتی لال ہیرو تھے،اس فلم کا ایک کورس بے حد مشہور ہوا”لارا لپا لارا لپا لائی رکھدا“ جسے لتا منگیشکر اور دیگر ساتھی گلوکاراؤں نے گایا تھا،مینا شوری نے کمال مہارت سے یہ کورس عکس بند کروایا جس کے بعد مینا شوری کو ”لارا لپا گرل “ کا خطاب دیا گیا تھا۔

مینا شوری نے پرتھوی راج اور موتی لال جیسے اداکاروں کے ساتھ کام کیا،موتی لال کے ساتھ انہوں نے ایک اور فلم ”ایک دو تین“ میں بھی کام کیا تھا،وہ بھارتی فلمی صنعت کی سب سے خوش لباس ہیروئن تھیں اور جدید موسیقی میں بھی بہت دلچسپی لیتی تھیں۔
مینا شوری نے پانچ شادیاں کیں۔پہلی شادی معروف فلم ساز روپ کے شوری،دوسری ظہور راجہ،تیسری علی ناصر،چوتھی رضا میر اور پانچویں اسد بخاری سے کی تھی۔

روپ کے شوری سے شادی کے بعد وہ مینا شوری بن گئیں اور مذہب بھی تبدیل کر لیا تھا۔1956ء میں ایور ریڈی پکچرز کے جے سی آنند نے روپ کے شوری سے ایک فلم ”مِس 56“ بنانے کا معاہدہ کیا اور اس میں یہ بھی طے پایا تھا کہ ٹائٹل رول ان کی بیوی مینا شوری کریں گی،کراچی میں قیام کے دوران ہی مینا شوری نے ہدایت کار انور کمال پاشا کے ساتھ فلم ”سرفروش“ میں اہم کردار کرنے کا معاہدہ کیا جو سپر ہٹ فلم ثابت ہوئی۔

فلم ”سرفروش“ میں صبیحہ اور سنتوش کے ساتھ مینا شوری کی اداکاری کو بھی پسند کیا گیا،ان پر زبیدہ خانم کا گایا ہوا گیت”تیری اُلفت میں صنم دل نے بہت درد سہے“ بہت مقبول ہوا تھا جس کی فلم بندی کے دوران انہوں نے چہرے کے تاثرات سے بھرپور کام لیا۔
کراچی میں ہی ایک اداکار انور اے جہانگیر جو ”غلط فہمی“ اور ”چن وے“ کے ہیرو تھے سے ان کی دوستی ہو گئی جس پر مینا شوری نے شوہر کے ساتھ بھارت جانے سے انکار کر دیا بعد ازاں مینا نے جہانگیر کی مدد سے ایک معروف عالم دین کے سامنے اسلام قبول کیا۔


مینا شوری کی قابل ذکر فلموں میں سرفروش،مِس 56 ،جگا،جمالو،بڑا آدمی،ستاروں کی دنیا،گل فروش،بچہ جمہورا،بہروپیا،آخری نشان، گلشن،تین اور تین،پھول اور کانٹے،موسیقار، خاموش رہو،مہمان،مجاہد ،ترانہ،الزام،ناجو،اک سی ماں،امام دین گوہاویہ شامل ہیں۔
بھارت کے معروف فنکار موتی لال نے ایک مرتبہ مینا شوری کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نہایت باصلاحیت اداکارہ ہیں،ان کے ساتھ کام کرکے انہوں نے بہت طمانیت محسوس کی،انہیں ہندوستان واپس آجانا چاہیے تھا،اگر وہ واپس آجاتیں تو سب سے زیادہ معاوضہ حاصل کرنے والی اداکارہ ہوتیں۔

مینا شوری آخری عمر میں مالی تنگدستی کا شکار رہیں کیونکہ فلمی صنعت نے بھی انہیں فراموش کر دیا تھا،انہیں آخری بار سرکاری ٹی وی کے پروگرام ”سلور جوبلی“ میں دیکھا گیا تھا۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments