انوراقبال کے اعزاز میں تقریب پذیرائی

42سالہ فنّی خدمات کا اعتراف آرٹس کو نسل کراچی میں ہونیوالی محفل کا احوال

 ثاقب اسلم دہلوی

انوراقبال بلوچ کا شُمار لچنڈاداکاروں میں ہوتا ہے ،پی ٹی وی کے مقبول ڈرامے ”شمع “سے شُہرت حاصل ہوئی جس کے بعد نسیم حجازی کے لکھے ”آخری چٹان“میں اداکاری کرکے شُہرت کی بلندیوں کو چھوا۔وہ بلوچستان کے معروف سیاستدان حاجی محمد اقبال بلوچ کے صاحبزادے ہیں جنہوں نے تحریک پاکستان میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔

انور اقبال کو پہلی بلوچی فیچر فلم بنانے کا بھی اعزاز حاصل ہے جو انہوں نے 1976ء میں کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز ڈگری لینے کے بعد بنائی تھی ۔”شمع “میں انکا”نانا کی جان قمرو“کا کردار آج تک لوگوں کو یاد ہے ۔1984ء میں ڈرامہ ”عشق سچا“سے بطور ڈائریکٹر ڈیبیو کیا ۔ایشین آرٹ کونسل اور آرٹ کونسل کراچی کے اشتراک سے اس لچنڈ فنکار کے اعزاز میں ایک رنگا رنگ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

”تقریب پزیرائی “کے نام سے ہونیوالی تقریب میں شُرکاء نے انور اقبال کی 42سالہ فتنی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔فلمسٹار قوی خان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انور اقبال ہماری انڈسٹری کا فخر ہیں ،انہوں نے محنت ولگن کے بل پر خوب کامیابیاں سمیٹیں جو قابلِ تعریف ہیں ۔میں تمام مصروفیات ترک کرکے یہاں آیا ہوں اور مجھے معلوم تھا کہ یہ تقریب بلاک بسٹر ہو گی کیونکہ اسلم محمود دہلوی جو کرنے کی ٹھان لیتا ہے وہ کرکے ہی چھوڑتا ہے ۔

فلمسٹار مصطفی قریشی نے کہا کہ انور ایک فنکار ہی نہیں ایک رحم دل انسان بھی ہے ،اس سے میری بہت محبتیں ہیں اور دلی دعائیں اس کیساتھ ہیں ۔فلمسٹار منور سعید نے کہا کہ انور ایک ایسا فنکار ہے جو اپنے لب ولہجے سے سامنے والوں کو اپنا فوراً گرویدہ کر لیتا ہے ،یہ اپنے کام سے مخلص ہو کر ہر کر یکٹر میں خود کو سمولیتا ہے جو ایک مشکل کام ہے مگر یہ با آسانی کرلیتا ہے ،یہ میرا بھائی اور دوست ہے ۔فلمسٹار علی خان نے کہا کہ انور بھائی اپنے جونےئرز کیلئے ایک مثال ہیں ۔

سینئر اداکار شہزاد رضانے کہا کہ اسلم دہلوی جو کام 38سالوں سے کررہا ہے وہ حکومتی سطح پر ہونا چاہئے تھا ،انور اقبال اتنا عظیم فنکار اور انسان ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔اداکارہ سلومی نے کہا کہ انور اقبال نے اپنی خداداصلاحیتوں کو استعمال کرکے اسکرین پر راج قائم کیا جو آج بھی قائم ہے ،فلمسٹار رعیشا نور نے کہا کہ انور اقبال کاکام دیکھ کر سیکھا جا سکتا ہے ۔

سینئر اداکارہ ذہین طاہرہ نے کہا کہ انور میرا بیٹا ہے اور حال ہی میں اس نے میرے بیٹے کا کریکٹر بھی کیا ہے جو بہت ہٹ ہوا ،یہ واقعی بڑا فنکار ہے جو ناظرین کو ہر کریکٹر میں لے جا کر گم کر دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کا ہر کردار حقیقت کی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے ۔فلمسٹارو کا میڈین شکیل صدیقی نے کہا کہ انور اقبال نانا کی جان ہی نہیں ہم سب کی بھی جان ہیں ۔

سینئر گلوکار جاوید اختر نے کہا کہ اسلم دہلوی جیسے لوگ آج کے دور میں ملنا بہت مشکل ہیں ۔اداکار طارق بٹ نے کہا کہ انور اقبال ہمارے ملک کا اثاثہ ہیں ۔سینئر گلوکار ایم افراہیم نے کہا کہ انور سے میرا تعلق سالوں پرانا ہے ،یہ عظیم انسان ہے ،اس کے ہر کریکٹر جاندار نظر آتے ہیں ے،یہ خداسے اپنے حصّے میں کامیابیاں اور عزت وشُہرت بے شمار لکھوا کر آیا ہے ۔

صدر آرٹس کو نسل احمد شاہ نے کہا کہ انور اقبال ہمارے لئے انسٹی ٹیوٹ کا درجہ رکھتے ہیں ۔چےئرمین ایشین آرٹ کونسل اسلم محمود دہلوی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی سطح پر ان تمام فنکاروں کو پرائیڈ آف پر فارمنس ملنا چاہئے جنہوں نے اپنی لازوال خدا داد صلاحیتوں سے دُنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ہمارے سینئر ز ہماری ثقافت کا قیمتی اثاثہ ہیں ان کی پزیرائی ہم پر قرض ہے جو میں اپنی مدد آ پ کے تحت گزشتہ 38سالوں سے کرنے کی کوشش کررہا ہوں ۔

انور بھائی جیسے بے مثال فنکار صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ،میں صدر آرٹس کونسل احمد شاہ کے تعاون کا بھی ممنون ومشکور ہوں ۔اداکار شہزاد علی خان نے کہا کہ مجھے اس تقریب میں آکر بہت خوشی محسوس ہورہی ہے ۔سینئر اداکار طلعت اقبال کا کہنا تھا کہ انور اقبال ہمارا فخر ہے ۔زباد انور اقبال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میرے بابا کے بارے میں جتنا بھی کہا جائے کم ہے ،یہ میرے آئیڈیل اور ہمارے لئے یونیورسٹی کا درجہ رکھتے ہیں ۔

درین انور کا کہنا تھا کہ میں دُنیا کی خوش نصیب لڑکی ہوں جس کے بابا انور اقبال ہیں ۔عائشہ انور کا کہنا تھا کہ دُنیا کا سب سے بڑا اعزاز ہم بہنوں کے پاس یہی ہے کہ ہم انور اقبال کی بیٹیاں ہیں پروفیسر ہارون رشید نے کہا کہ انور نے اپنی صلاحیتوں کے بل پر جو مقام بنایا وہ رہتی دنیا تک قائم رہے گا ۔آرٹس کونسل کے جنرل سیکرٹری پروفیسر اعجاز فاروقی نے کہا کہ انور کاکام خود اس کی تعریف میں بولتا ہے ۔

اداکارہ صباحت بخاری نے کہا کہ مجھے خوشی ہے اسلم دہلوی اپنے سینئرز سے اپنی بے لوث محبت کا اظہار تقریب پزیرائی کی صورت میں پیش کرتے ہیں ۔ویڈیو میسجز کے ذریعے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فلمسٹار ریما نے کہا کہ انور اقبال نے نانا کی جان کے کریکٹر ہی کو نہیں بلکہ ہر کر یکٹر کو امر کیا ۔مجھے بھی ان کیساتھ کام کا موقع ملا جو بہت بڑا اعزاز ہے ۔

فلمسٹار غلام محی الدین نے کہا کہ میں آج اس پروگرام میں موجود نہیں مگر میری دلی دعائیں اس شخص کیساتھ ہیں جس نے اپنی زندگی فن وانسانیت کیلئے وقف کی ہوئی ہے ۔شبیر جان کا کہنا تھا کہ آج اس پروگرام میں شریک ہونا تھا مگر کراچی سے باہر ہوں ۔میں نانا کی جان قمرو کیساتھ اپنی محبت کا اظہار کررہا ہوں ۔

ٹیلی فون کا خطاب کرتے ہوئے فلمسٹار شاہد نے کہا کہ انور میاں ہمارے وہ فنکار ہیں جو اپنے کام کیساتھ انصاف کرنے کو اولین ترجیح دیتے ہیں ،وہ اپنے کریکٹر میں گم ہو کر رہ جاتے ہیں۔ طلعت حسین کا کہنا تھا کہ فنکار بنائے نہیں جاتے بلکہ پیدا ہوتے ہیں اور انور وہ فنکارہے جو ڈاکو بناتو ڈاکو ہی لگا شہزادہ بناتو شہزادہ ہی بنا اور میں اپنے بچے ثاقب اسلم دہلوی کو بھی مبارکباد دیتا ہوں کہ اس نے انور کیلئے اتنا بڑا پروگرام ارینج کیا۔

مرحوم گلوکار تاج ملتانی کی بیٹی ثناء خواں ثنا علی تاج نے کہا کہ یہ تاریخی پروگرام ہے ۔تقریب کے آخر میں پندرہ منٹ سے زائد کی ایک شوریل بھی مہمانوں کو دکھائی گئی جس کے بعد انور اقبال نے اپنے خطاب میں تمام چاہنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ پہلے ہی مجھ سے اظہار محبت کرنے پہنچ گئے ،اس کے بعد میں اسلم دہلوی بھائی کو بھی پروگرام کی کامیابی کیلئے مبارکباد دیتا ہوں ،یہ انسان اپنے فنکاروں سے بے لوث محبت کرتا ہے اور ایسے لوگ آج ڈھونڈ نے سے بھی نہیں ملتے ۔

 ساتھ ہی میں آرٹس کو نسل کے صدر احمد شاہ کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے اس پروگرام میں آرٹس کونسل کا تعاون دیا۔تقریب کے دوران لچنڈ اداکار جاوید اختر ،لچنڈ بلوچی گلوکارنور محمد نورل ،معروف گلوکار وڈانسر امجد رانا ،شمائل مقبول صابری ،معروف گلوکار ظفر اقبال ظفری ،بین الاقوامی شُہرت یافتہ فنکار شکیل صدیقی ،آصفہ خان ،ارشد محمود ،ارشاد بوبی ،ریما جان ،کامیڈین عامر ریمبو،گلوکار مظہر شاہ ،عائشہ علی خان نے فن کا مظاہرہ کیا ۔تقریب میں موجود فنکاروں کو ایشین آرٹ کونسل کے چےئرمین وچیف آرگنا ئز ر اسلم

 محمود دہلوی کی جانب سے اجرک ،ٹوپی اور یاد گار تقریب پزیرائی انور اقبال کے ایوارڈز سے نوازا گیا۔ تقریب کی نظامت آغا شیرازی نے کی۔