اسپاٹ فکسنگ سکینڈل، پی سی بی کی جانب سے نامزد ٹریبونل اراکین کا تفتیش کاحصہ بننے ..

اسپاٹ فکسنگ سکینڈل، پی سی بی کی جانب سے نامزد ٹریبونل اراکین کا تفتیش کاحصہ بننے پر رضامند

پیر مارچ 8:38 pm
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مارچ2017ء) سپاٹ فکسنگ کی تحقیقات کیلئے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے بنائے گئے ٹریبونل کے اراکین نے تفتیش کا حصہ بننے کیلئے رضامندی ظاہر کردی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے جسٹس ریٹائرڈ اصغر حیدر کی زیر سربراہی ایک ٹریبونل قائم کیا تھا جس میں سابق چیئرمین پی سی بی لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ توقیر ضیا اور سابق ٹیسٹ کرکٹر وسیم باری بھی شامل ہیں۔

ٹریبونل کے اراکین کو تعیناتی کا اعلامیہ گزشتہ ہفتے اس وقت ارسال کیے گئے تھے جب خالد لطیف اور شرجیل خان نے پی سی بی کو مطلع کیا تھا کہ وہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔ 17 مارچ کو ٹریبونل کے اراکین نے تفتیشی عمل کا حصہ بننے کیلئے رضامندی ظاہر کر دی تھی جس کے بعد اب تریبونل کارروائی کا آغاز کرے گا۔ اگر کھلاڑی اپنے اوپر لگے الزامات کا اقرار کر لیتے تو یہ معاملہ پی سی بی کی ڈسپلنری کمیٹی کے چیئرمین کے پاس چلا جاتا جو پھر کھلاڑی کو سزائیں سنانے کا حق رکھتے تھے۔

تاہم طے شدہ طریقہ کار کے تحت پی سی بی اور کھلاڑیوں دونوں کو ابتدائی سماعت کیلئے نوٹس جاری کیے جائیں گے جہاں مستقبل کے لائحہ عمل کے ساتھ ساتھ اگلی سماعت کی تاریخ کا بھی اعلان کیا جائے گا۔ ابتدائی سماعت کے دوران ہی پی سی بی اور کھلاڑیوں سے مشاورت کے بعد ٹریبونل پی سی بی کو دونوں کھلاڑیوں کے خلاف موجود الزامات بمعہ ثبوت پیش کرنے کا حکم دے گا جس کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو ایک مقررہ تاریخ پر ان ثبوتوں کی روشنی میں الزامات جا جواب دینے کی ہدایت کی جائے گی۔

کھلاڑیوں کی جانب سے جواب جمع کرانے پر مقدمے کے فیصلے کی حتمی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے پہلے ہی میچ کے بعد اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل نے سر اٹھایا تھا جس کے بعد پی سی بی نے کرپشن میں ملوث ہونے پر 10 فروری کو شرجیل خان اور خالد لطیف کو فوری طور پر معطل کردیا تھا۔