عبدالحئی سے ساحر لدھیانوی تک

ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں

پیر 25 اکتوبر 2021

Abdul Hayee Se Sahir Ludhianvi Tak
وقار اشرف
لاتعداد شاہکار نغموں کے خالق ساحر لدھیانوی کو مداحوں سے بچھڑے 41 برس بیت گئے مگر ان کی شاعری آج بھی انہیں زندہ رکھے ہوئے ہے۔فیض احمد فیض کی طرح ساحر لدھیانوی نے بھی 1940ء 1950ء اور 1960ء کی دہائیوں میں نوجوانوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔انہوں نے لاتعداد غزلیں اور فلمی گیت لکھے،استحصال زدہ طبقے سے ہمدردی نے انہیں اشتراکیت کا ہمنوا بنایا،ناانصافیوں اور ناہمواریوں نے ان کے سیاسی و سماجی شعور کو پختگی بخشی،انہوں نے رومانوی گانوں میں بھی اپنے اردگرد پھیلے دُکھوں اور تکلیفوں کی عکاسی کرنے کی کوشش کی۔

یہ لازوال شاعر 25 اکتوبر 1980ء کو راہی ملک عدم ہو گئے تھے۔
8 مارچ 1921ء کو متحدہ پنجاب کے شہر لدھیانہ میں پیدا ہونے والے ساحر لدھیانوی کا اصل نام عبدالحئی تھا لیکن ساحر لدھیانوی کے نام سے شہرت حاصل کی۔

(جاری ہے)

1943ء میں وہ لاہور آ بسے اور 1945ء میں پہلا شعری مجموعہ ”تلخیاں“ مکمل کیا لیکن 1949ء میں لاہور سے دہلی منتقل ہو گئے،ان کی پہلی فلم ”آزادی کی راہ“ تھی لیکن انہیں اصل شہرت موسیقار ایس ڈی برمن کے ساتھ 1950ء میں بننے والی فلم ”نوجوان“ میں ان کے لکھے ہوئے نغموں سے ملی۔

ایس ڈی برمن اور ساحر لدھیانوی کی جوڑی نے یکے بعد دیگرے کئی فلموں میں ایک ساتھ کام کیا جو آج بھی یادگار ہیں جن میں بازی،جال، ٹیکسی ڈرائیور،ہاؤس نمبر 44،منیم جی اور پیاسا شامل ہیں۔ساحر لدھیانوی نے اس وقت کے دوسرے صف اول کے موسیقاروں کے ساتھ بھی کام کیا۔
ساحر لدھیانوی نے زندگی بھر شادی نہیں کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ کچھ لڑکیاں مجھ تک دیر سے پہنچی اور کچھ لڑکیوں تک میں دیر سے پہنچا۔

امرتا پریتم نے انہیں ٹوٹ کر چاہا مگر ساحر انہیں نہیں مل سکا بلکہ وہ کسی کو بھی نہیں ملا۔ساحر لدھیانوی نے کبھی لفظوں میں امرتا پریتم کے لئے عشق کا اظہار نہیں کیا تھا مگر اُن کی شاعری امرتا پریتم کے گرد گھومتی ہے،امرتا کی حالت یہ تھی کہ وہ ساحر کے پیئے ہوئے سگریٹ کے ٹکڑوں کو جمع کرکے خود پیتی تھیں،امرتا نے اپنے جذبات کا اظہار اپنی سوانح حیات ”رسیدی ٹکٹ“ میں بھی برملا کیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ گرودت کی ”پیاسا“ اوریش راج کی ”کبھی کبھی“ کی کہانی ساحر کی اپنی زندگی سے ماخوذ تھی۔ساحر نے فنی زندگی میں دو بار فلم فیئر ایوارڈ جیتے جس میں پہلا 1964ء میں فلم ”تاج محل“ کے گیت ”جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا“ اور دوسرا ”کبھی کبھی“ کی شاعری پر 1977ء میں اپنے نام کیا۔
ان کے لکھے ہوئے مقبول گیتوں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں ملتی ہے زندگی میں محبت کبھی کبھی،نیلے گگن کے تلے،چھو لینے دو نازک ہونٹوں کو،میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی،میں جب بھی اکیلی ہوتی ہوں،دامن میں داغ لگا بیٹھے،ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں،میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا،کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے،میں پل دو پل کا شاعر ہوں،گاتا جائے بنجارا اور رات بھی ہے کچھ بھیگی بھیگی جیسے مقبول گیت شامل ہیں۔


مزید موسیقی - میوزک کے مضامین :

Your Thoughts and Comments