مینڈی مورے پھر دُلہنیا بن گئیں

گلوُ کارہ سے اداکارہ بننے کا سفر آسان نہ تھا مخلص اور سچاجیون ساتھی ملنے پر شاداں

 فوزیہ طارق بٹ

سیانوں کا کیا خوب کہنا ہے کہ جوڑیاں آسمانوں پر بنتی ہیں ۔دنیا کی سب سے بڑی فلمی صنعت ہالی وڈ میں بھی آئے روز جوڑیاں بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں۔ اب نئی جوڑی کی حیثیت سے اداکارہ مینڈی مورے اور ان کے بوائے فرینڈ ٹیلر گولڈ سمتھ کانام درج ہوا ہے ۔طویل عرصے سے ان کی دوستی کے چرچے تھے مگر شادی کے سوال کو دونوں خوب صورتی سے گول کردیتے تھے ۔

اب دوستوں اور رشتہ داروں کی طرف سے مسلسل دباؤپر 18نومبر کو باقاعدہ شادی کرلی ۔مینڈی مورے کا دعویٰ ہے کہ ٹیلر گولڈ سمتھ ایک پر کشش شخصیت کے مالک ہیں ۔پہلے شوہر ریحان ایڈم سے طلاق پر اداکارہ نے دوبارہ شادی نہ کرنے کا اعلان کیا تھا مگر اب دوبارہ دلہنیاں بننے کو زندگی کا یادگار لمحہ قرار دے رہی ہیں ۔

مینڈی مورے کا شمار ہالی وڈ کی باصلاحیت ترین فنکاراؤں میں ہوتا ہے ۔گلوکاری ،گیت نگاری کے ساتھ ساتھ اداکاری میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔سنگل گانے ”کینڈی “سے شہرت کی سیڑھیوں پر قدم رکھا جو بل بورڈ100پر 41ویں پوزیشن پر فائز ہوا ۔ان کے پہلے سٹوڈیو البم ”سورئیکل “پلاٹینیم سر ٹیفائی قرار پایا۔مینڈی مورے کے دوسرے البم کا سنگل گانا ”آئی وانا بی ود یو “امریکی بل بورڈ چارٹ پر 30ٹاپ گانوں میں شامل ہوا۔

اس البم کے دنیا بھر میں دس ملین کاپیاں فروخت ہوئیں ۔”ڈاکٹر ڈولٹی ٹو “ان کے کیرئیر کی پہلی فلم تھی جو کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکی۔ان کی پہلی بڑی کامیاب فلم ”دی پر نسسز ڈائری “2002ء میں ریلیز ہوئی ۔اس کا پہلا چونکا دینے والے کردار ”اے واک ٹو ری میمبر“میں ” جمی سویلین “کے کردار تھا۔ڈزنی اینیمٹڈ فلم ”ٹینگلڈ “کو پس پردہ آواز دیکر یادگار بنا دیا۔این بی سی فیملی ڈرامہ”دس ازیوایس “میں ربیکا پےئر سن “کے کردار میں جلوہ گر ہوئیں ۔اس کردار پر بہترین معاون اداکارہ کے گولڈن گلوب ایوارڈ کیلئے نامزدگی حاصل کی ۔اس کی کاسٹ نے بہترین ایکٹرز گلڈایوارڈ بھی جیتا تھا۔

مینڈی مورے 10اپریل 1984ء کو نیو ہمپشائر امریکہ میں سٹیسی سابق نیوز رپورٹر کے ہاں پیدا ہوئیں جبکہ انکے والد ڈونلڈ مورے امریکن ائرلائن میں پائلٹ تھے ۔ان کی پرورش ایک کٹر عیسائی ماحول میں ہوئی مگر بعد ازاں یہودیت کی طرف مائل ہو گئیں ۔ان کی فیملی تین بہن بھائیوں پر مشتمل ہے۔دوسال کی عمر میں والد کی جاب کی وجہ سے انکی فیملی فلور یڈامنتقل ہوگئی۔ابتدائی تعلیم بشپ مورے کیتھولک سکول سے حاصل کی ۔

بچپن میں ہی انہیں اداکاری اور گلوکاری کا جنون تھا۔اسی شوق کے پیش نظر انکی نانی نے انہیں لندن بلالیا۔وہاں نانی سے اداکاری کی تربیت حاصل کی ۔کم عمری میں ہی کئی مقامی پروڈکشن میں کام کیا۔اور لینڈ و کے کئی ایونٹسمیں قومی ترانہ گانے کا اعزاز حاصل کیا۔بارہ سال کی عمر میں پہلی مرتبہ تھیٹر میں انٹری کا اعزاز حاصل کیا۔وہاں ان کے ساتھ معروف اداکارہ نتالی پورٹمین بھی کام کرتی رہیں ۔پروڈکشن ڈائریکٹر کونی کیٹلر ان کی اداکاری کی صلاحیتوں سے بے حدمتاثر تھے ۔

13سال کی عمر میں مینڈی موری کا رجحان گلوکاری کی طرف ہو گیا ۔ایک روز اور لینڈوسٹوڈیو میں میوزک پر کام کے دوران ان کی ملاقات فیڈکس ڈلیوری مین وکٹر کیڈ سے ہو گئی ۔وہ ان کی آواز سے بے حد متاثر ہوئے ۔ان کا ایک دوست اے اینڈآرایپک ریکارڈز کمپنی میں کام کرتا تھا۔کیڈ نے اپنے دوست کو مورے کے گانے کی ایک کاپی بھجوائی جس پر مورے کا اس کمپنی کے ساتھ گانے کا معاہدہ ہو گیا ۔پہلے سٹوڈیو البم پر کام کے دوران انہیں بشپ مورے سکول کو خیر باد کہنا پڑا ۔

 ان کا پہلا سنگل گانا کاروباری اعتبار سے کامیاب رہا جو آسٹریلین میوزک چارٹ پر نمبر ٹو پوزیشن پر فائز ہوا۔ امریکہ میں اس کی پچاس ہزار کا پیاں فروخت ہوئیں ۔اس کا پہلا سٹوڈیو البم زیادہ کامیاب نہ ہوا۔ناقدین کی جانب سے بھی اسے زیادہ پذیرائی نہ ملی ۔اس دور کی کئی کامیاب ٹین ایج گلوکاراؤں کے ساتھ ان کا موزانہ کیاجانے لگا۔یہ البم بل بورڈ 200پر 77ویں پوزیشن پر فائز ہوا جبکہ ترقی کرتا ہوا 31ویں پوزیشن پر آگیا۔

دوسرا البم 11جولائی2000ء میں ریلیز ہوا ۔16ہفتے میوزک چارٹ پر براجمان رہا اور 24ویں پوزیشن پر فائز ہوا ۔میوزک چارٹ پر اسے 11ویں پوزیشن پر فائز ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ۔پوپ گلوکارہ کا تیسرا البم ذاتی نام ”مینڈی مورے “ریلیز ہوا ۔ناقدین کی جانب سے اسے ملا جلا رد عمل ملا۔بل بورڈ 200پر اسے 35ویں پو زیشن ملی ۔اس کی دنیا بھر میں 1.5ملین کا پیاں فروخت ہوئیں ۔گلوکاری سے اداکاری کا سفر مینڈی مورے نے بڑی کامیابی سے طے کیا۔اداکاری کے علاوہ فیشن میں کامیاب کیرئیر کا آغاز 2005ء میں کیا۔ان کی زیادہ توجہ ریٹیلر خواتین کیلئے ملبوسات فروخت کرنا تھا ۔2009ء میں وہ اس کا روبار سے الگ ہوگئیں ۔

سماھی بھلائی کے کاموں میں بھی مینڈی مورے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں ۔غیر منافع بخش تنظیم پاپولر سروسزانٹر نیشنل کیلئے کام کیا۔یہ تنظیم کم عمر بچوں اور فیملیز کیلئے بھی کام کرتی رہیں ۔وہ لوکیمیا اور لائیفو ما سوسائٹی کی اعزازی چےئر پر سن بھی ہیں جس کا مقصد نوجوانوں میں لو کیمیا کے بارے میں شعور بیدار کرنا تھا ۔کینسر کیخلاف عوامی شعور بیدار کیا ۔

لاس اینجلس چائیلڈرن ہسپتال کا ”گیٹ ویل سون ٹور “کا دورہ بھی کیا ۔یواین فاؤنڈیشن کی سفیر کی حیثیت سے بھی کیا ۔ان کی سماجی خدمات کے پیش نظر امریکہ نے انہیں سنٹرل افریقی ریاست کا سفیر بھی مقرر کیا اور مسائل زدہ ملک کیلئے مینڈی مورے نے 1.2ملین امدادی رقم اکٹھی کی ۔خواتین کیخلاف گھر یلو اور جنسی تشدد کیخلاف ایک موثر آواز ہیں ۔وہ پہلی خاتون امریکی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم میں شریک رہیں ۔ڈیمو کریٹک نیشنل کنونشن کے دوران کئی دیگر فنکاروں کے ساتھ بھر پور شرکت کی ۔

مینڈی مورے کی ذاتی زندگی پر نگاہ ڈالی جائے تو سابق سکرب سٹارزچ بریف کے ساتھ ان کی دو سالہ دوستی رہی ۔2008ء میں ان کی ریان ایڈمز کے ساتھ دوستی کے چرچے ہوئے ۔فروری 2009ء میں ان کی منگنی ہوئی اور 10مارچ 2009ء کو شادی کرلی ۔فروری2015ء ریان ایڈمز سے طلاق کیلئے عدالت میں درخواست دائر کی جس میں ناقابل اصلاح اختلافات کا تذکرہ کیا گیا تھا ۔

2015ء میں ٹیلر گولڈ سمتھ کے ساتھ دوستی ہوئی ۔رواں 18نومبر 2018ء کو لاس انیجلس کیلی فورنیا میں باقاعدہ شادی کرلی ۔مینڈی مورے کے اب تک چھ سٹوڈیو البم مارکیٹ میں آچکے ہیں ۔کئی فلمیں بھی انکے کریڈٹ پر ہیں ۔ان کے ریلیز کردہ البمز کے کئی گانے ذاتی تحریر کردہ ہیں۔