”وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا“

اسے ریکھا کی بد قسمتی کہیں یا کچھ اور لیکن امیتابھ بچن کو ٹوٹ کر چاہنے کے باوجود وہ انہیں پانہ سکیں

حناجاوید

سانولے نین نقش اور قاتل اداؤں کی ما لک ریکھا کے نام سے مشہور ہونے والی بھنوریکھاکنیسن نے بالی ووڈ میں قدم رکھتے ہی اس زمانے کی دیگر خوبرو اداکاراوٴں کو مات دے دی۔ ان کا جادوہرکسی پر اساسر چڑ ھا کہ ہر کوئی ان کا دیوانہ ہو گیا۔ ریکھا کوخوبصورتی کی بنا پر ”بالی ووڈدویوا“ بھی کہا جاتا ہے۔ انھوں نے 10 اکتوبر 1954 کو تامل اداکار جیمن گنیسن اورٹیلگو اداکارہ پشپاولی کے ہاں آنکھ کھولی۔ ان کا تعلق بھارت کے جنوبی علاقے سے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بہت عرصے تک ریکھا کے باپ نے انھیں اپنا نام تک نہ دیا تھا۔ ان کی ایک سگی بہن اور چھے سوتیلے بہن بھائی ہیں۔ انھوں نے بھارتی سینما میں باپ کے نام کے بغیر خودکو ریکھا“ کے نام سے متعارف کروایا۔ چونکہ وہ ہندی زبان سے ناواقف تھیں اور بالی ووڈ کی خوبرو حسیناوٴں کی طرح بننا سنورنا نہیں جانتی تھیں اس لئے کیرئیر کے آغاز میں انھیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اکثر ڈائر یکٹرانھیں صرف بیباک کرداروں کیلئے فلموں میں لے لیتے۔ بالآخر 1980 کی دھائی میں ریکھا نے گھر ، مقدر کا سکندر، خوبصورت اور امراوٴ جان جیسی بلاک بسٹر فلموں میں منفرد کردار نبھا کر اپنے آپ کو ایک بڑی اداکارہ ثابت کر دیا۔ ان فلموں نے ان کی شخصیت کے کئی پہلو اجاگرکئے ، یہی وجہ ہے کہ ان کے پرستار آج بھی ان کی شخصیت کے سحرسے نہیں نکل پائے۔ ریکھا نے پانچ دہائیوں تک بالی ووڈ پر راج کیا اورکم و بیش 180 فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اپنی بہترین اداکاری کی بدولت وہ کئی بڑے ایوارڈز اپنے نام کروا چکی ہیں جبکہ 2010 میں انھیں بھارتی حکومت کی طرف سے پدم شری ایوارڈ سے بھی نوازا جاچکا ہے۔ ریکھا کا فلمی سفر ہمیشہ سے تنازعات کی زد میں رہا ،کبھی ان کی نجی زندگی پر سوالات اٹھائے گئے تو بھی ان کی شخصیت کے رنگ ڈھنگ پر نکتہ چینی کی گئی۔ ان کا میڈیا سے آنکھ مچولی کھینا ،لوگوں کے ہجوم سے بھاگنا۔ میڈیا نے بھی ان کی خاموشی کا بھر پور فائدہ اٹھایا اور جس پر ومن گھڑت کہانیاں آج تک لکھی جارہی ہیں۔

 ادا کار نہیں بننا چاہتی تھی... ریکھا 13 برس کی تھیں جب انھوں نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر بھارتی سینما کا رخ کیا۔ دراصل ریکھا کے گھر والے اپنی روز مرہ ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر تھے جس کی وجہ ان کے والد کا غیر ذمہ دارنہ ر ویہ تھا۔ یہ 1960 کی دھائی کا وسط تھا، جب بطور چائلڈ سٹار انھوں نے دو علاقائی فلموں سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا، جس سے بالی ووڈ کے دروازے ان پر ہمیشہ کے لئے کھل گئے۔ تا ہم 1969 میں ریکھا نے فلم " دوشکاری“ سے اپنے فلمی کیرئیر کا باقاعدہ آغاز کیا لیکن ریکھا کے چند بیباک مناظر کے باعث فلم کی ریلیز تاخیر کا شکار رہی ، چنانچہ 1970 میں ریلیز ہونے والی موہن سیگل کی فلم ” ساون بھاون“ ہی ان کے کیرئیر کی پہلی فلم مانی جاتی ہے۔جس میں ریکھا نے اداکار نوین نسکول کے مد مقابل مرکزی کردار نبھایا تھا۔ اس فلم کی کامیابی نے ریکھا کو لوگوں میں بے حد مقبول بنا دیا اور وہ اپنے سانولے رنگ وروپ کے باوجود بالی ووڈ کی خوبرو اداکاروں کو پچھاڑنے لگیں۔ چونکہ ہندی ان کی مادری زبان نہیں تھی اس لئے انھیں اپنے ساتھی اداکاروں کے ساتھ بات چیت میں کافی دشواری پیش آتی۔ ایک انٹرویو میں ریکھا کا کہنا تھا کہ وہ اداکارہ بنانے کی خواہش نہیں رکھتی تھیں، وہ تو ایک گھر بنانا چاہتی تھیں جس میں پیار کرنے والا شوہر اور بہت سارے بچے ہوں لیکن شایدقسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ 1980 کی دھائی ریکھا کے لئے شہرت کا سنہری ادور ثابت ہوئی۔ جہاں ایک طرف انھوں نے اپنے لباس انداز کی تبدیلی سے لوگوں کو اپنا دیوانہ بنا یاتو دوسری طرف ان کی فلمیں بھی بالی وڈ میں دھوم مچانے لگیں۔ گھر ،مقدر کا سکندر، خوبصورت، امراوٴ جان جیسی سپر ہٹ فلموں میں ریکھا نے اپنے آپ کو بالی ووڈ کی بہترین اداکارہ ثابت کردیا۔ ریکھا اور امیتابھ بچن کی جوڑی نے پردے پر ایسے جلوے بکھیر ے کہ وہ آج بھی بالی ووڈ فلموں کی حسین ترین اور پسندیدہ جوڑی مانی جاتی ہے۔ ریکھا نے امیتابھ کے ساتھ 12 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں سے بیشتر میں سپر ہٹ رہیں۔

 بالی ووڈ دیوا

 بالی ووڈ دیوا کہلائی جانے والی ریکھا آج بھی اپنے پہننے اوڑھنے کے منفرد انداز کی وجہ سے لوگوں کے دلوں پر راج کرتی ہیں۔ یہ تقریب میں خواہ کسی فلم کا پریمیئر ہو کوئی شادی ہو یا ایوارڈ شو ۔۔ہر کسی کی نگاہیں ریکھا کے روایتی ملبوسات اور زیورات پر ہی ہوتی ہیں۔ ایک وقت تھا جب انھوں

نے کم عمری میں فلم نگری میں قدم رکھا تو وہ ایک سادہ اور نا سمجھ لڑکی تصور کی جاتی تھیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی فلموں کی وجہ شہرت ان کی اداکاری نہیں بلکہ ان کا سانولا رنگ روپ ، بے باک شخصیت اور ایسے لباس کا انتخاب ہوتا جو بھارتی روایات کے بالکل برعکس تھالیکن اپنے ایک انٹرویو میں ریکھا نے اس کے بالکل برعکس بیان دیا ، انھوں نے بتایا' مجھے میرے کالے رنگ اور ساوٴتھ انڈین نین نقوش کی وجہ سے بالی ووڈ کی بدصورت بطخ“ کہا جاتا تھا۔ میرا موازنہ اس وقت کی بڑی ہیروئنوں سے کیا جاتا تھا اور مجھ پر جو تبصرے کئے جاتے تھے ، ان سے میرا دل بہت دکھتا تھا لیکن میں اپنے دکھ کو دل میں ہی چھپائے رکھتی تھی، البتہ میرا یہ عزم اندر ہی اندر اور بھی پختہ ہوتا جاتا تھا کہ ایک روز میں بھی بڑی ہیروئن کہلاوٴں گی۔ آخرکار 1980 کی دھائی میں ریکھا کی شخصیت میں ایک انقلابی تبدیلی دیکھی گئی۔ انھوں نے خود کو دوسری کامیاب ہیروئنوں کے مد مقابل لانے کے لئے نہ صرف اپنے میک اپ اور ملبوسات پر توجہ دی بلکہ وزن میں بھی واضح کمی لائیں جس کے لئے وہ ہر روز یوگا کیا کرتی تھیں بلکہ یوگا آج بھی ریکھا کے لائف سٹائل کا لازمی حصہ ہے۔ بہرحال ریکھا کی اس انتھک محنت نے انھیں بالی ووڈ میں اس قدر مقبول بنا دیا کہ ہر ڈائر یکٹران کے ساتھ کام کرنے کا خواہشمند نظر آتا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں پر ان کے سٹائل کا جادو ایسا چلا کہ وہ بالی ووڈ کی بالی ووڈ ویوا کہلائی جانے لگیں۔ ان کی قاتل اداؤں نے بالی ووڈ میں، بعد میں آنے والی ہیروئنوں کو بھی بے حد متاثر کیا۔ اکثر اداکارائیں تو ان کے سٹائل کی بڑی فخر سے نقل کرتی ہیں خاص طور پر شادی شدہ ہیروئنیں جن میں ودیا بالن سر فہرست ہیں، ودیا شادی کے بعد بھی ریکھا کے انداز میں ساڑھی پہننا، بال بنانا اور مانگ میں سندور لگانا نہیں بھولیں۔ بچن فیملی کی بہوں ایشوریا رائے نے بھی ایک ایوارڈ شو میں ریکھا کو اپنی ماں کہہ دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر و ہ کسی اداکارہ سے متاثر ہیں تو وہ ریکھا ہیں۔ اس شو میں ریکھا بھی موجودتھیں، جب ایشوریہ نے ان کے پاوٴں چھو کر ”آشروا د“لیاتو سب کی نظریں بچن فیملی کے بدلتے ہوئے تاثرات پر تھیں جن کے ریکھا کے ساتھ تعلقات ہمیشہ ہی پیچیدہ رہے ہیں۔

عشق ممنوع بھارتی سینما کی خوبرو اداکارہ ریکھا، جوکئی دہائیوں سے فلمی دنیا کا چمکتا دمکتا ستارہ ہیں اور جنھوں نے اپنی نشیلی آنکھوں کے سحر میں لاکھوں چاہنے والوں کو جکڑ رکھا ہے، ان کے دیوانے آج بھی ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بے تاب رہتے ہیں بلکہ ریکھا کا شمار ان اداکاراوٴں میں ہوتا ہے جنھیں ان کے ساتھی اداکار بھی نظر انداز نہیں کر سکتے اور اپنا دل ہار بیٹھتے ہیں۔ اپنے کیرئیر کے دوران ریکھا کا نام بھی کئی اداکاروں کے ساتھ جوڑا جا چکا ہے۔ 1973 میں اداکار ونود مہر کے ساتھ ریکھا کی بڑھتی قربتوں کو دیکھتے ہوئے لوگوں نے یہ تک کہنا شروع کر دیا تھا کہ دونوں نے خفیہ شادی کر رکھی ہے جبکہ ریکھا بارھا اس کی تردید کر چکی ہیں اور ونود مہر کوصرف اپنا خیر خواہ اور اچھا دوست مانتی ہیں، اسی طرح جب 1976 میں ریکھا کوفلم ”دو انجانے “میں امیتابھ بچن کے مد مقابل مرکزی کردار نبھاتے دیکھا گیا تو ان کی جوڑی کو لوگوں نے پردے پر تو سراہاہی لیکن نجی زندگی میں بھی انھیں ایک دوسرے کا ہمسفر تصور کر لیا۔ ویسے ریکھا امیتابھ کی شخصیت سے پہلی ملاقات میں ہی متاثر ہوگئی تھیں، جس کا وہ برملا اظہار بھی کرتی ہیں۔ بعد ازاں جب حقیقت میں ریکھا اور بالی ووڈ کے شہنشاہ امیتابھ بچن کے معاشقے کی خبریں گردش کرنے لگیں تو فلمی دنیا میں ریکھا کیا شہرت مزید بڑھ گئی۔ امیتابھ بچن نے فلمی اداکارہ جیا بہادری سے شادی تو اپنی مرضی سے کی لیکن ان کے عشقیہ قصے ریکھا کے ساتھ مشہور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امیتابھ بچن کے دل میں ریکھا کے لئے نرم گوشہ ضرور تھالیکن وہ اپنی خاندانی اقدار سے بغاوت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے شاید اسی لئے انھوں نے ریکھا کوبھی اپنایا ہی نہیں۔ بہرحال اسے ریکھا کی بد قسمتی کہیں گے یا کچھ اور کہ امیتابھ بچن کو ٹوٹ کر چاہنے کے باوجود ، ان کا عشق ممنوع ہی کہلایا۔ اس ادھور ے عشق کی ایک جھلک 1981 میں بننے والی امیتابھ ، ریکھا اور جیا بچن کی فلم ”سلسلہ میں بھی دیکھی جاسکتی ہے، جس میں امیتابھ اور جیانے میاں بیوی جبکہ ریکھا نے دوسری عورت کا کردار نبھایا ہے۔ شاید اس دور میں ایک سچی پریم کہانی کو اتنے بولڈ طریقے سے پردے منتقل کرنا فلم بینوں کو زیادہ بھایانہیں ۔تبھی فلم نے زیادہ بزنس نہیں کیا لیکن امیتابھ اور ریکھا کی پریم کہانی آج بھی زبان زد عام ہے۔ ریکھا آج بھی اپنے انٹرویوز میں ڈھکے چپھے لفظوں میں امیتابھ سے اپنی محبت کا اظہار کرتی رہتی ہیں لیکن پھر 1990 میں ریکھا نے دہلی کے مشہور صنعت کا مکیش اگروال سے شادی کر لی۔ جس کے بارے میں ریکھا کا کہنا تھا کہ یہ گھر والوں کی طرف سے ایک طے شدہ شادی تھی۔ ریکھا کی شادی کو ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ دونوں میں اختلافات پیدا ہوگئے اورمکیش اگروال نے ریکھا کے ہی دوپٹے کا پھندا بنا کر خودکشی کر لی۔ اگرچہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ریکھا ملک سے با ہر تھیں لیکن لوگ آج بھی ریکھا کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، حالانکہ مکیش نے ایک نوٹ میں بھی لکھا تھا کہ ان کی خودکشی کا ذمہ دارکسی کو نہ ٹھہرایا جائے۔ ریکھا کی عشق و محبت کے قصے سچ ہیں یا وہ ہمیشہ سے ہی پراسرار شخصیت کی مالک ہیں۔ یہ کوئی نہیں جانتا، البتہ ریکھا اپنی شخصیت کو اس شعر میں بیان کرتی ہیں:

‪حناجاوید

سانولے نین نقش اور قاتل اداؤں کی ما لک ریکھا کے نام سے مشہور ہونے والی بھنوریکھاکنیسن نے بالی ووڈ میں قدم رکھتے ہی اس زمانے کی دیگر خوبرو اداکاراوٴں کو مات دے دی۔ ان کا جادوہرکسی پر اساسر چڑ ھا کہ ہر کوئی ان کا دیوانہ ہو گیا۔ ریکھا کوخوبصورتی کی بنا پر ”بالی ووڈدویوا“ بھی کہا جاتا ہے۔ انھوں نے 10 اکتوبر 1954 کو تامل اداکار جیمن گنیسن اورٹیلگو اداکارہ پشپاولی کے ہاں آنکھ کھولی۔ ان کا تعلق بھارت کے جنوبی علاقے سے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بہت عرصے تک ریکھا کے باپ نے انھیں اپنا نام تک نہ دیا تھا۔ ان کی ایک سگی بہن اور چھے سوتیلے بہن بھائی ہیں۔ انھوں نے بھارتی سینما میں باپ کے نام کے بغیر خودکو ریکھا“ کے نام سے متعارف کروایا۔ چونکہ وہ ہندی زبان سے ناواقف تھیں اور بالی ووڈ کی خوبرو حسیناوٴں کی طرح بننا سنورنا نہیں جانتی تھیں اس لئے کیرئیر کے آغاز میں انھیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اکثر ڈائر یکٹرانھیں صرف بیباک کرداروں کیلئے فلموں میں لے لیتے۔ بالآخر 1980 کی دھائی میں ریکھا نے گھر ، مقدر کا سکندر، خوبصورت اور امراوٴ جان جیسی بلاک بسٹر فلموں میں منفرد کردار نبھا کر اپنے آپ کو ایک بڑی اداکارہ ثابت کر دیا۔ ان فلموں نے ان کی شخصیت کے کئی پہلو اجاگرکئے ، یہی وجہ ہے کہ ان کے پرستار آج بھی ان کی شخصیت کے سحرسے نہیں نکل پائے۔ ریکھا نے پانچ دہائیوں تک بالی ووڈ پر راج کیا اورکم و بیش 180 فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اپنی بہترین اداکاری کی بدولت وہ کئی بڑے ایوارڈز اپنے نام کروا چکی ہیں جبکہ 2010 میں انھیں بھارتی حکومت کی طرف سے پدم شری ایوارڈ سے بھی نوازا جاچکا ہے۔ ریکھا کا فلمی سفر ہمیشہ سے تنازعات کی زد میں رہا ،کبھی ان کی نجی زندگی پر سوالات اٹھائے گئے تو بھی ان کی شخصیت کے رنگ ڈھنگ پر نکتہ چینی کی گئی۔ ان کا میڈیا سے آنکھ مچولی کھینا ،لوگوں کے ہجوم سے بھاگنا۔ میڈیا نے بھی ان کی خاموشی کا بھر پور فائدہ اٹھایا اور جس پر ومن گھڑت کہانیاں آج تک لکھی جارہی ہیں۔

 ادا کار نہیں بننا چاہتی تھی... ریکھا 13 برس کی تھیں جب انھوں نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر بھارتی سینما کا رخ کیا۔ دراصل ریکھا کے گھر والے اپنی روز مرہ ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر تھے جس کی وجہ ان کے والد کا غیر ذمہ دارنہ ر ویہ تھا۔ یہ 1960 کی دھائی کا وسط تھا، جب بطور چائلڈ سٹار انھوں نے دو علاقائی فلموں سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا، جس سے بالی ووڈ کے دروازے ان پر ہمیشہ کے لئے کھل گئے۔ تا ہم 1969 میں ریکھا نے فلم " دوشکاری“ سے اپنے فلمی کیرئیر کا باقاعدہ آغاز کیا لیکن ریکھا کے چند بیباک مناظر کے باعث فلم کی ریلیز تاخیر کا شکار رہی ، چنانچہ 1970 میں ریلیز ہونے والی موہن سیگل کی فلم ” ساون بھاون“ ہی ان کے کیرئیر کی پہلی فلم مانی جاتی ہے۔جس میں ریکھا نے اداکار نوین نسکول کے مد مقابل مرکزی کردار نبھایا تھا۔ اس فلم کی کامیابی نے ریکھا کو لوگوں میں بے حد مقبول بنا دیا اور وہ اپنے سانولے رنگ وروپ کے باوجود بالی ووڈ کی خوبرو اداکاروں کو پچھاڑنے لگیں۔ چونکہ ہندی ان کی مادری زبان نہیں تھی اس لئے انھیں اپنے ساتھی اداکاروں کے ساتھ بات چیت میں کافی دشواری پیش آتی۔ ایک انٹرویو میں ریکھا کا کہنا تھا کہ وہ اداکارہ بنانے کی خواہش نہیں رکھتی تھیں، وہ تو ایک گھر بنانا چاہتی تھیں جس میں پیار کرنے والا شوہر اور بہت سارے بچے ہوں لیکن شایدقسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ 1980 کی دھائی ریکھا کے لئے شہرت کا سنہری ادور ثابت ہوئی۔ جہاں ایک طرف انھوں نے اپنے لباس انداز کی تبدیلی سے لوگوں کو اپنا دیوانہ بنا یاتو دوسری طرف ان کی فلمیں بھی بالی وڈ میں دھوم مچانے لگیں۔ گھر ،مقدر کا سکندر، خوبصورت، امراوٴ جان جیسی سپر ہٹ فلموں میں ریکھا نے اپنے آپ کو بالی ووڈ کی بہترین اداکارہ ثابت کردیا۔ ریکھا اور امیتابھ بچن کی جوڑی نے پردے پر ایسے جلوے بکھیر ے کہ وہ آج بھی بالی ووڈ فلموں کی حسین ترین اور پسندیدہ جوڑی مانی جاتی ہے۔ ریکھا نے امیتابھ کے ساتھ 12 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں سے بیشتر میں سپر ہٹ رہیں۔

 بالی ووڈ دیوا

 بالی ووڈ دیوا کہلائی جانے والی ریکھا آج بھی اپنے پہننے اوڑھنے کے منفرد انداز کی وجہ سے لوگوں کے دلوں پر راج کرتی ہیں۔ یہ تقریب میں خواہ کسی فلم کا پریمیئر ہو کوئی شادی ہو یا ایوارڈ شو ۔۔ہر کسی کی نگاہیں ریکھا کے روایتی ملبوسات اور زیورات پر ہی ہوتی ہیں۔ ایک وقت تھا جب انھوں

نے کم عمری میں فلم نگری میں قدم رکھا تو وہ ایک سادہ اور نا سمجھ لڑکی تصور کی جاتی تھیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی فلموں کی وجہ شہرت ان کی اداکاری نہیں بلکہ ان کا سانولا رنگ روپ ، بے باک شخصیت اور ایسے لباس کا انتخاب ہوتا جو بھارتی روایات کے بالکل برعکس تھالیکن اپنے ایک انٹرویو میں ریکھا نے اس کے بالکل برعکس بیان دیا ، انھوں نے بتایا' مجھے میرے کالے رنگ اور ساوٴتھ انڈین نین نقوش کی وجہ سے بالی ووڈ کی بدصورت بطخ“ کہا جاتا تھا۔ میرا موازنہ اس وقت کی بڑی ہیروئنوں سے کیا جاتا تھا اور مجھ پر جو تبصرے کئے جاتے تھے ، ان سے میرا دل بہت دکھتا تھا لیکن میں اپنے دکھ کو دل میں ہی چھپائے رکھتی تھی، البتہ میرا یہ عزم اندر ہی اندر اور بھی پختہ ہوتا جاتا تھا کہ ایک روز میں بھی بڑی ہیروئن کہلاوٴں گی۔ آخرکار 1980 کی دھائی میں ریکھا کی شخصیت میں ایک انقلابی تبدیلی دیکھی گئی۔ انھوں نے خود کو دوسری کامیاب ہیروئنوں کے مد مقابل لانے کے لئے نہ صرف اپنے میک اپ اور ملبوسات پر توجہ دی بلکہ وزن میں بھی واضح کمی لائیں جس کے لئے وہ ہر روز یوگا کیا کرتی تھیں بلکہ یوگا آج بھی ریکھا کے لائف سٹائل کا لازمی حصہ ہے۔ بہرحال ریکھا کی اس انتھک محنت نے انھیں بالی ووڈ میں اس قدر مقبول بنا دیا کہ ہر ڈائر یکٹران کے ساتھ کام کرنے کا خواہشمند نظر آتا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں پر ان کے سٹائل کا جادو ایسا چلا کہ وہ بالی ووڈ کی بالی ووڈ ویوا کہلائی جانے لگیں۔ ان کی قاتل اداؤں نے بالی ووڈ میں، بعد میں آنے والی ہیروئنوں کو بھی بے حد متاثر کیا۔ اکثر اداکارائیں تو ان کے سٹائل کی بڑی فخر سے نقل کرتی ہیں خاص طور پر شادی شدہ ہیروئنیں جن میں ودیا بالن سر فہرست ہیں، ودیا شادی کے بعد بھی ریکھا کے انداز میں ساڑھی پہننا، بال بنانا اور مانگ میں سندور لگانا نہیں بھولیں۔ بچن فیملی کی بہوں ایشوریا رائے نے بھی ایک ایوارڈ شو میں ریکھا کو اپنی ماں کہہ دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر و ہ کسی اداکارہ سے متاثر ہیں تو وہ ریکھا ہیں۔ اس شو میں ریکھا بھی موجودتھیں، جب ایشوریہ نے ان کے پاوٴں چھو کر ”آشروا د“لیاتو سب کی نظریں بچن فیملی کے بدلتے ہوئے تاثرات پر تھیں جن کے ریکھا کے ساتھ تعلقات ہمیشہ ہی پیچیدہ رہے ہیں۔

عشق ممنوع بھارتی سینما کی خوبرو اداکارہ ریکھا، جوکئی دہائیوں سے فلمی دنیا کا چمکتا دمکتا ستارہ ہیں اور جنھوں نے اپنی نشیلی آنکھوں کے سحر میں لاکھوں چاہنے والوں کو جکڑ رکھا ہے، ان کے دیوانے آج بھی ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بے تاب رہتے ہیں بلکہ ریکھا کا شمار ان اداکاراوٴں میں ہوتا ہے جنھیں ان کے ساتھی اداکار بھی نظر انداز نہیں کر سکتے اور اپنا دل ہار بیٹھتے ہیں۔ اپنے کیرئیر کے دوران ریکھا کا نام بھی کئی اداکاروں کے ساتھ جوڑا جا چکا ہے۔ 1973 میں اداکار ونود مہر کے ساتھ ریکھا کی بڑھتی قربتوں کو دیکھتے ہوئے لوگوں نے یہ تک کہنا شروع کر دیا تھا کہ دونوں نے خفیہ شادی کر رکھی ہے جبکہ ریکھا بارھا اس کی تردید کر چکی ہیں اور ونود مہر کوصرف اپنا خیر خواہ اور اچھا دوست مانتی ہیں، اسی طرح جب 1976 میں ریکھا کوفلم ”دو انجانے “میں امیتابھ بچن کے مد مقابل مرکزی کردار نبھاتے دیکھا گیا تو ان کی جوڑی کو لوگوں نے پردے پر تو سراہاہی لیکن نجی زندگی میں بھی انھیں ایک دوسرے کا ہمسفر تصور کر لیا۔ ویسے ریکھا امیتابھ کی شخصیت سے پہلی ملاقات میں ہی متاثر ہوگئی تھیں، جس کا وہ برملا اظہار بھی کرتی ہیں۔ بعد ازاں جب حقیقت میں ریکھا اور بالی ووڈ کے شہنشاہ امیتابھ بچن کے معاشقے کی خبریں گردش کرنے لگیں تو فلمی دنیا میں ریکھا کیا شہرت مزید بڑھ گئی۔ امیتابھ بچن نے فلمی اداکارہ جیا بہادری سے شادی تو اپنی مرضی سے کی لیکن ان کے عشقیہ قصے ریکھا کے ساتھ مشہور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امیتابھ بچن کے دل میں ریکھا کے لئے نرم گوشہ ضرور تھالیکن وہ اپنی خاندانی اقدار سے بغاوت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے شاید اسی لئے انھوں نے ریکھا کوبھی اپنایا ہی نہیں۔ بہرحال اسے ریکھا کی بد قسمتی کہیں گے یا کچھ اور کہ امیتابھ بچن کو ٹوٹ کر چاہنے کے باوجود ، ان کا عشق ممنوع ہی کہلایا۔ اس ادھور ے عشق کی ایک جھلک 1981 میں بننے والی امیتابھ ، ریکھا اور جیا بچن کی فلم ”سلسلہ میں بھی دیکھی جاسکتی ہے، جس میں امیتابھ اور جیانے میاں بیوی جبکہ ریکھا نے دوسری عورت کا کردار نبھایا ہے۔ شاید اس دور میں ایک سچی پریم کہانی کو اتنے بولڈ طریقے سے پردے منتقل کرنا فلم بینوں کو زیادہ بھایانہیں ۔تبھی فلم نے زیادہ بزنس نہیں کیا لیکن امیتابھ اور ریکھا کی پریم کہانی آج بھی زبان زد عام ہے۔ ریکھا آج بھی اپنے انٹرویوز میں ڈھکے چپھے لفظوں میں امیتابھ سے اپنی محبت کا اظہار کرتی رہتی ہیں لیکن پھر 1990 میں ریکھا نے دہلی کے مشہور صنعت کا مکیش اگروال سے شادی کر لی۔ جس کے بارے میں ریکھا کا کہنا تھا کہ یہ گھر والوں کی طرف سے ایک طے شدہ شادی تھی۔ ریکھا کی شادی کو ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ دونوں میں اختلافات پیدا ہوگئے اورمکیش اگروال نے ریکھا کے ہی دوپٹے کا پھندا بنا کر خودکشی کر لی۔ اگرچہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ریکھا ملک سے با ہر تھیں لیکن لوگ آج بھی ریکھا کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، حالانکہ مکیش نے ایک نوٹ میں بھی لکھا تھا کہ ان کی خودکشی کا ذمہ دارکسی کو نہ ٹھہرایا جائے۔ ریکھا کی عشق و محبت کے قصے سچ ہیں یا وہ ہمیشہ سے ہی پراسرار شخصیت کی مالک ہیں۔ یہ کوئی نہیں جانتا، البتہ ریکھا اپنی شخصیت کو اس شعر میں بیان کرتی ہیں:

اگر کسی کوچا ہو توچاہواتنا کہ     کسی اور چاہت کی چاہ ہی نہ رہے‪