سلونی

انہیں فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا

جمعہ 15 اکتوبر 2021

Saloni
وقار اشرف
پاکستانی فلموں کی ماضی کی معروف اداکارہ سلونی کو مداحوں سے بچھڑے 11 برس بیت گئے مگر فلم بین انہیں اب بھی یاد رکھے ہوئے ہیں۔ وہ 15 اکتوبر 2010ء کو 60 سال کی عمر میں وفات پا گئی تھیں اور لاہور میں گلبرگ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔1943ء کو راولپنڈی میں پیدا ہونے والی سلونی کا حقیقی نام زہرہ نازنین تھا لیکن فلموں میں سلونی کے نام سے شناخت بنائی اور یہی فلمی نام ان کی پہچان رہا۔


سلونی کو بطور اداکارہ پاکستانی فلموں میں متعارف کروانے کا سہر افضل احمد کریم فضلی کے سر ہے جنہوں نے اپنی فلم ”مسٹر بدھو“ میں انہیں سب سے پہلے سائیڈ رول کے لئے منتخب کیا تھا یہ فلم بعد ازاں ”ایسا بھی ہوتا ہے“ کے نام سے سینماؤں میں نمائش پذیر ہوئی تاہم اس فلم کی ریلیز سے قبل ہی 27 نومبر 1964ء کو سلونی کی ایک اور فلم ”غدار“ نمائش پذیر ہو گئی ہوں ”غدار“ سلونی کی پہلی فلم قرار پائی۔

(جاری ہے)

ایک زمانہ تھا کہ انہیں فلموں کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا،وہ ایک ورسٹائل اداکارہ تھیں۔
سلونی نے اپنے فلمی کیریئر کے دوران مجموعی طور پر 67 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں 36 اُردو اور 31 پنجابی فلمیں شامل تھیں۔ان کی مقبول ترین فلموں میں کھوٹا پیسا،عادل،باغی سردار،حاتم طائی،درندہ،چن مکھناں،دل دا جانی،لُٹ دا مال،بالم،چھین لے آزادی،ظالم،شہنشاہ جہانگیر،سجن پیارا اور پھنے خان شامل ہیں۔سلونی کی آخری فلم پنجابی زبان میں بنائی جانے والی ”امیر تے غریب“ تھی جو 21 اپریل 1978ء کو نمائش کے لئے پیش کی گئی۔سلونی نے فلم ساز،ہدایت کار اور باری اسٹوڈیو کے مالک باری ملک سے شادی کی تھی۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments