موسیقار وزیر افضل

ایک عہد تھا جو گزر گیا

منگل 21 ستمبر 2021

Musician Wazir Afzal
وقار اشرف
نامور میوزک ڈائریکٹر وزیر افضل کے انتقال سے پاکستانی موسیقی کا ایک عہد تمام ہو گیا۔وہ خواجہ خورشید انور کے شاگرد تھے اور برسوں ان کے ساتھ معاونت کرتے رہے۔حکومت پاکستان نے ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں 14 اگست 2010ء کو انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا تھا۔وزیر افضل کی عمر 87 سال تھی،ان کی نماز جنازہ مسجد شاہ خراساں سمن آباد میں ادا کی گئی جس کے بعد انہیں لاہور کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

وہ طویل عرصے سے بیمار تھے،انہیں گردوں کا عارضہ لاحق تھا اور شوگر کے بھی مریض تھے جس کی پیچیدگیوں کے باعث ایک ہفتہ قبل انہیں شیخ زید ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔ان کی نماز جنازہ میں موسیقار اکبر عباس،قادر شگن، خاور عباس،معین بٹ اور بیلا ناصر سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور عزیز و اقارب نے شرکت کی۔

(جاری ہے)


4 جون 1934ء کو پٹیالہ ہندوستان میں پیدا ہونے والے وزیر علی تقسیم کے بعد لاہور آگئے۔کراچی میں ریڈیو سٹیشن کے قیام کے ساتھ ہی وہاں کچھ سازندوں کی بھرتی کا اشتہار نکلا تو یہ وہاں چلے گئے اور سرود بجانے میں مہارت کی وجہ سے وہاں ملازم ہو گئے لیکن تنخواہ کم تھی جس کے باعث ایک سال کے بعد واپس لاہور آگئے۔
برصغیر پاک و ہند میں موسیقاروں کی جوڑیوں کا ایک دور میں بہت رواج تھا۔

وزیر افضل بھی دو موسیقاروں کی ایک جوڑی تھی جو وزیر علی اور ان کے بھتیجے محمد افضل پر مشتمل تھی۔1968ء میں یہ جوڑی ٹوٹ گئی تو وزیر علی نے وزیر افضل کے نام سے ہی کام جاری رکھا اور ڈیڑھ درجن سے زائد فلموں کی موسیقی ترتیب دی جن میں کئی سپر ہٹ گیت بھی شامل تھے۔
وزیر علی جب ریڈیو پاکستان کراچی میں سرود بجاتے تھے تو موسیقار ماسٹر غلام حیدر نے انہیں مینڈولین بجانے کا مشورہ دیا جس پر انہوں نے عمل کیا اور اس ساز کو بجانے میں وہ ایسے ماہر ہوئے کہ فلم ”قاتل“ (1955) میں گلوکارہ کوثر پروین کے گائے اور طفیل ہوشیار پوری کے لکھے ہوئے مشہور زمانہ گیت ”او مینا نجانے کیا ہو گیا“ میں موسیقار ماسٹر عنایت حسین کی معاونت کی بعد میں وہ موسیقار خواجہ خورشید انور کی شاگردی میں چلے گئے اور ایک مستند موسیقار ہونے کے باوجود کئی سال تک ان کے سازندے کے طور پر کام کرتے رہے تھے۔


وزیر افضل نے پاکستانی فلم انڈسٹری کو کئی لازوال گیت دیئے۔انہوں نے پاکستان کی 73 گانوں کی موسیقی ترتیب دی۔ان کے مشہور گانوں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں سیو نی میرے دل دا جانی،سیاں جی کا کہنا میں مانوں کہ ٹالوں،سات سُروں کا بہتا دریا،تو قرار میرا یا میرے جانیا،جا آج تو میں تیری تو میرا،چھاپ تلک سب چھین لی،یہ رنگینی نو بہار اللہ اللہ،میرا لونگ گواچا،شکوہ نہ کر گلہ نہ کر اور کہندے نے نیناں جیسے شہرہ آفاق گیت شامل ہیں۔

ملکہ ترنم نور جہاں نے ان کے بے شمار نغمے گائے جبکہ مسعود رانا،مہدی حسن اور ترنم ناز نے بھی ان کے ترتیب دیئے ہوئے سُروں پر اپنی آواز کا جادو جگایا۔
میوزک ڈائریکٹر کے طور پر ان کی پہلی فلم ”چاچا خواہ مخواہ“ 1963ء میں ریلیز ہوئی جسے اسلم ایرانی نے پروڈیوس کیا تھا،اس فلم کے لئے انہوں نے 3 گانے کمپوز کیے تھے۔اسلم ایرانی کے فلمساز ادارے کی اپنے مستقل موسیقار بابا جی اے چشتی سے کسی بات پر اَن بن ہو گئی تو وزیر افضل کو چار گیتوں کی دُھنیں بھی ترتیب دینے کا موقع مل گیا۔

ان کا پہلا گیت ”ایتھے وگدے نیں راوی تے چناں بیلیا“ کافی مقبول ہوا تھا جسے عنایت حسین بھٹی اور منیر حسین نے گایا تھا،سدھیر اور مظہر شاہ پر فلمایا گیا تھا۔جب اداکار علاوٴ الدین نے فلمیں بنانا شروع کیں تو انہوں نے وزیر افضل کو موسیقار رکھ لیا۔وزیر افضل کی دوسری فلم ”زمین “ 1965ء میں ریلیز ہوئی جس میں نغمہ نگار مشیر کاظمی کے لکھے ہوئے متعدد گیت بہت مقبول ہوئے جن میں مہدی حسن کا ”شکوہ نہ کر گلہ نہ کر یہ دنیا ہے پیارے یہاں غم کے مارے تڑپتے رہے“ سپر ہٹ ہوا تھا۔

آئرن پروین اور نذیر بیگم کا کورس گیت ”رُت ساون کی رے من بھاون کی تورے نیناں کیوں شرمائے رے“ اور سائیں اختر کی دھمال ”تیری شان ہے شان قلندری تو بڑا غریب نواز ہے اللہ ہو “بھی بہت مقبول ہوئی تھی۔وزیر افضل کی تیسری فلم ”دل دا جانی“ (1967ء) ان کے کیریئر کی سب سے بڑی فلم ثابت ہوئی جس کے کئی گیت بہت مقبول ہوئے جن میں حزیں قادری کا لکھا ہوا ”سیو نی میرے دل دا جانی“ بھی شامل تھا جسے ملکہ ترنم نور جہاں نے شاہکار بنا دیا تھا۔

اسی فلم میں وزیر افضل نے پہلی بار مسعود رانا سے ایک دو گانا ”ہتھ لا کے خالی گھڑیاں نوں سمجھاناں پے گیا چھڑیاں نوں“ گوایا تھا گیت کا آخری انترہ شوکت علی کی آواز میں تھا جو رنگیلا پر فلمایا گیا تھا۔
فلم ”دل دا جانی “ (1967ء کے گیتوں نے وزیر افضل کو عروج پر پہنچایا۔1968ء ان کے فلمی کیریئر کے عروج کا سال تھا جب ان کی سب سے زیادہ یعنی دس فلمیں ریلیز ہوئیں۔

وزیر افضل نے صرف پانچ اردو فلموں کی موسیقی دی جن میں سے ایک فلم ”فرسٹ ٹائم “ ریلیز ہی نہ ہو سکی تھی۔1974ء میں وزیر افضل کی ایک ہی فلم ”یار مستانے“ ریلیز ہوئی جو ایک کامیاب فلم تھی اس میں بھی ملکہ ترنم نور جہاں کے دو گیت سپر ہٹ ہوئے جن میں ایک ”وے تو قرار میرا پیار میرے ہانیاں میں تینوں ایویں تے نئیں کول پئی بٹھانی آں“ جبکہ دوسرا”جا اج تو میں تیری تو میرا سجناں وے“ تھا۔وزیر افضل کے زیادہ تر گانے ملکہ ترنم نور جہاں نے گائے جنہوں نے ان کی ترتیب دی گئی 104 دھنوں پر گانے گائے۔وہ 1987ء تک فلموں کی موسیقی ترتیب دیتے رہے۔بعد ازاں ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی میں بھی کام کیا۔

مزید موسیقی - میوزک کے مضامین :

Your Thoughts and Comments