آئٹم سانگ،،،،،اب نہیں گاؤں گی

سُروں کی ملکہ شریا گھوشال کہتی ہیں میری گائے ہوئے گانے 16 سال سے کم عمر بچے بھی سنتے ہیں اس لئے میری ذمہ داری ہے کہ میں ان بیہودہ گانوں کو اپنی آواز نہ دوں
ہما میر حسن:

شریا گھوشال کی آواز کا ترنم ،،،،ایک حسین سحر ہے جو سننے والوں کے دلوں میں اترتا ہے وہ ایک دلفریب آواز کی حامل گائیکہ ہیں بالی ووڈ کی بہت ساری آوازوں میں اپنی منفرد پہچان بنانے والی اس خوبرواور کم عمر گلوکارہ نے بہت کم عرصے میں بالی ووڈ کی کہکشاں میں اپنی جگہ بنائی ہے 2002 میں فلم”دیوداس“سے چاہتوں کا سلسلہ شروع کرنے والی پلے بیک سنگر شریا نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا بنگالی گجراتی،مراٹھی تامل اور ٹیلگو زبان میں گانوں گاکر انہوں نے ہر دل کا مسحور کای ،کانوں میں رس گھولتی شریا کی مدھر آواز سننے والوں کو مدہوش کردیتی ہے بلاک باسٹر فلم”عاشقی ٹو“ کی کامیابی کا سہرا بھی اس سریلی ملکہ کے سر سجتا ہے گزشتہ کئی سال سے بالی ووڈ کی تقریباً ہر فلم میں ان کی آواز گونجتی ہے لاتعداد بالی ووڈ فلموں میں گنگنانے والی شریا کئی ایوارڈ اپنی گیلری میں سجائے بیٹھی ہیں خوبصورت چہرہ میٹھی آواز کی مالک شریا 12مارچ1984 کو بنگالی ہندو فیملی کے ہاں پیدا ہوئیں شریا کے والد بشو جیت گھوشال الیکڑیکل انجینئر جبکہ والدہ ہاؤس وائف تھیں شریا نے چار سال کی عمر میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ موسیقی کی تربیت لینا شروع کردی تھی یہی وجہ ہے کہ وہ سکول میں ہونے والے تمام میوزک مقابلوں کو فتح کرتی ہوئی موسیقی کے مشہور ریالٹی شو ”سارے گاماپا“میں جا پہنچی جب سولہ برس کی شریا گوشال نے اپنی پختہ گائیکی کی بدولت شو میں کامیابی حاصل کی تو بالی ووڈ فلمساز سنجے لیلا بھنسالی نے انہیں بالی ووڈ میں متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا ان کا کہنا تھا کہ شریا کی آواز بہت معصوم ہے اور مجھے فلم دیوداس کی ہیروئن ایشوریا رائے کے لیے ایسی ہی آواز کی تلاش تھی 2002 میں شریا نے بالی ووڈ کی تاریخ کی بلاک باسٹر فلم ”دیوداس“کے گیت گاکر سب کو اپنی آواز کے سحر میں مبتلا کردیا شریا بتاتی ہے مجھے یاد ہے کہ دیوداس کے گیتوں کی ریکارڈنگ کے دوران میٹرک کے امتحانات میرے سر پر تھے میں اپنی کتابیں اورنوٹس لے کر ریکارڈنگ پر جایا کرتی تھی تاکہ بریک ٹائم میں کچھ پڑھ سکوں شریا میں مذکورہ فلم میں پانچ گیت ڈھولا رے،بیری پیا بڑا بے دردی،سلسلہ یہ چاہت کا،مورے پیا اور چھلک چھلک جیسے بڑے گیت بڑی مہارت گائے جنہوں نے شریا پر کامیابی کے دروازے کھول دیے ان گیتوں پر شریا کو بہترین پلے بیک سنگر کے متعدد اعزازات سے نوازا گیا فلمی ناقدین کہتے ہیں کہ شریا پہلی خاتون پلے بیک سنگر ہے جو اپنی پہلی کی فلم کی بدولت راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئی شریا کو برطانیہ کے اعلیٰ ثقافتی اعزاز سے بھی نوازا جاچکا ہے جبکہ فوبز میگزین نے انہیں پانچ مرتبہ سپر سٹارز کی فہرست میں شمار کیا ہے شریا واحد انڈین سنگر ہے جن کو مومی مجسمہ لندن کے مشہور مادام تسواؤ میوزیم کی زینت بنا شریا نے تقریبا دس برس دوستی کے بعد 2015 میں اپنے بچپن کے دوست شلد تھیا سے شادی کرلی شریا کہتی ہے میں خوش نصیب ہوں کیرئیر کے ساتھ ساتھ میری نجی زندگی بھی شاندار ہے۔

جو بھی گایا‘ہٹ ہوگیا: شریا کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے جو بھی گیت گایا وہ ہٹ ہوتا گیا شریا نے اپنے کیرئیر میں بے شمار گیت گائے جنہوں نے فلموں کی شہرت اور کامیابی میں اہم کردار ادا کیاجن میں ،دل کھول گیا،تیری میری کہانی،زوبی ڈوبی،بیری پیا،نور خدا،مست مست دو نین،میں اگر کہوں،سن رہا ہے نہ تو،میں دیوانی ہوگئی،اگر تم مل جاؤ،تجھ میں رب دکھتا ہے،جینے لگا ہوں،سانس میں میری،پیا اورے پیا،عاشق بنایا آپ نے جیسے کئی گیت شامل ہے۔شریا کو فلم ”دیوداس“میں اپنے گائے ہوئے گانے بہت پسند ہے وہ کہتی ہے میں نے شاید اس سے بہتر گانے ابھی تک نہیں گائے یہ ایک حسین اتفاق تھامجھے ان گیتوں کے لیے منتخب کیا گیا آج بھی ایسے گیتوں کی تلاش میں ہوں مجھے بالی ووڈ کے تمام گیت اب بہت پسند ہے تاہم میراآل فیورٹ گانا لگ جا گلے ہے۔بقول شریا میری والدہ ہی میری پہلی استاد ہے انہوں نے میوزک اور گلوکاری کے شوق کر پڑوان چڑھانے میں میری بہت مدد کی وہ صبح سویرے سکول جانے سے قبل میرے ساتھ تان پورہ لے کر بیٹھ جاتیں اور میں گایا کرتی تھیں میری کامیابیاں انہی کی بدولت ہے پہلے میں ریاض میں بہت محنت کرتی تھی اور موسیقی کا سلیقہ سمجھتی تھی تاہم اب پہلے جیسی روٹین نہیں رہی جب ہر کوئی شریا کی آواز سننا چاہتا ہے تو فلمسازوں نے انہیں آئٹم سانگ گانے کے لیے بھی اکسایا تاہم جلد ہی شریاکو محسوس ہوا کہ آئٹم سانگ گلوکاری کا حصہ نہیں شریا کے مطابق چکنی چنبیلی جیسا گانا ان کے لئے ایک میوزیکل تجربہ تھا جو پھوہرپن کی آخری حد پر تھا اس نغمے کے دو مصرعوں پر انہیں اعتراض تھا اور فلم کے پروڈیوسر کرن جوہر نے بھی ان سے اتفاق کیا اور پھرانہیں گانے سے خارج کردیا شریا کا کہنا تھا کہ ہر چیز کی ایک حد اور معیار ہوتا ہے چنبیلی کے بعد بھی مجھے اسی طرح کے کئی گانے ملے جن کے الفاظ سنتے ہی مجھے لگا کہ میں یہ نہیں گا پاؤں گی اور اس لیے میں نے بہت سے نغموں کو ٹھکرا دیا میرا خیال ہے کہ ہماراملک ابھی بھی ترقی کررہا ہے اور خواتین سے منسلک بہت سے مسائل ہے میرے گائے ہوئے گانے 16 سال سے کم عمر بچے بھی سنتے ہیں اگر ایسے گانوں کو میں نے آواز دی تو وہ بھی یہ نغمے گائیں گے کہیں نہ کہیں یہ بچوں کے ذہن میں نقش ہوجائے گا بطور فنکارہ یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں ایسے بیہودہ گانوں سے دور رہوں یا درہے کہ شریا نے اپنے کیرئیر میں صرف دو ایسے گانے ایک چکنی چنبیلی اور دوسرا فلم ڈرٹی پکچر کا گیت اولالا او لالا گایا ہے جن کو وہ مزاحیہ گیت سمجھتی ہیں،شریا مانتی ہیں کہ انکساری ان کا زیور ہے وہ خود کو سپر سٹار مانتیں گھریلو امور میں وہ اپنی والدہ کا ہاتھ بٹاتی ہے اور فارغ اوقات میں کوکنگ کرتی ہے شریا کہتی ہے ماں باپ کا میری زندگی پر گہر ااثرہے میری حوصلہ افزائی کے لیے ہرٹور اور تقریب میں میرے والد میرے ساتھ ہوتے ہیں۔“

17 برس بیت گئے،،،

شریا کو سر بکھیرتے ہوئے سترہ برس ہوگئے ہیں اور وہ لگاتار کامیابیاں حاصل کررہے ہیں شریا کہتی ہے سنجے لیلا بھنسالی نے مجھ پر اعتبار کیا میری کامیابیوں کا سہرا بھی انہی کے سر ہے میں نے اپنے کیرئیر میں ہر طرح کے اورمختلف زبانوں میں گیت گائے ہیں جنہیں عوام نے بھرپور پذیرائی دی ہے،،میں نے اس طویل عرصے میں متعدد بار ٹور کئے لیکن میں سمجھتی ہوں کہ امریکہ اور کینیڈا کا ٹور میرے کیرئیر کا سنگ میل ہے میں اپنے ٹور کے دوران اپنے معروف گانوں کے علاوہ بالی ووڈ کے ممتاز گلوکاروں لتامنگیشکر،آشا بھوسلے،عدنان موہن،آرڈی بورمنجی،لکشمی کانت پیارے لال کے گانے لگا کر انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہوں شریا نئے گلوکاروں کے بارے میں کہتی ہے پہلے صرف چند ہی گلوکار فلم انڈسٹری پر راج کرتے تھے اور نئے آنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی پہلے ماحول کچھ اور تھا صرف دو یا تین گلوکاروں کو ہی گانے کی اجازت ملتی تھی آج غیر تربیت یافتہ گلوکار بھی اپنی آواز آزماتے ہیں اور انڈسٹری کا حصہ بن جاتے ہیں لیکن اچھی آواز ہی قائم رہتی ہے شاید آج میں اپنے کیرئیر کے عروج پر ہوں لیکن کل کا پتا نہیں شاید آگے جاکر مجھ سے بہتر گلوکار آجائیں اور میرے گانے پسند نہ کیے جائیں آج کا بچے بہت ہوشیار اور چالاک ہوگئے ہیں جب ہم کسی ریالٹی شو میں جاتے تھے تو کیمرے کے سامنے نروس ہوجاتے تھے آج کے بچوں کا سب پتا ہے انہوں نے سب دیکھ لیا ہے بالی ووڈ کے بارے میں شریا کہتی ہے کہ آج فلم میکر اپنی فلم کو ہر طرح سے ایک مکمل تصویر کی صورت میں دیکھنا چاہتا ہے گیت بالی ووڈ کی فلموں کا لازمی حصہ ہوتے ہیں اس لئے ان پر کچھ زیادہ توجہ دی جاتی ہے پاکستان سے بھی کچھ آوازیں بالی ووڈ کا حصہ بنی ہے جو ایک خو ش آئندہ بات ہے ،بالی ووڈ کے گیتوں پر تو دوسرے ملکوں کے لوگ بھی جھومتے اور گاتے ہیں اب بالی ووڈ بجائے خود ایک کتھا ہے جو بہت شوق سے دیکھی اور سنی جارہی ہے۔“