میرے بعد میری بیوی کا خیال کون رکھے گا؟

11فروری 2018ء کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوتے وقت بھی قاضی واجد کو یہی فکر دامن گیر تھی کہ اگر میں نہ رہا تو میری بیوی کا خیال کون رکھے گا؟
11فروری 2018ء کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوتے وقت بھی قاضی واجد کو یہی فکر دامن گیر تھی کہ اگر میں نہ رہا تو میری بیوی کا خیال کون رکھے گا؟
گذشتہ چھ دہائیوں سے شوبز کی دنیا پر راج کرنے والے پاکستان ریڈیو‘ ٹیلیویژن اور تھیٹر کے مقبول ترین اداکار اور صدا کار 11 فروری 2018 کو جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ وفات سے ایک روز قبل تیز بخار اور سینے میں درد کے باعث انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا ضروری علاج کے بعد وہ گھر آ گئے مگر اگلے دن دوبارہ طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے انہیں ہسپتال لے جارہے تھے کہ وہ راستے میں ہی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ قاضی واجد ریڈیو ٹی وی اور تھیٹر کے حوالے سے ایک فنکار ہی نہیں ایک عہد ہیں، ان کی شخصیت علم و ادب ،تہذیب و ثقافت شعور و ادراک کا مرقع تھی ، جو بھی ان سے ملتا، ان کی شفیق شخصیت کا دیوانہ ہو جاتا۔ وہ مئی 1943 میں بھارت میں پیدا ہوئے ، انہوں نے 1956 میں ریڈیو پاکستان سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا، اسی دور میں فلم بیداری میں بھی اداکاری کا لوہا منوایا1967 میں ٹیلیویژن کا دور شروع ہوا تو وہ پہلی مرتب ڈرامہ سیریل ”راستہ‘ میں جلوہ گر ہوئے۔ ان کے مشہور زمانہ ٹی وی ڈراموں میں دوراہا‘نتہائیاں، ہوائیں، آنگن تیڑھا، خدا کی بستی اور دھوپ کنارے شامل ہیں۔ 1980 کی دہائی میں انہوں نے ریڈیو پر باقاعدہ ملازمت اختیار کر لی اور لگ بھگ پچیس برس تک مسلسل ریڈیو پاکستان سے منسلک رہے۔ قاضی واجد کور یڈ یو صنعت کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ریڈیو کو اپنی پہلی محبت قرار دیتے تھے۔ اسی دوران انہوں نے تھیٹر پر تعلیم بالغان، لال قلعے سے لالوکھیت اور وادئی کشمیر جیسے ڈراموں سے بھی خوب شہرت سمیٹی۔ قاضی واجد کی اداکاری حقیقت سے قریب تر تھی ، وہ نہایت برجستگی سے مکالموں کی ادائیگی کرتے ،ان کے کرداروں میں بناوٹ نہیں تھی۔ بالی ووڈ اداکار انیل کپور قاضی واجد سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں بعض اوقات میرے دل میں یہ خواہش مچلتی ہے کہ قاضی واجد کے ادا کئے ہوئے کردار میں ادا کروں۔‘قاضی واجد ذاتی طور پر بشری انصاری اور ثانیہ سعید کی اداکاری کو بہت پسند کرتے تھے، بشری انصاری بھی اکثر کہتی نظر آتی ہیں ہم نے اردو جملوں کی درست ادائیکی قاضی واجد صاحب سے سیکھی، اب ایسے فنکارکم ہیں جن سے کچھ سیکھا جا سکے۔ وہ کم عمری میں ہی شو بز کی رونقوں کا حصہ بن گئے مگر اپنی شخصیت پر بھی کوئی داغ نہیں لگنے دیا۔ ایک زمانے میں کراچی میں قاضی واجد جبکہ لاہور میں قوی خان ریڈیو، ٹی وی اور تھیٹر کے منجھے ہوئے فنکار تصور کئے جاتے تھے۔ قاضی واجد نے لاہور کے بیشتر تھیٹر ڈراموں میں قوی خان کے ساتھ کام کیا جس کی بنا پر ان کے درمیان گہری دوستی کا رشتہ استوار ہو گیا اور ان کے پرستاروں نے انہیں کیوز کی جوڑی“ کا خطاب دیدیامگر اب قاضی واجد کی وفات کے بعد یہ جوڑی ٹوٹ گئی ہے جس پرقوی خان بے حد رنجیدہ ہو کر کہتے ہیں’واجد جب بھی کراچی سے لاہور آتے تھے میرے گھر پر ہی قیام کرتے تھے، جب ٹی وی نہیں آیا تھا، ہم نے ایک ساتھ تھیٹر پر بہت کام کیا۔ پھر ٹی وی کا دور آیا تو ٹی وی ڈراموں میں بھی کام کیا اور ہمیں بطور کیوز کی جوڑی لوگوں سے بہت محبت ملی۔ قاضی واجد جیسے دوست اب کہاں ملیں گے؟ اس کی موت نے مجھے ذاتی طور پر بہت نقصان پہنچایا ہے۔ قاضی صاحب کی پر بہار شخصیت کا سحران کے مداحوں کے ہی نہیں بلکہ ان کے قریبی دوستوں کے بھی سر چڑھ کر بولتا تھا، دیگر احباب میں انور مقصود،شہزاد رضا، ایاز خان ، در دانہ آ پا، روبینہ اشرف اورطلعت حسین شامل ہیں۔ چونکہ انہیں خودبھی شعر کہنے کا شوق تھا اس لئے جب انور مقصود اپنا کوئی کام نہیں سناتے تو قاضی واجد کے سوا کسی میں یہ جرآت نہیں تھی کہ وہ ان کے کلام میں کسی ردوبدل کا مشورہ دیتے انور مقصود ہی نہیں ان کے دیگر احباب بھی فخر سے یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ قاضی واجد کی کسی بات کو بھی رد نہیں کرتے تھے۔ قاضی واجدمحض اپنے بچوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ شوبز میں نے آنے والے لڑکے اور لڑکیوں کے ساتھ بھی نہایت شفقت سے پیش آتے ،ان کی حوصلہ افزائی کرتے اور اگر کسی سے کوئی غلطی ہو جاتی تو بہت محبت سے ان کی اصلاح کرتے ، ان کے اسی شفیق رویے کی وجہ سے ان کے قریبی ساتھی انہیں انسان دوست اور استاد قرار دیتے ہیں۔ وفات سے دو ہفتے پہلے قاضی واجد اپنے شوبز کے چندقریبی ساتھیوں کے ہمراہ عمرے کی سعادت حاصل کرنے گئے تو سب سے اپنے لئے دعا کرنے کی بار بار درخواست کرتے رہے اور باتوں باتوں میں موت کا ذکر چھیٹر دیتے ہیں، اس وقت تو کوئی نہ سمجھ پایا کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ مگر قاضی واجد کی اچانک وفات نے اس مصلحت سے بالآخر پردہ اٹھا ہی دیا۔ چونکہ اپنے گھر میں اپنی اہلیہ کے ساتھ وہ تنہا رہتے تھے، ایسے میں بہروز سبزواری اور ان کی اہلیہ سفینہ سبزواری اکثر ان کی دیکھ بھال کے لئے ان کے پاس جایا کرتے تھے، ایک دن قاضی واجدان دونوں کی بے لوث محبت پر زار و قطار رو پڑے۔ چونکہ قاضی صاحب کی اہلیہ چلنے پھرنے سے قاصر ہیں اور ہاتھوں میں الرجی کا شکار ہونے کی وجہ سے وہ پانی میں ہاتھ نہیں ڈال سکتیں اس لئے گھر کی دیکھ بھال، کھانے اور دیگر گھر یلو انتظامات قاضی صاحب کی ذمہ داری ہی تھی حتی کہ اپنی بیوی کو وہ کھانا بھی خود اپنے ہاتھوں سے ہی کھلاتے تھے کبھی دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوتے تو اس بات پراکثر رنجیدہ بھی ہوجاتے تھے اور کہا کرتے تھے مجھے بہت فکر ہوتی ہے کہ اگر میں نہ رہوں تو میری بیوی کا خیال کون رکھے گا؟“ یہ سچ ہے کہ قاضی واجد کی لاجواب اداکاری سے سجے ڈرامے ہمیشہ ان کی یاد دلاتے رہیں گے مگر ان جیسا کوئی دوسرافنکا رہی نہیں، انسان بھی اب نظر نہیں آ تا۔ آخری دیدار کے وقت ان کی اہلیہ سے کیا رشتہ دار نے کہا کہ اگر آپ کو ان سے زندگی میں بھی کوئی شکایت رہی ہوتو انہیں معاف کر دیں اور وہ اس بات پر بلک اٹھیں کہ” معاف۔۔۔ یہ شخص دنیا کا حسین ترین آدمی ہے اس نے مجھے زندگی بھرعیش کروائی ہے، مجھے ان سے کوئی شکایت نہیں“۔