میں شرمندہ ہوں

چار لیز تھیرون کہتی ہیں، مجھے شرمندگی ہے کہ میں ہالی ووڈ کا حصہ ہوں جہاں خواتین کو بڑے بجٹ کی فلموں میں کام نہیں کرنے دیا جاتا ، در اصل کچھ جاہل لوگ خواتین کو آج بھی کمزورخلوق سمجھتے ہیں۔

ہما میرحسن



چال مستانہ ، آنکھوں میں شرارت ، چہرے کے بدلتے ہوئے تیوراور لہراتے ہوئے بال … امریکی اداکارہ چارلیز تیرون خو بروتو ہیں لیکن ان کے انداز سب سے جدا ہیں۔ چارلیز 7 اگست 1975 کو ساوٴتھ افریقہ میں پیدا ہو ئیں ، وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہیں۔ ان کے والد نشے کی حالت میں انہیں اور ان کی والدہ کو بہت مارا پیٹا کرتے تھے۔ بالآخر ایک دن تنگ آ کر ان کی والدہ نے اپنے شوہر کو گولی مار کر ابدی نیند سلا دیا۔ بعد ازاں پولیس نے والدہ کو اس لئے گرفتار نہیں کیا کہ انہوں نے اپنے اورچارلیز کے دفاع کے لئے یہ ایسا اقدام کیا تھا۔ بہر کیف زندگی کچھ آگے بڑھی تو تیرہ برس کی چارلیز اپنی والدہ کے ساتھ نیو یارک آ گئیں اور نیشنل سکول آف آرٹس جوہانسبرگ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ چارلیز نے اپنے کیر ئیر کی ابتداء ماڈلنگ سے کی۔ ایک مقابلے میں انہوں نے ملک کی بہترین ماڈل کا انعام بھی جیتا لیکن چارلیز خود کو ڈانسر دیکھنا چاہتی تھیں۔ جس کے لئے انہوں نے نیو یارک کے ایک ڈانسنگ سکول سے بیلے ڈانس کی تربیت حاصل کی لیکن ایک حادثے میں ٹخنے کی ہڈی ٹوٹنے کے باعث وہ ڈانسنگ کیرئیر کو جاری نہ رکھ سکیں۔ نوے کی دہائی میں چارلیز کو ایک کمرشل میں کام کرنے کا موقعہ ملا، پھر 1996 میں انہوں نے فلم 'ڈیز ان دا ویلی“ سے ہالی ووڈ میں ڈیبیو کیا اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ”مائٹی جو ینگ“ ان کی زندگی کا پہلا بریک تھرو ثابت ہوئی۔ ان کی مشہو فلمیں، دی اٹالین جاب ، ہنکوک، دی برننگ پلین ، میڈ میکس فیوری روڈ، سنو وائٹ اینڈ ہنٹس مین اور فاسٹ 8 ہیں۔ ان کو 2003 میں ریلیز ہونے والی فلم مانسٹرمیں بہترین پرفارمنس پر اکیڈمی ایوارڈ بھی دیا گیا۔ چارلیز ہالی ووڈ کی معروف اور کامیاب اداکارسمجھی جاتی ہیں۔ انہوں نے اداکاری کے ساتھ ساتھ فلم پروڈیکشن بھی کی ہے۔ وہ اپنی جاندار اداکاری کے لئے اکیڈمی ایوارڈ کے علاوہ ، گولڈن گلوب ، ایم ٹی وی، کر ٹکس چائس اسکرین گلڈ، برلن فلم فیسٹیول سمیت دیگر متعدد اعزازات حاصل کر چکی ہیں۔

 اپنے باپ کو کر دیتی اگر۔۔۔ بقول چارلیز مجھے اپنے باپ سے شدید نفرت تھی ، انہوں نے میرابچپن تباہ کیا ، مجھے آج بھی یاد ہے کہ وہ مجھے اور میری ماں کو کیسے بے دردی سے مارا کرتے تھے، اگر میری ماں انہیں نہ مارتی تو یقینا ایک دن میں انہیں قتل کر دیتی۔ اپنی ماں کی ہمت اور قربانیوں کے سبب ہی میں آج ایک کامیاب اداکارہ بن پائی ہوں۔ تا ہم میں نے زندگی میں کوئی بڑا خواب نہیں دیکھا تھا ، میرا خواب بس یہی تھا کہ مجھے ایک آسودہ زندگی میسر آئے۔ جب میں فلمی دنیا میں نہیں آئی تھی تو مجھے اور میری والدہ کو میری ایک دوست نے ایک کمرہ دیا جس کی کھڑکیاں نہیں تھیں اور ہماری مجبوری تھی کہ ہمیں کوئی محفوظ پناہ مل جائے۔ آج میں سوچتی ہوں کہ کتنے ایسے لوگ ہوں گے جنہیں سر چھپانے کی جگہ چاہیے۔ میری آرزو ہے کہ میں ان کے لئے کوئی ایسا شلٹر ہوم بنواوٴں جہاں انہیں محفوظ پناہ مل سکے۔‘ اگر دیکھا جائے تو چارلیز کو خود ہالی ووڈ نے اپنے لئے منتخب کیا انہیں ادا کارہ بننے کا شوق نہیں تھا۔ انہیں ایک ٹی وی پروگرام میں ایک ڈائریکٹر نے فلم میں کام کرنے کی پیشکش کی جو انہوں نے قبول کر لی۔ چارلیز بتاتی ہیں.مجھے اداکاری کا اندازہ نہیں تھا کہ یہ کیسے ہوتی ہے مگر مجھے ہالی ووڈ کی اداکارہ مارلن منرو بہت پسند تھیں، میں ان کی فلمیں بہت شوق سے دیکھا کرتی تھی اورکبھی شوق شوق میں سب سے چھپ کر ان کے کرداروں کی نقل بھی کیا کرتی تھی۔ جب مجھے خودفلموں میں اداکاری کرنا پڑی تو میرا یہی مشاہدہ کام آیا۔ میں اداکاری کے بہت مشکل راستوں سے گزرتی ہوئی آج اس مقام پرپہنچی ہوں۔ ایک اداکارہ کی زندگی حقیقی معنوں میں بڑی جدوجہد سے عبارت ہوتی ہے۔

 زندگی فلموں کتابوں سے مختلف ہے۔

 اپنے بائیس سالہ کیریر میں مسلسل کامیابیاں سمیٹنے والی 42 سالہ چارلیز نے بالی ووڈ کی سرزمین پر شاید ہی کوئی ایسا اعزاز ہو جو اپنے نام نہ کیا ہو۔ بہت کم اداکارائیں اپنی شہرت برقرار رکھ پاتی ہیں تا ہم چارلیز ہر بارنئے روپ میں سامنے آ کر شائقین کو چونکا دیتی ہیں۔ بے شمار کامیاب فلمیں کرنے کے علاوہ چارلیز اپنا پروڈکشن ہاوٴس بھی دیکھتی ہیں اور اپنی کئی فلموں میں انہوں نے ہدایتکاری کے ساتھ اداکاری بھی کی ہے۔ غربت کی دہلیز سے شہرت کے ساتوں آسمان چھونے والی چارلیز کو دنیا کی سو با اثر شخصیات میں بھی شامل کیا گیا۔ چارلیز کہتی ہیں جب معلوم ہوا کہ اب ڈانس نہیں کر سکتی تو میں ڈپریشن کا شکار ہو کر اپنی ماں کے پاس ساوٴتھ افریقہ چلی گئی تھی ، ایسا لگ رہا تھا دنیاختم ہوگئی۔ تب میری ماں نے مجھ سے کہا کہ اگر ڈانس نہیں تو پھر فوری طور پر اپنے لئے دوسرے کیرئیر کانتخاب کرو۔ انہوں نے مجھے ساوٴتھ افریقہ سے دوبارہ لاس اینجلس بھیج دیا تھا جہاں ایک بینک میں میری ملاقات ایک ایجنٹ سے ہوئی جس نے میرا کیر ئیر بنانے میں بہت مدد دی۔ اپنی ابتدائی فلموں میں مجھے مختصر رول کرنا پڑے جبکہ ایک فلم میں تو میرا کوئی ڈائیلاگ ہی نہیں تھا۔ بہر کیف قسمت اپنے ساتھ دیا، دو تین سال کے بعد مجھے اچھے پراجیکٹس مل گئے جنہوں نے مجھے ہالی ووڈ میں بے مثال کامیابی دلوائی۔“ چارلیز اب اس مقام پر ہیں جہاں وہ اپنی مرضی سے فلمیں منتخب کرتی ہیں تاہم وہ اداکاراوٴں کو بڑے بجٹ کی فلموں میں یکساں مواقع فراہم نہ کرنے پر ہالی ووڈ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے شرمندگی ہے کہ میں ہالی ووڈ کا حصہ ہوں جہاں خواتین کو بڑے بجٹ کی فلموں میں کام کرنے نہیں دیا جاتا، در اصل کچھ جاہل لوگ خواتین کو آج بھی کمزودرمخلوق سمجھتے ہیں‘ چارلیز نے فلموں میں متنوع کردار نبھائے ہیں۔ انہیں فلم 'ڈیول ایڈو کیٹ“ میں اپنا کردار بہت پسند ہے اور وہ آئندہ کسی ایسے شہری کا کر دار ادا کرنے کی خواہشمند ہیں جس کا کوئی ملک نہ ہو. ان کا کہنا ہے کہ فلمیں اور ناول آج تک انسان کے بدلتے ہوئے روپ کو دیکھا نہیں سکے ہیں۔ حقیقت میں زندگی کچھ اور ہے اور ہم فلموں اور کتابوں میں اسے کس طرح دیکھتے ہیں۔ ایک انسان کئی روپ رکھتا ہے اور لمحہ لمحہ بدلتا ہے “


مردوں پر اعتبار نہ رہا

چار لیز نے اپنی زندگی میں آنے والے پہلے مر دیعنی اپنے باپ کو ایک وحشی مرد کی صورت میں دیکھا تھا یہی وجہ ہے کہ وہ آج تک مردوں پر اعتبار نہ کر لیں۔ چارلیز نے تاحال شادی نہیں کی ہے لیکن ایسا نہیں کہ محبت جیسے جذبے سے سرشار نہیں ہوئیں۔2002 میں ان کا افئیر ایک آئرش اداکار سٹوارٹ ٹاونسن سے لگ بھگ آٹھ سال رہا۔ دونوں ایک دوسرے کو بہت پسند کرتے تھے مگر 2010 میں میکسیکو میں چھٹیاں گزارنا ان دونوں کے لئے منحوس ثابت ہوا اور انہوں نے اپنے راستے جدا کر لئے۔2013 میں ایک اور ادا کارشون پین کے ساتھ بھی چارلیز کے مراسم ہوئے۔ ان کے ساتھ منگنی بھی ہوئی لیکن یہ رشتہ بھی دو سال بعد ٹوٹ گیا۔ چارلیز کو اپنے باپ کا چہرہ ہمیشہ یاد رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ کسی کو اپنے شوہر کے روپ میں دیکھنا پسند نہیں کرتیں۔ انہوں نے دو لا وارث بچے گود لے رکھے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ” زندگی بہت مختصر ہے، شادی کوئی ایسی چیز ہیں کہ جس کے بغیر زندگی نہ گزاری جا سکے۔ زندگی کی ضروریات کچھ اور ہیں۔ میرا جن سے تعلق تھا ان سے ذہنی ہم آہنگی نہ ہوئی اور راستے جدا ہو گئے۔ میں نے اپنے کیرئیرمیں بہت ساری کامیابیاں سمیٹی ہیں، ایوارڈز بھی ملے شہرت اور دولت بھی ملی ہے لیکن مجھے افسوس ہے کہ میری ماں یہ سب خوشیاں دیکھنے کے لئے آج اس دنیا میں موجود نہیں ہیں ، میری زندگی کا سب سے بڑا دکھ اور المیہ یہی ہے۔ میری ماں میری دوست میری ہمدم تھیں۔ انہوں نے میرے لئے بہت دکھ اٹھائے تھے لیکن یہ زندگی ہے۔ یہاں خوشیاں اورغم پہلو بہ پہلو ہوتے ہیں “


موت کسی فلمی سیٹ پر ہونی چاہیے

 چارلیز کہتی ہیں کہ جب کوئی فنکار کیمرے کے سامنے نہیں ہوتا تو وہ پھر کیمرے کے پیچھے چلا جاتا ہے۔ میں نے یہ پریکٹس ابھی سے شروع کردی ہے۔ ویسے میرا یقین ہے کہ ایک اداکارکبھی ریٹائر نہیں ہوتا ہے۔ میری بھی یہ خواہش ہے کہ میری موت کسی فلمی سیٹ پر ہی ہو اور اسے بھی پکچرائز کیا جائے۔ ہاں اگر میں ایک اداکارہ نہ ہوتی تو ایک سماجی ورکر ہوتی۔ مجھے دولت اور شہرت کا کوئی شوق نہیں تھا۔ ایک محفوظ زندگی اور لاچار لوگوں کی بھلائی کرنا میرا خواب تھا۔ میں آج بھی کسی نہ کسی طور یہ کام کرتی ہوں۔ ایک اداکارہ کے اندر ایک سماجی ورکر کو میں نے ہمیشہ زندہ رکھا ہے۔ میں فلمی دنیا کے لوگوں کو بھی اس جانب راغب کرتی ہوں اور انہیں دکھی انسانیت کی مدد کے لئے اپیل کرتی ہوں ، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں موجود ہوں۔ شاید انہی کی بدولت ہم آج اس مقام پر ہیں“ چارلیز کے پسندید و مشاغل میں سرفہرست سیاحت ہے۔ وہ بتاتی ہیں میں نے دنیا کے کئی ممالک کی سیر کی ہے اورا بھی کئی ایسے ممالک ہیں جہاں میں نہیں گئی۔ میں وہاں جانے کی جستجو کرتی رہتی ہوں۔ اس کے علاوہ مجھے کتب بینی اور جانور پالنے کا شوق ہے۔ وہ مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔ میں ان سے فارغ اوقات میں باتیں کرتی ہوں“ چارلیز سیاست کو کھیل تماشہ کہتی ہیں۔ انہوں نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔ جب الیکشن کا موسم آتا ہے تو وہ کسی دوا قتادہ مقام پر چلی جاتی ہیں۔ ان کے نزدیک سیاست ان کا کام ہے جو اس کے اسرار و رموز سے آگاہ ہوتے ہیں۔ وہ ایک اداکارہ ہیں ان کا کام خواب دیکھنا اور دکھانا ہے اور لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹیں بکھیرتا ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔