اپنے لئے جیتا ہوں

اداکار قیصر خان نظامانی کہتے ہیں میں نے شادی سے لے کر دو سال پہلے تک جانور کی طرح کام کیا پھر خود تھوڑا کنٹرول کرنا پڑا کہ بھائی آپ پچاس سال کے ہوگئے ہیں اب اپنی زندگی جئیں۔

زارا مصطفی

سندھی ڈراموں سے اداکاری کا آغاز کرنے کے بعد 1990 کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن کے شہرہ آفاق اردو ڈرامہ سیریلز سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے ایکٹر،ڈائریکٹر اور پروڈیوسر قیصر خان نظامانی بارعب اور پروقار شخصیت کے مالک ہیں اور اپنی سادہ مزاجی اور دھیمے لہجے سے آج بھی پرستاروں کے دلوں پر راج کرتے ہیں، قیصر خان نظامانی کو پہلی شہرت ڈرامہ سیریل ”تپش“سے ملی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ کسک، ہوائیں،ماروی،اور آرزو جیسے مشہور زمانہ ڈرامہ سیریلز سے پاکستان ٹیلی ویژن کا روشن ستارہ بن کر چمکنے لگے ، قیصر خان نظامانی نے 1995 میں اپنا پروڈکشن ہاﺅس بھی قائم کرلیا وہ اب تک ان گنت ٹیلی فلمز اور ڈرامہ سیریلز بناچکے ہیں لیکن ان کی ٹیلی فلم تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کو خاص پذیرائی ملی ان کے دیگر ڈرامہ سیریلز میں احساس،مکان،بری عورت،زینب بنت سکینہ اور سات پردوں میں شامل ہیں جن کی وجہ سے 2000 کی دہائی میں بھی ٹی وی پر چھائے رہے 1994 میں قیصر خان نظامانی نے اپنی ساتھی اداکارہ اور ماڈل فضیلہ قاضی سے شادی کرلی تھی ان کے دو بیٹے ہیں جو وکالت کی تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ چھوٹے بیٹے زورین اداکاری میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں رواں برس قیصر فلم پروڈکشن کا آغازبھی کررہے ہیں۔

سوال: قیصر خان نظامانی اپنی اصلی زندگی میں کیسا آدمی ہیں؟

 قیصر خان نظامانی:ایک ایسا آدمی جسے اپنی اگلی سانس کا بھی نہیں پتا،،،،،،

سوال:آپ نے وکالت کی تعلیم حاصل کی پھر اداکاری کی طرف کیسے آئے؟

 قیصر خان نظامانی:ڈگری کا پروفیشن سے کوئی تعلق نہیں ہوتا کیونکہ ڈگری سے انسان روزگار نہیں کماتا تعلیمی ڈگری انسان کو انسانیت سکھاتی ہے اور آپ مہذب زندگی گزارنے کے قابل ہوجاتے ہوں لیکن جہاں تک روزی روٹی کی بات ہے تو وہ انسان اپنے ہنر سے ہی کماتا ہے میڈیکل انجینئر نگ وکالت جیسی ڈگریاں تو ماہرانہ اور پیشہ ور ڈگریاں ہیں جبکہ ایم اے کی ڈگری بھی ماہرانہ اور پیشہ ورانہ نہیں حتیٰ کہ پی ایچ ڈی کی ڈگریاں بھی تب تک انسان کو ہنر مند نہیں بناتیں جب تک کسی ماہرانہ شعبے سے متعلق نہ ہو اس لئے کوئی ڈاکٹر ہو پنکچر لگانے والا ہو یا کوئی مکینک سبھی اپنے ہنر سے روزی کماتے ہیں میں نے اداکاری وکالت پڑھنے سے پہلے کیا تھا اور میرا ہنر اداکاری ہی ہے۔

سوال:جب آپ نے ادکاری کا آغاز کیا تو آپ کن لوگوں سے متاثر تھے؟

 قیصر خان نظامانی:میں امیتابھ بچن سے بہت متاثر تھا انہی دنوں شاہ رخ خان اور سلمان خان بھی بالی ووڈ میں قدم رکھ چکے تھے میں انہی کو آئیڈیلائز کرتا تھا پاکستان میں ندیم بیگ صاحب میرے پسندیدہ اداکار ہیں لیکن انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع نہیں ملتا تھا البتہ مرحوم شفیع محمد شاہ صاحب ہمارے پڑوسی تھے ان سے ایک عجیب سی انسیت تھی میں ان کی آواز سے بہت متاثر تھا ان میں جو محبت اور شفقت تھی وہ مجھے دوسرے لوگوں میں بہت کم نظر آتی ہے ان کے علاوہ میں نے محمد بخش جونیجو ساحرہ کاظمی حیدرامام رضوی شاہد اقبال پاشا اور سلطانہ صدیقی جیسے بڑے فنکاروں کے ڈراموں میں بھی کام کیا ہے ،انہو ں نے مجھے پڑھایا اور ادب سے متعلق ذوق پیدا کیا میرا اردو تلفظ سدھار نے میں بہت اہم کردار ادا کیا فاطمہ ثریا بجبار صاحبہ کا نام نہ لینا بھی بہت بڑی زیادتی ہوگی۔

سوال:صرف ایک فلم نہیں بنائی؟

 قیصر خان نظامانی:فلم بنانے کے بارے میں کیا کہوں بس یوں سمجھ لیں کہ ابھی مجھے فلم بنانے کے حوالے سے سرمایہ کاری کے معاملات سے متعلق مکمل آگہی نہیں ہوسکی فلم میکنگ کے اخراجات کا میرے پاس مکمل حساب کتا ب ہیں مگر فلم کی ریلیز کے بعد ڈسٹری بیوٹر اور میڈیا پارٹنرز کا کتنا شئیر ہوتا ہے؟پیسے کی ریکوری کیسے ممکن ہوتی ہے؟ان معاملات کی زیادہ معلومات نہیں لیکن امید ہے کہ جلد ہی فلم پروڈکشن کا آغاز ہوجائے گا۔

سوال:آج کل جن موضوعات پر ڈرامے بنائے جارہے ہیں ان کے بارے میں آپ کھل کر اظہار خیال کرتے ہیں لیکن فلموں میں جو کلچر دکھایا جارہا ہے اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہیں؟

 قیصر خان نظامانی:فلم کا کلچر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ فلم کا مقصد محض تفریح ہے ہمارے کلچر میں توملا نصیر الدین بابا بھلے شاہؒ،شاہ عبدالطیف بھٹائیؒ اور سچل سرمست ؒجیسے لوگ ہیں ہاں اگر کوئی ڈائریکٹر اور پروڈیوسر فلم میں ثقافت اجاگر کرنا چاہیں تو کوئی حرج بھی نہیں،،،،

سوال:آپ کے خیال میں آج کل سکرین سجانے پر زیادہ توجہ ہے؟

قیصر خان نظامانی:اصلاح نہیں ہوسکتی کیونکہ معاشرے کی اصلاح کا ٹھیکہ ٹی وی چینلز نے نہیں اٹھا رکھا معاشرتی اصلاح کی ذمہ داری شعرا ادیبوں اور دانشوروں کی بات ہے ٹی وی چینلز اپنا بزنس کررہے ہیں چینل کا مالک سینکڑوں لوگوں کی تنخواہوں سمیت ماہانہ کروڑوں روپے کے اخراجات پورے کرنے کے بعد مارکیٹ سے منافع کماتا ہے،

سوال:آپ کا ظاہری شخصی تاثر کسی وڈیرے جیسا ہے ایسا کیوں؟

قیصر خان نظامانی:دراصل ہم دیہاتی لوگ دیکھنے میں خواہ مخواہ ہی موٹے تازے لگتے ہیں اور لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی بدتمیز قسم کا بندہ ہے لیکن ایسا نہیں ہے ہمیں تو اگلے لمحے کی خبر نہیں ہے ہم کسی سے بدتمیزی یا برے الفاظ میں بات کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

سوال:آپ اکثر شادی شدہ زندگی کی کامیابی کا راز معاشی خوشحالی بتاتے ہیں آپ اس نکتے پر اتنا زور کیوں دیتے ہیں؟

قیصر خان نظامانی:یہ سچ ہے شادی شدہ خوشحالی زندگی کا دارومدار کسی مرد کے معاشی حالات پر ہی ہے جس گھر میں ضروریات زندگی پوری کرنے والا مرد ہو تو اس گھر کی عورت کمانے کے لیے گھر سے نہیں نکلتی اگر مرد گھر چلانے کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ بدتمیز ہوجاتا ہے اور ماں باپ اور بیوی سے بھی خواہ مخواہ الجھتا ہے اور جب مجبوراً بیوی گھر سے نکلتی ہے تو اسے برا لگتا ہے اور مرد کی کمزوری سمجھنیں یا پریشانی نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے( شرارتاً) چاہے بڈھا ہی کیوں نہ ہوں لیکن عورتیں امیر آدمی تلاش کرتی ہیں تاکہ وہ انہیں آسائشات زندگی میسر کرنے کے قابل تو ہو میرے گھر میں اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت ہیں لیکن میں کراچی میں واحد آدمی ہوں جس کے پاس کریڈٹ کارڈ نہیں ہے میرے پاس کوئی ادھار کی چیز نہیں ہے الحمد اللہ میری زندگی بہت پرسکون ہے۔

سوال:اس مظلوم طبقے کے لیے آپ کا مشورہ کیا ہوگا؟

قیصر خان نظامانی:میں متوسط گھرانوں کی لڑکیوں سے ہمیشہ یہ کہتا ہوں ایم اے یا ایم ایس سی کی ڈگری لینے کی بجائے بی اے،بی ایس سی کرنے کے بعد وکالٹ پڑھ لوکیونکہ وکالت پڑھنے کے بعد نہ تمہارا شوہر تم سے بدتمیزی کرسکے گا نہ تمہارے گھر والے اور نہ ہی معاشرے کا کوئی عام آدمی جس عورت کو قانون کی سمجھ بوجھ ہو وہ عورت سماجی سطح پر مضبوط ہوجاتی ہے

سوال:دنیا میں آئیڈیل بیوی یا شوہر کا کوئی حقیقی وجود ہوتا ہے؟

قیصر خان نظامانی:بالکل ہوتےا ہے لیکن ہر جگہ کوئی نہ کوئی کمی ہوتی ہے جسے عقل و دانش مندی سے پورا کیا جاسکتا ہے آج کی عورت بانو قدسیہ کو پڑھ لے تو سمجھ جائے گی کہ عقل و دانش کیا ہے؟گھر کیسے بنایا جاتا ہے؟میاں کو کیسے راضی رکھا جاتا ہے؟اور اگر اشفاق صاحب کو پڑھیں گی تو پتا چلے گا کہ گھر کی عورت کو کیسے راضی رکھنا ہے؟یہ دونوں ہی میرے آئیڈیل میاں بیوی ہے۔

سوال:جب آپ نے فضیلہ سے شادی کا فیصلہ کیا تو آپ کے والدین کے کچھ تحفظات تھے آج اگر آپ کے بیٹے ایسا فیصلہ کریں تو کیا آپ ان کا ساتھ دیں گے؟

قیصر خان نظامانی:ہر شخص کو اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزانے کا حق ہوتا ہے جہا ں تک میرے والدین کی بات ہے ان کی خواہش تھی کہ میں کوئی ہنر سیکھ لوں کیونکہ27 سال کی عمر میں ایک بی ایس سی پاس لڑکا جس کے پاس کوئی مناسب روزگار بھی نہیں ہے اور وہ شادی کا فیصلہ کرتا ہے تو والدین کوتحفطات تو ہوں گے اس لئے میرے والدین چاہتے تھے کہ پہلے اپنے پاﺅں پر کھڑا ہوجاﺅ پھر شادی کرلیناآج میرے بھی دو بیٹے ہیں کل ان کی بھی شادی ہوگی وہ یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں میں نے ان سے پہلے ہی کہ دیا ہے کہ تمہیں جس لڑکی سے تعلق رکھنا ہے اس کی عزت کرو فلرٹ یا کسی قسم کی بدتمیزی نہیں چلے گی اپنی ڈگری مکمل کرو اور اپنا دفتر کھولوکماﺅ اور پھر دوسرے دن شادی کرلو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔

سوال: آپ کی باتوں سے لگتا ہے”باس آف دی ہاﺅس“فضیلہ ہے کیا یہ درست ہیں؟

قیصر خان نظامانی:اختیار ہونا اور اختیار دینا دو مختلف باتیں ہیں قدرت نے عورت کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اپنے گھر سے منسلک رہے کیونکہ گھر بنانا سنوارنا بچوں کو پالنا اور ان کی تربیت کرنا عورت کی فطرت میں شامل ہے مرد یہ کام نہیں کرسکتامرد صرف باہر جاکر کمائی کرتا ہے گھر میں رزق لانے کے لئے دھکے کھاتا ہے یہ اس کا کام ہے۔

سوال:ماضی کی کون سی یادیں زیادہ تنگ کرتی ہے؟

قیصر خان نظامانی:میں اپنے اساتذہ کو بہت یاد کرتا ہوں سکول کالج والے اساتذہ کو نہیں بلکہ جو مجھے اداکاری کی دنیا میں ملے جن میں میرے پروڈیوسرز ڈائریکٹرز اور ساتھی اداکار شامل ہیں جونیجو صاحب ساحرہ کاظمی سلطانہ آپااور محمد شفیع صاحب جب مجھے سکرپٹ ملتا تھا تو یہ لوگ مجھے خود پرفارم کرکے دکھاتے تھے کہ ایسے کرو ایسے کہو مجھے کہتے تھے کہ امیتابھ،دلیپ صاحب کی فلاں فلم دیکھو تاکہ سیکھ لو کون سی بات کس انداز سے کریں گے تو پر اثر ہوگی اب سلطانہ آپا نے اپنا چینل بنالیا ہے مگر سوائے آدھ مارننگ شو کے میں کبھی ان کے چینل پر نہیں گیا ساحرہ کاظمی اب کام نہیں کرتیں میں نے ان سے کئی بار کہا کہ میرے پروڈکشن ہاﺅس کے لیے ڈرامے بنائیں،شفیع صاحب اس دنیا میںنہیں رہے حیدر امام رضوی اور کاظم پاشا صاحب اب بزرگ ہوگئے ہیں شاہد بھائی ریٹائرڈ ہوچکے ہیں یہی دور مجھے یاد آتا ہے۔

سوال:کوئی ادھوری خواہش جو اب تک پوری نہیں ہوئی؟

قیصر خان نظامانی:میں پاکستان کا پرائم منسٹر بننا چاہتا ہوں جو کہ مشکل ہے کیونکہ الیکشن لڑنے کے لئے دوکروڑ روپے چاہئیں جو میرے پاس نہیں ہیں میں نے ماضی میں نیشنل اسمبلی کا الیکشن لڑا تھا مگر کامیابی نہیں ملی میں اس وقت بھی خدمت کے لئے سرگرم ہوں لیکن اگر سیاست گالی ہے تو میں اس کے لیے نہیں ہوں میرے نزدیک سب سے پہلے میرا گھر میرا محلہ میرا شہر اور میرا صوبہ میرا ملک اہم ہیں کوئی اردو بولنے والا ہے اور کوئی سندھی پنجابی یا پشتو بولتا ہے میرے لئے سب برابر ہیں۔

سوال:1990 کی دہائی میں لوگ راتوں رات سٹار بن جاتے تھے آپ کس اداکار کو اپنا حریف سمجھتے تھے؟

قیصر خان نظامانی:میں کبھی مقابلے میں تو پڑا ہی نہیں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے ورک آوٹ کرتا بوٹا کس کرواتا بال لگواتا اورلیپو سکشن کرواتا(شرارتاً)میں نے چائے کے اشتہار میں اپنی اور ریشماں کی تصویر دیکھی تو خیال آیا ،یار میں تو اس وقت بھی بڑا خوبصورت تھا لوگ اب داڑھی رکھ کر کر خوبصورت ہورہے ہیں۔

سوال:آپ کی کوئی بیٹی نہیں ہے تو کیا کبھی بیٹی کی کمی محسوس نہیں ہوتیں؟

قیصر خان نظامانی:وجہ شاید یہ ہے کہ میں کبھی جنگلی پودا بھی اپنے گھر سے نہیں توڑتا تو بیٹی کو بڑا کرکے کسی اور کے گھر میں کیسے بھیج دیتا۔

سوال:آپ کو کون سی چیزیں جمع کرنے کا شوق ہے؟

قیصر خان نظامانی:مجھے اینٹیک یعنی پرانی چیزیں جمع کرنے کا شوق ہے چونکہ تالپور کا شاہی گھرانہ میرا ننھیال ہے جنہوں نے طویل عرصہ سندھ پر حکومت کی اسی نسبت سے میرے پاس کچھ پرانے سکے موجود ہے بادشاہوں کے اصلی خطوط جو وہ جیلوں میں ایک دوسرے کو قاصدوں کے ذریعے پہنچایا کرتے تھے حتیٰ کہ بادشاہوں کے روزمرہ استعمال کی تلواریں خنجر ٹوپیاں گاﺅن اور پہناوے کی چیزیں بھی تھیں جو میرے ننھیال والوں نے کراچی کے میوزیم کو بطور تحفے میں دے دی۔

سوال:کیا میوزک پسند کرتے ہیں؟

قیصر خان نظامانی: آڈیو سسٹم اچھا ہو تو ہر طرح کا میوزک اچھا لگتا ہے میرے پسندیدہ گلوکاروں میں خصوصاً وائٹل سائز،عالمگیر غلام صاحب عدنان سمیع محمد علی شکیی صاحب مہدی حسن صاحب میڈم نور جہاں اور شریا گھوشال شامل ہیں۔