کامیاب اداکار‘ناکام شوہر

ہالی ووڈ اداکار اور گٹارسٹ جونی ڈیپ کافی دل پھینک اور متلون مزاج واقع ہوئے ہیں حتیٰ کہ ان گنت معاشقے اور شادیاں بھی ان کی زندگی میں ٹھہراﺅ نہ لاسکیں

زارا مصطفیٰ

امریکی اداکار موسیقار اور پروڈیوسر جونی ڈیپ نے 1980 کی دہائی میں معروف ٹی وی سیریز ”21 جمپ سٹریٹ“سے شہرت پائی جونی ہمیشہ سے مشکل کردار ادا کرنے کے لیے اپنے آپ کو کو چیلنج کرتے ہوئے ہر کردار کو امر کردیتے ہیں جونی نے ”سلیپی ہولو‘ایڈورڈ سیزر ہینڈ‘رنگو‘چاکلیٹ‘فرام ہیل‘سیکرٹ ونڈو‘دی روم ڈائیری،ڈیڈ مین،بی فار نائٹ فالز،دی لون رینجر اور سوینی ٹوڈ،“جیسی کئی فلموں میں نمایاں کردار وں سے دنیا بھر میں خوب شہرت سمیٹی لیکن باکس آفس پر ڈالر کا ڈھیر لگانے والی فائینڈنگ نیورلینڈ ،ڈونی براسکو بلیک ماس اور ایڈووڈ،جیسی فلموں نے 3.2 بلین سے زائد ڈالر جبکہ دنیا بھر سے 8بلین ڈالر کمائے جونی کی دنیا بھر میں دیکھی جانے والی فلم اور پسند کی جانے والی فلم ”پائریٹس آف دی کریبین“نے 3 بلین”ایلس ان وندر لینڈ“ نے ایک بلین“چارلی اینڈ دی چاکلیٹ فیکٹری نے 474 ملین ڈالرم،”دی ٹورسٹ نے 278 ملین امریکی ڈالر کمائے،جونی کو کئی مرتبہ گولڈن گلوب ایوارڈ اور گلڈ ایوارڈ سے نوازا جاچکا ہے جبکہ تین مرتبہ اکیڈمی ایوارڈ کے لیے نامزد بھی کیا گیا جونی کا شمار ہالی ووڈ کے بڑے اور مہمگے ترین اداکاروں میں ہوتا ہے اس لئے 201 میں جونی کو سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے اداکار کے طور پر گینزبک آف دی ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا اور ان کی کل مالیت 200 ملین امریکی ڈالر ہے 2015 میں جونی کو ”ڈزنی لیجنڈ“ بھی قرار دیا گیا۔بے ٹی سوپا مر اور جون کرسٹو فرڈیپ کی چوتھی اولاد جونی ڈیپ 9 جون 1963 کو اوونسبورو،کنٹکی میں پیدا ہوئے ان کی والدہ ایک ریسٹورنٹ میں ویٹرس جبکہ والد سول انجینئر تھے جونی کے آباﺅاجداد کا تعلق یورپ کے انگریز گھرانے سے تھا جو 1700 میں فرانس سے ہجرت کرکے امریکہ آئے تھے جونی بھی اپنے دوسرے بہن بھائیوں کے ہمراہ بچپن سے ہی مختلف مقامات پر گھومتے پھرتے رہے مگر پھر1970 میں فلوریڈا میں قیام پذیر ہوگئے 1978 میں جب جونی کے والدین میں طلا ق ہوئی تو ان کی عمر 15 برس تھی جونی کی والدہ نے رابرٹ پامرہ سے دوسری شادی کرلی جونی 12 سال کے تھے ان کے والد نے انہیں گٹار تحفے میں دیا جسے انہوں نے مختلف انداز میں بجانا سیکھ لیا اور موسیقی کے بارے میں اس قدر جنونی ہوگئے کے ہر وقت گٹار لے کر بیٹھے رہتے تھے اور اسی وجہ سے اپنی پڑھائی سے بھی غافل ہوگئے نتیجتاً ا نہیں سکول سے نکال دیا گیا اور ان کے پرنسپل نے کہا جونی کو پڑھائی چھوڑ کر صرف راک میوزیشن بننے کے خواب پر توجہ دینی چاہیے چنانچہ جونی کچھ عرصہ تو پڑھائی سے آزادی پاکر لطف اندوز ہوتے رہے مگر پھر دوبارہ سکول کا رخ کیا تو پرنسپل نے ایک مرتبہ پھر انہیں گھر بھیج دیا جس کے بعد جونی سے اپنے ہم عصر بچوں کے ساتھ مل کر ”سکس گن میتھڈ “ کے نام سے میوزک بینڈ بنالیاجو کافی مشہور ہوگیا اور انہیں لاس اینجلس میں اپنے پہلے گانے کی ریکارڈنگ کی پیشکش بھی آگئی مگر گانے سے پیشتر ہی ان کا بینڈ ٹوٹ گیا اور جونی”راک سٹی اینجلز“ بینڈ میں بطور گٹارسٹ اور بطور سونگ رائٹر شامل ہوگئے اور اپنا پہلا البم ریکارڈ کروایا 2004 میں جونی نے اپنی پروڈکشن کمپنی بنائی مگر پہلی فلم ”دی رام ڈائیری“ 2011 میں پروڈیوس کی اور دوسری فلم 2012 میں ڈارک شیڈو کے نام سے بنائی جونی نے اپنی کئی فلموں کے نہ صرف گانے خود لکھے بلکہ گٹار بھی خود بجایا۔

شادیاں اور معاشقے:جونی سے پہلی شادی اپنے میوزک بینڈ کے ایک ساتھی کی بہن لاری این ایلسن سے 20 دسمبر1983 میں کی لاری ہالی ووڈ میں بطور میک آپ آرٹسٹ نمایاں پہچان رکھتی تھی اور کئی بڑے اداکاروں سے ان کی دوستی تھی اسی دوران جونی بھی گانا بجانے کے ساتھ ساتھ گزر بسر کرنے کے لئے کئی چھوٹی موٹی نوکریاں بھی کرتے تھے بطور موسیقار کامیابی نہ مل سکی تو لاری نے ایک دن ان کی ملاقات معروف اداکار نکولسن کیج سے کروائی جنہوں نے جونی کو میوزک کی بجائے اداکاری میں قسمت آزمائی کا مشورہ دیا جس پر جونی سے سنجیدگی سے عمل کرنے میں ہی عافیت سمجھی مگر بطوراداکار کامیابی کا راستہ دکھانے والی لاری اورجونی میں 1985 میں طلاق ہوگئی جب فلموں میں شہرت اور کامیابی ملنے لگی تو دیگر اداکاروں کی طرح جونی کے بھی نت نئے معاشقے زبان زد عام ہوگئے1980 کی دہائی کے آخر میں انہوں نے جینیفر گرے اور شرلن فین سے باری باری منگنی کی پھر1990 میں فلم کی ساتھی اداکارہ وینو آریڈ سے دوستی اتنی گہری ہوگئی کہ جونی نے دائیں بازوپر”وینو آفارایور“ کا ٹیٹو بنالیا مگر افسوس کہ جونی اب تک مزاج میں ٹھہراﺅ کی کسی چیز سے آشنا ہی نہیں ہوئے تھے 1994 سے1999 کے دوران ان کی انگریز سپر ماڈل کیٹ موس سے دوستی رہی اس کے بعد جونی فرانس میں ایک فلم کی عکسبندی میں مصروف تھے کہ ان کی ملاقات فرانسیسی اداکارہ اور ماڈل ونیزا پیراڈائس سے ہوئی اور دیگر معاشقوں میں جونی کا سب سے طویل تعلق ونیزا کے ساتھ رہا جو تقریباً14 برس قائم رہااور دوران ان کے دو بچے ایک بیٹا اور ایک بیٹی بھی پیدا ہوئے جس پر جونی کا کہنا ہے میں نے باپ بننے کے بارے میں شعوری طور پر نہیں سوچا تھا مگر یہ میری خوش قسمتی ہے بچوں کی پیدائش کے بعد میری زندگی میں عجیب سا ٹھہراﺅ آگیا جو میرے لئے کسی بڑئی خوشی سے کم نہیں ہے 2007 میں جونی اور ونیزا کی بیٹی لی لی روز شدید بیمار ہوگئی اور اسے کافی عرصہ ہسپتال میں رہنا پڑا اس دوران ایک دن جونی کہانیوں والی ایک کتاب لے کر ہسپتال گئے اور بیٹی کو تقریباً چار گھنٹے تک کہانیاں سناتے رہے اس ہسپتال کو انہوں نے ایک ملین پاﺅنڈ رقم بھی عطیہ کی 2012 میں جونی اورونیزا کے درمیان علیحدگی ہوگئی اور پھر دی رم ڈائیری کے سیٹ پر جونی کی دوستی امبرہرڈ سے ہوئی اور انہوں نے لاس اینجلس میں اپنے گھر میں ایک چھوٹی سی تقریب میں شادی کرلی مگر مئی 2016 میں امبر ہرڈ نے جونی سے طلاق کے لئے عدالت کا رجوع کیااور یہ الزام بھی لگایا جونی امبر کو گالی گلوچ کے علاوہ مار پیٹ بھی کرتا ہے اور ثبوت کے طور پر نہ صرف چہرے پر تشدد کے نشانات والی تصاویر پیش کیں بلکہ ایک پڑوسی اور جونی کے قریبی دوست کو بطور گواہان بھی پیش کیا بعد میں امبر نے یہ الزام واپس لے لیا او ر کہا کہ بات صرف لڑائی جھگڑے تک ہی تھی جونی نے ہاتھ نہیں آٹھایا تھا بالآخر باہمی رضا مندی سے جونی اورامبر کے مابین2017 میں طلاق ہوگئی اور جونی نے امبر کو 7 ملین امریکی ڈار رقم ہرجانے کے طور پر ادا کی اور امبر نے تمام رقم بچوں کے ہسپتال کو عطیہ کردی یعنی جونی کو امبر کی یہ خدمت خلق کافی مہنگی پڑگئی،

تنازعات بھی کچھ کم نہیں:ایک مرتبہ ہوٹل کے کمرے کے باہر چوکیدار کی پٹائی کرنے پر جونی کو پولیس نے گرفتار کرلیا لیکن بعد میں جونی نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے معاملہ رفع دفع کروالیا 1994 میں کیٹ موس کے ساتھ نیو یارک کے ایک ہوٹل میں قیام کے دوران جونی نے ہوٹل کی قیمتی اشیا کا کافی نقصان کیا جس کے باعث جونی کے خلاف عدالتی کاروائی بھی ہوئی مگر جب جونی نے نقصان بھردیا تو ہوٹل کی انتظامیہ کو نقصان الزام واپس لینا پڑا ایک مرتبہ وہ اپنی سب سے قریبی دوست ونیز ا پیراڈئس کے ساتھ لندن میں کھانے کے لئے گے تو کسی صحافی کو پیٹ ڈالا جس پر انہیں گرفتار کرلیا گیا اور پھر مشکل سے ہی جان بخشی ہوئی 2003 میں جونی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کے نزدیک امریکہ ایک گونگا کتا ہے جو ہمہشہ غصے میں رہتا ہے اور اپنے بڑے بڑے دانتوں سے آپ کو کاٹ کر زخمی کرسکتا ہے اسی بیان کو سی این این نے مزید اضافے کے ساتھ اس طرح نشر کیا کہ”میں چاہتاہوں امریکہ کو میرے بچے ایک کھلونے کے طور پر دیکھیں وہ بھی ایک ٹوٹا ہوا کھلونا بہر حال ایسے تنازعات میں الجھنے کی وجہ سے جونی کو اپنی فرانسیسی دوست ونیزا کے ہمراہ کچھ عرصہ فرانس میں سادہ زندگی گزارنا پڑی اور فرانسیسی حکومت کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ انہیں امریکہ اور فرانس دونوں ملکوں میں ٹیکس ادا کرنا ہوگا مگر جونی کو یہ منظور نہ تھا اس لئے جونی نے 2011 میں دوبارہ امریکہ منتقل ہونے کا مطالبہ کیا اکتوبر2011 میں ایک شو کی ریکارڈنگ کے دوران جونی سے کسی صحافی نے سوال کیا کہ آپ کا کوئی عقیدہ یا ایمان ہے؟تو جونی نے غیر سنجیدہ انداز میں کہہ دیا کہ مجھے صرف اپنے بچوں پر بھروسہ ہے لیکن جہاں تک مذہبی عقائد کی بات ہے تو میرا کوئی مذہب نہیں اور نہ ہی کوئی مذہبی انسان ہوں اور یہ بات سبھی جانتے ہے۔