کشور کمار مدھو بالا سے شادی کیلئے عبداللہ بن گیا

پہلے سے آخری گیت تک نئی نسل میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑے ملکہ حُسن نے مُسلمان ہونے کی شرط رکھی تھی



 محمد سلیم کے کے محمد ،رفیع‘طلعت محمود ‘مکیش ‘مناڈے‘ہیمنت کمار اور مہندر کپور ہندوستانی فلمی موسیقی کے لازوال نام ہیں جنہیں سامعین اور موسیقی کے دلدادہ کل بھی سرا ہتے تھے اور آج بھی پسند کرتے ہیں ۔ایسی ہی مدھر آوازوں میں ایک ناقابل فراموش نام آنجہانی کشور کمار کا بھی ہے جو نہ صرف ہر طرز اور ہرانداز میں گا لیتے تھے بلکہ فلم کے دیگر کئی شعبوں پر بھی انہیں دسترس وعبور حاصل تھا ۔وہ ہمارے پاکستانی ملٹی ٹیلنٹڈ فنکار رنگیلا مرحوم کی طرح بیک وقت کا میڈین اداکار ‘ہدایت کار‘فلمساز‘مصنف‘نغمہ نگار‘موسیقار اور گلوکار بھی تھے۔

کشور کمار 14اگست 1929ء کو بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر کھنڈوہ کے گنگولی خاندان میں پیدا ہوئے۔یہ ایک مشہور فلمی گھر انہ تھا،کشور کمار ماضی کے نامور اداکار (دادا منی)اشوک کمار کے چھوٹے بھائی تھے،اشوک کمار چونکہ اپنے زمانے کے منجھے ہوئے معروف اداکار و گلوکار تھے اس لئے کشور کو بھی فطری طور پر بچپن ہی سے اداکاری وگلوکاری کا شوق تھا ۔وہ سکول میں اکثر ڈراموں میں اداکاری کرتے رہتے ،پھر کالج لائف میں ان کا یہ شوق جنون اختیار کر گیا تو وہ پڑھائی چھوڑ کر فن کے میدان میں کود پڑے۔

وہ سکول وکالج کے دور میں بھی ہر وقت نا چتے گاتے اور ایکٹنگ کرتے رہتے تھے اور پھر ان کے بڑے بھائی اشوک کمار بھی اس وقت کے مایہ ناز ہیر وتصور کئے جاتے تھے اس لئے کشور کو شوبز کی دنیا میں وارد ہوتے وقت کوئی وقت ومشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور اپنی پہلی ہی فلم ”چھم چھما چھم “میں کھل کر اداکاری کرکے اچھی مقبولیت حاصل کر لی۔پھر A.V.Mکی فلم ”لڑکی پک پاکٹ “اور ”پٹھان “میں اس قدر اعلیٰ پر فارمنس دی کہ اپنے پرستاروں کی اچھی خاصی تعداد بنالی،اس کے بعد کشور دانے کئی ایک فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں تماشہ ‘باپ رے باپ ‘ادھیکار ‘پہلی جھلک‘بھاگم بھاگ‘نئی دہلی‘پیسہ ہی پیسہ‘پڑوسن،چلتی کا نام گاڑی‘میم صاحب ‘بھائی بھائی ‘مسٹرا یکس اِن بمبئے‘کنوارہ باپ اور دور کنگن کی چھاؤں میں خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔

کشور دانے بیشتر ذاتی فلمیں ڈائریکٹ اور پروڈیوس بھی کیں جو زیادہ تر طنز ومزاج سے بھر پور تھیں لیکن ان کی فلمیں مزاحیہ ،ہلکی پھلکی اوٹ پٹانگ غیر سنجیدہ اور عام ڈگر سے ہٹ کر ہوتی تھیں جو باکس آفس پر خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر پاتی تھیں جس سے کشور دا اکثر پریشان بھی رہا کرتے تھے۔1951ء میں کشور کمارنے بطور گلوکار ضدی اور بد تمیز میں اپنی آواز کا جادو جگایا تو اداکاری کے ساتھ ساتھ کشور کمار کی آواز اور انداز گلوکاری کو بھی فلم بینوں نے پسند کیا اور سراہا۔

یوں انڈین فلم انڈسٹری کو طلعت محمود ‘محمد رفیع اور مکیش کی ہم پلہ آواز مل گئی ،پھر دھیرے دھیرے کشور کمار اس میدان میں بھی اپنے فن کی دھاک بٹھاتے چلے گئے مگر کشور دا کی آواز صحیح معنوں میں کہنہ مشق موسیقار S.Dسچن دیو برمن اور ان کے بیٹے آر ڈی برمن کی کمپوزیشن نے اصل نکھار بخشا ۔فلم ”آرادھنا“کے گیت ”روپ تیرا مستانہ پیار میرا دیوانہ“اور فلم”نیا انداز“کے گیت ”زندگی اک سفر ہے سہانہ یہاں کل کیا ہو کس نے جانا “نے فلمی گیتوں کو ایک نیا انداز دیا۔

ان سُپرہٹ گیتوں نے کشور کمار کو بھی شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا،پھر بطور گلوکار کشور دا کی چلتی گاڑی کو ایسا گےئر لگا کہ ا س کی سپیڈ کبھی کم نہ ہوئی۔70ء سے80ء کی دہائی میں بالخصوص کشور کمار نے بہت ہی ہٹ اور سپرہٹ گانے گائے جن میں روپ تیرا مستانہ ‘زندگی اک سفر ہے سہانا ‘میرے محبوب قیامت ہو گی‘چلتے چلتے میرے یہ گیت یاد رکھنا ‘تیری دنیا سے ہو کے مجبور چلا‘اپنے جیون کی اُلجھن ،میرا جیون کورا کاغذ ،زندگی کا سفر ہے یہ کیسا سفر‘ہم متوالے نوجوان‘میرے نصیب میں اے دوست تیرا پیار نہیں ‘سما ہے سہانہ سہانہ ‘سمجھو تہ غموں سے کر لو‘ڈریم گرل کسی شاعر کی غزل ‘بھولے اور بھولے ‘یاد کرے گی دنیا تیرا میرا یارانہ ‘کھائیکے پان بنارس والا‘بچنا اے حسینوں اور ایسے ہی ان گنت مسحور کن اور سپرہٹ امر گیت گاکر کشور کمار نے خود کو بھی امر کر دیا۔

ان کی گائیکی کا انداز نیا،اچھوتا اور نرالا تھا اس لئے نئی نسل سے تعلق رکھنے والا ہر نوجوان ان کی آواز اور انداز کا متوالا تھا۔13اکتوبر 1987ء کو کشور کمار پر اچانک دل کا دورہ پڑا اور یہ ورسٹائل گلوکار و اداکار ممبئی کے ایک ہسپتال میں چل بسا لیکن ان کی شوخ وچنچل اور ورسٹائل آواز سامعین کی سماعتوں میں ہمیشہ رس گھولتی رہے گی۔کشور کمار بر صغیر کا پہلا پاپ اور ہلکے پھلکے طربیہ مزاحیہ گیت گانے والا سنگر تھا مگر اس نے جو بھی المیہ (ٹریجڈی)گیت گائے وہ بھی سوزو گداز کا عنصر اپنے اندر سوئے ہوئے ہیں ،جن گیتوں کو سن کر انسان اپنے سینے میں درد والم محسوس کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔

بطور گلوکار اس عظیم فنکار نے فلم کے ہر فورم پر دادو تحسین وصول کی اور ہر ایوارڈ وصول کرکے پوری دنیا میں اپنے فن کا لوہا منوایا ۔ان کے انداز گائیکی کو اس کے دور کے اور بعد میں آنے والے سنگرز نے بھی اپنا یا اور نام کمایا۔کشور کمار جب تک زندہ رہے ان کے فن گائیکی پر کبھی زوال نہیں آیا اور یہ ہمیشہ سدا بہار رہا اور اپنے فنی سفر کے آغاز سے انجام تک سُر سنگیت سے وابستہ رہا۔مزے کی بات یہ بھی رہی کہ ان کی گائیکی اور آواز کا سُر اور لّے عمر بھر قائم وبرقرار رہا جس پر بڑھتی ہوئی عمر اور بڑھاپا بھی اثر انداز نہ ہو سکا۔اپنی 40/35سالہ فنی زندگی میں تقریباً 30سے زائد اپنی فلموں میں اداکاری وہدایتکاری اور بحیثیت گلوکار کئی ہزار فلمی گیت گا کر دنیا بھر میں اپنا جدا گانہ مقام پیداکیا۔

انہیں شوخ وچنچل نغمات گانے میں ملکہ حاصل تھا ۔دوگانوں میں بھی ہر سینئر وجونےئر سنگرز کے سنگ سنگیت کا جادو جگایا۔لتا منگیشکر ‘آشا بھوسلے ‘گیتا دت ‘ شمشاد بیگم‘سُمن کلیا نپور اور محمد رفیع ‘مکیش ‘مہندر کپور ‘طلعت محمود ‘ایس پی بالا وغیرہ اور دیگر ہم عصروں اور کئی نئے گلوکاروں کے ہمراہ بھی اپنی آواز ملائی با لخصوص آشا بھوسلے کے ساتھ تو ان کے طربیہ گیت بہت پسند کئے گئے اور ہٹ ہوئے ۔اپنے پہلے گیت سے لے کر آخری گیت تک نئی نسل میں مقبول رہا اور بہت زیادہ سُپر ہٹ گیت ان کے حصے میں آئے حالانکہ کشور کمار نے باقاعدہ کسی استاد سے گانا نہیں سیکھا تھا مگر پھر بھی دُنیا کا بڑ ا گلوکار بنا۔کشور کمار نے چار شا دیاں یکے بعد دیگرے کیں مگر زیادہ تر ناکام رہیں ۔

ان کی پہلی شادی ان کی خاندانی بیوی راما دیوی سے ہوئی مگر کشور کمار کو اس دوران ملکہ حُسن مدھوبالا سے عشق ہو گیا جو خود دلیپ کمار کے عشق میں مبتلا تھیں ،انہیں دلیپ کمار نے ٹھکرایا تو وہ دل کی مریضہ ہو گئیں ۔کافی تگ ودو اور کوشش سے کشور کمار نے اس شرط پر مدھوبالا کو شادی پر راضی کر لیا کہ وہ اپنا مذہب اور ہندو بیوی راما دیوی کو چھوڑ کر مسلمان ہوجائیں گے۔خیر کشور کمار اپنا مذہب اور بیوی کو چھوڑ کر مسلمان ہو گیا اور اپنا اسلامی نام عبداللہ رکھ کر مدھو بالا سے شادی رچالی مگر مدھوبالا اپنے ٹوٹے دل کے ساتھ زیادہ عرصہ زندہ نہ رہ پائیں اور جلد اس جہان فانی اور کشور کو چھوڑ کر خالق حقیقی سے جاملیں ۔

کشورکمار جو غرضی طور پر عبداللہ (مسلمان )بنا تھا پھر سے کشور کمار بن کر مُرتد ہو گیا۔کاش یہ دین بر حق دین اسلام پر قائم رہتا تو اس جہان فانی کی طرح اگلے جہان میں بھی اس کا نام اور حصہ باقی رہتا۔مدھو بالا کی وفات کے بعد کشور کمار نے اداکارہ یوگیتا بالی سے شادی کرلی لیکن اس کے ساتھ بھی زیادہ عرصہ نبھانہ رکھ سکا پھر اسے بھی طلاق دے کر گلوکارہ لینا چند رور کر سے شادی کرلی شاید وہ اسے بھی طلاق دے دیتا مگر زندگی نے کشور کمار کو طلاق دے دی۔

کشور کمار کا ایک بیٹا امیت کمار جو اماد یوی سے ہے بھی اپنے باپ کی طرح گلوکار تو ہے مگر باپ کی مانند بڑا فنکار یا گلوکار نہیں ۔کشو ر کمار نے تما م بالی وُڈ میوزک ڈائریکٹر ز کی کمپوز یشنز میں خوبصورت گیت گائے اور تقریباً تمام سُپر سٹا ر کیلئے گایا بالخصوص ان کی آواز دیوآنند ‘راجیش کھنّہ اور امیتا بھ بچن پر بہت سوٹ کرتی تھی ۔المختصر یہ کہ کے ایل سہگل سے متاثر کشور دا جس نے فلم سنگیت اور فلم میکنگ کے دیگر شعبوں میں مرنے سے ایک روز قبل بھی گیت ریکارڈ کرا کے دنیا بھر میں خود کو منوا کر ثابت کیا کہ فن کسی کی میراث نہیں ہو تا، فن پر عبور اسے ہی حاصل ہوتا ہے جو فن سے محبت اور اپنے کام پر محنت کرتا ہے تو پھر عزت دولت شہرت اس کا مقدر بنتی ہے۔