باکس آفس کا بادشاہ۔۔ وِن ڈیزل

ہالی ووڈ اداکار اور پروڈیوسر ون ڈیزل کی فلمیں لگتے ہی دنیا بھر کے سینما ہاوٴس فل ہوجاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے مالی اثاثہ جات 160 ملین امریکی ڈالر تک جا پہنچے ہیں

ون ڈیزل کے نام سے مشہور ہونے والے مارک سنکلیئر امریکی اداکارڈائریکٹر، پروڈیوسر اور سکرین رائٹر ہیں۔ 1990 کی دہائی میں ہالی ووڈ میں فنی سفر کا آغاز کرنے والے ون ڈیزل نے 7 برس کی عمر میں بطورتھیٹر اداکار تخلیقی شعبے میں قدم رکھا، انہیں ابتدائی طور پر پردے پر کچھ خاص کامیابی ملی مگرون نے ہمت نہ ہاری اور اپنا سفر جاری رکھا جس میں کئی اتار چڑھاوٴ ان کے کیریر کا حصہ بنے اور بالآخر' دی فاسٹ اینڈ دی افیوئس سیریز، دی کرونیکلر آف ریڈک سیر یز پر بی ایس سیریز ان کی خاص وجہ شہرت بنیں۔ ہالی ووڈ میں ہی نہیں، دنیا کا بچہ بچہ آج ان سیریز کا دیوانہ نظر آتا ہے اورفلم آنے سے پہلے ہی دنیا بھر کے سینما ہاؤس فل ہوجاتے ہیں۔ ان کی مشہور زمانہ دیگر فلموں میں ملٹی فیشل، دی وچ ہنٹر، سیونگ پرائیویٹ ریان ، فائنڈ می گلٹی، دی پیسی فیئر ،اٹس2017سیکوئل اورپچ بلیک شامل ہیں۔ ون کو کامیاب فلموں کی بدولت کئی اہم اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ ون نے بطور اداکار، پروڈیوسر، رائٹر اور ڈائر یکٹر ہی شہرت نہیں پائی بلکہ ان کی بھاری بھرکم ، بارعب اور پر اثر آواز کا جادو بھی ان کے مداحوں کے سر چڑھ کر بولتا ہے ۔اس لئے انہوں نے کئی شارٹ فیچر اوراینیمیٹڈ کرداروں کو اپنی آواز دی جن میں دی آئرن جائیٹ ، ویل مین اور گارڈئنز آف دی گلیکسی والیوم ون ٹو شامل ہیں۔ ون دنیا کے امیر ترین اداکاروں میں سے ایک ہیں مئی 2017 تک ون ڈیزل کے کل مالی اثاثہ جات 160 ملین ڈالر تک جا پہنچے تھے، انہیں 2017 میں دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے اداکاروں میں شمار بھی کیا گیا۔ 2018 میں ون کا معاوضہ 75 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ون سالانہ تین ارب پچاس کروڑ امریکی ڈالر کماتے ہیں۔ وی فاسٹ اینڈ فیورث 7اب تک کی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی موویی سمجھی جاتی ہے جس نے 1 . 5 بلین امریکی ڈالر منافع کمایا۔ ون تن سازی کی بناپر بہترین باڈی بلڈرکی حیثیت سے بھی نمایاں پہچان رکھتے ہیں بلکہ بالی ووڈ میں آنے سے پہلے وہ نیو یارک کے ایک نائٹ کلب میں کام کرتے تھے جہاں وہ اپنے اونچے لمبے قد اور مردانہ وجاہت کی وجہ سے کئی مقابلوں میں کامیابی حاصل کرکے خواتین میں خاصے مقبول تھے۔ تن سازی کے علاوہ ون آج بھی دن میں چا سے آٹھ مرتبہ کھانا کھاتے ہیں، ان کی روزمرہ خوراک میں کاربوہائیڈریس پروٹین اور فائبر کی کثیر مقدار شامل ہے، اتنا ہی نہیں وہ اپنے جسم کو توانا رکھنے کے لئے دن میں کئی کئی لیٹر پانی پیتے ہیں۔ ان کے مداحوں کے لئے سب سے دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ان کے جسم پر جتنے بھی ٹیٹو نظر آتے ہیں ان میں سے ایک بھی حقیقی نہیں ہے۔ امریکی ماہر علم نجوم ڈلور اشرلن ونسنٹ کے ہاں آنکھ کھولنے والے ون ڈیزل 19 جولائی 1967 میں کیلیفورنیا میں پیدا ہوئے۔ ان کے ایک جڑواں بھائی پال بطورفلم ایڈ یٹر جانے جاتے ہیں اور ایک بہن سانتا ونسنٹ ہیں۔ ون کا کہنا ہے میں کبھی اپنے حقیقی باپ سے نہیں ملا لیکن میری ماں نے مجھے اتنا ہی بتایا ہے کہ میرا تعلق کئی مختلف ثقافتوں سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ون اپنے آپ کو رگوں کا دلدادا“ کہتے ہیں۔ بعدازاں امریکی قوانین کے مطابق ان کی ماں نے نیویارک سے تعلق رکھنے والے تھیٹر ہدایتکار اور مینجر ارونگ ایچ ونسنٹ سے شادی کی جنہوں نے ون کو اپنا نام دیا اور اپنے بیٹے کی طرح ان کی پرورش کی۔ اداکارکیسے بنا؟ ون اپنے ایک انٹرویو میں بتاتے ہیں میں سات برس کا تھا جب اپنے اسکول کے ایک دوست کے ساتھ چپکے چپکے تھیٹر اداکاروں کو ادا کاری کرتے دیکھا کرتا تھا ایک دن ہم دونوں تھیٹر کے قریب کھیل رہے تھے کہ تھیٹر سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی ہم دونوں پر نظر پڑی تو انہوں نے ہمارے پاس آ کر کہا کہ اگر میں تم دونوں کو 20، 20 ڈالر دوں تو کیا تم دونوں یہاں اداکاری کرو گے؟ تو میں نے جھٹ سے ہاں بول دی کیونکہ کسی بھی سات سالہ بچے کے لئے 20 ڈالر بہت بڑی رقم تھی۔ چنانچہ اس خاتون نے ہم سے وعدہ لیا کہ روزانہ سکول کے بعد ہم ریہرسل کے لئے تھیٹر جایا کریں گے۔ یوں میں نے پہلی مرتبہ بچوں کے ایک تھیٹر پلے میں اہم کردار ادا کیا جسے بے حد پذیرائی ملی۔ یوں ون بطور تھیٹر ادا کا مشہور ہونے لگے، ہائی سکول کی تعلیم مکمل کی تو نیو یارک کے ایک بڑے کالج میں میجر مضمون انگلش کے ساتھ داخلہ لے لیا مگر تین سال بعد ہی انہیں کالج سے نکال دیا گیا کیونکہ وہ پڑھائی سے زیادہ اداکاری میں دلچسپی رکھتے تھے اور ہالی ووڈ میں قسمت آزمانا چاہتے تھے اسی لئے ون نیو یارک چھوڑ کر ہالی ووڈ چلے گئے مگر تجربہ کار اور جانے مانے تھیٹر اداکار ہونے کے باوجود ایک سال تک موزوں کرداروں کی تلاش میں نا کا م ہوکر مایوسی کے عالم میں نیویارک واپس آگئے۔ اس وقت ان کی ماں نے انہیں فیچر المز ایٹ یوزڈ کار پرانسر نامی کتاب بطور تحفہ دی جس نے ون کی زندگی سے مایوسیوں کے اندھیرے دور کر کے امید کی ایک نئی کرن روشن کی۔ یہ کتاب پڑھنے کے بعد ون نے فیصلہ کیا کہ وہ خود میں بنا کر اپنا کیریئر بنائیں گے۔ انہوں نے ون ریس فلم کے نام سے اپنی پروڈکشن کمپنی بنائی اور بطور اداکار اپنی زندگی میں پیش آنے والی مشکلات اور تجربات کی روشنی میں ایک مختصر فلم ملٹی فیشل کی کہانی لکھی اورمحظ تین دن میں صرف تین ہزار ڈالر لاگت سے فلم مکمل کی جسے فلمی حلقوں میں بے پناہ پذیرائی ملی اور اسے 1995 میں کینز فلم فیسٹیول میں نمائش کے لئے پیش کیا گیا۔ اس غیر متوقع کامیابی کے بعد ون لاس اینجلس گئے اور ایک ٹیلی مارکیٹنگ ادارے میں نوکری کر کے 50 ہزار ڈالرقم جمع کی تا کہ اپنی پہلی فیچر فلم ٹر یز بناسکیں مسلسل چھ مہینے تک دن رات عکس بندی کے بعدپلم سنڈانس فلم فیسٹیول میں نمائش کے لئے پیش کی گئی مگر بدقسمتی سے اسے وہ پذیرائی اور کامیابی ملی جو اس سے پہل مختصر فلم کے حصے میں آئی تھی۔ بہرحال ون نے ایک مرتبہ پھر ہالی ووڈ میں آگے بڑھنے کا عزم لے کر سفر جاری رکھا۔ امریکی فلمسازسٹیون سپیل برگ چونکہ ملٹی فیشل کے ذریعے ون کی صلاحیتوں کو جان چکے تھے اس لئے ون کو سیونگ پرائیویٹ ریان میں ایک اہم کردار کی پیش کرنا چاہتے تھے جس کے بعد ان کے لئے ہالی ووڈ میں کامیابیوں کے نئے در کھل گئے۔ کہا جاتا ہے کہ ون نے ہالی ووڈ میں منفرد پہچان بنانے کے لئے اپنے سر کے بال منڈ والئے تاکہ فلمی حلقوں میں اپنی تن سازی اور وجیہ جسامت کی وجہ سے موضوع بحث بنے رہیں۔ گذشتہ برس وہ بالی ووڈ اداکارہ دپیکا پڈوکون کے مد مقابل فلم 'ریٹرن آف زینڈر کیش2017“ میں نظر آئے جس کے بعد ان کی شہرت ہالی ووڈ میں ہی نہیں بلکہ انڈیا اور پاکستان میں بھی دو چند ہوگئی، فلم میں ون اور دپیکا کے بیباک مناظر کی بنا پر امریکی اور بھارتی میڈیا میں پردے کے پیچھے ان کے معاشتے سے متعلق قیاس آرائیاں بھی منظر عام پر آئیں ،اسی دوران فلم کی تشہیر کے لئے ون انڈیا گئے تو انہوں نے سبیاساچی کے بنائے گئے جوڑے پہن کر دپیکا کے ساتھ ریمپ پر کیٹ واک کی جس سے بھارتی میڈیا نے بھی ان کے درمیان دلچسپ کیمسٹری کومعا شقے کا رنگ دے دیا مگر ان سب باتوں کے باوجود ون نے دپیکا کے بوائے فرینڈ رنویر سنگھ کے ساتھ بھی خوب سارا وقت گزارا جس کے بعدرنویر کے بیانات سے لگ رہا تھا کہ وہ بھی ون کواپنارقیب نہیں سجھتے یا خود ان کے پرستار بن گئے ہیں۔شاہانانہ لائف سٹائل ون کے شاہانہ لائف سٹائل کا اس سے اندازہ لگائیں کہ ون 1 . 1 ملین ڈالر مالیت کے دو منزلہ ٹریلر ہوم کے مالک ہیں یعنی ایسا چلتا پھرتا گھر جسے گھر سے دورکہیں بھی کسی بھی جگہ پر لے جا کر رہ سکتے ہیں جو گیارہ سو مربع فٹ پرمحیط ہے۔ فلموں کی عکسبندی کے دوران ون اس ٹریلر ہوم میں آرام کرتے ہیں جس میں جدید طرز کے لیونگ روم اور بیڈ روم کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کے لئے ایک ذاتی دفتر بھی موجود ہے جہاں وہ اپنے کام سے متعلق لوگوں سے ملاقات کر سکتے ہیں، بی حصہ دفتری ضروریات کے مطابق جدید سہولیات سے لیس ہے تا کہ وہ اپنی سہولت کے مطابق فلموں کی ایڈیٹنگ اور سکرینگ کے کام بھی باآسانی کر سکیں۔ اس گھر میں حفاظتی پہلووں کو مد نظر رکھتے ہوئے جدید کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔ آرام وتفریح کی غرض سے اس میں تھری ڈی فلیٹ سکرین ٹیلیویژن اوربلیو رے کی سہولت بھی موجود ہے۔ اتناہی نہیں ٹریلر ہوم میں جدید کچن کی سہولت کے باعث اگر ون چاہیں تو خود بھی اپنا من پسند کھانا بنا سکتے ہیں۔ دوسری طرف ون اپنی شادی اور بچوں کے معاملات کو میڈیا میں زیر بحث لانا پسند نہیں کرتے ، انہوں نے اپنے کئی انٹرویوز میں کہا تھا میں نے اپنی ذاتی اوفلمی زندگی کو ہمیشہ الگ رکھنے کی کوشش کی شاید اسی لئے مجھے اپنی ذاتی زندگی کی خبروں کی سرخیوں کی زینت بنانے اور اپنی تصویر میں کسی مشہور میگزین کے سر ورق پر شائع کروانے میں کوئی دلچسپی نہیں۔