لوگ تاڑنے سے باز نہیں آتے

پرکشش اداکارہ مہوش حیات کہتی ہے میرا لباس عریاں نہیں ہوتا لوگوں کی نظروں میں فتور ہے میں حجاب بھی پہن لوں تو لوگ تاڑنے سے باز نہیں آئیں گے

ہما میر حسن

مہوش حیات حسین اور پرکشش ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی صلاحیتوں سے بھی بخوبی واقف ہیں وہ 6 جنوری1983 کو کراچی میں پیدا ہوئیں ان کی ایک بہن اورتین بھائی ہیں مہوش کہتی ہے کہ جب سے ہوش سنبھالا خود کو شوبز انڈسٹری میں پایا انہوں نے ماڈلنگ سے کیرئیر کا آغاز کیا اور اس کے بعد ٹی وی کا رخ کیا اداکاری کے میدان میں بھی قسمت مہوش پر مہربان ہوئی ان کے مقبول ڈراموں میں بن تیرے،کبھی کبھی،من چلے،پریم لتا،بلو،میرے قاتل میرے دلدار،آخری سانس اور تحفہ وغیرہ ڈرامے شامل ہیں بیوٹی کوئین مہوش محض لالی ووڈ تک محدود نہ رہی ان کی خوبصورتی کے چرچے سرحد پار بھی ہوئے 2008 میں دراز قد حسینہ مہوش کو ایشیا کی دس پرکشش ترین خواتین میں شامل ہونے کا اعزاز ملا فلم نگری میں مہوش نے بنت مریم کے ذریعے قدم رکھا لیکن انہیں شہرت فلم نامعلوم افراد کے آئٹم سانگ”بلی“سے ملی وہ حال ہی میں ایکٹر ان لا اور میں پنجاب نہیں جاﺅں گی جیسی کامیاب فلموں میں بھی نظر آئی ہیں ،”میں پنجاب نہیں جاﺅں گی“انڈسٹری کی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم ثابت ہوئی جس میں مہوش اداکار ہمایوں سعید کے مدمقابل تھیں مہوش آج کل اپنی نئی فلم”لوڈ ویڈنگ“کی تیاریوں میں مصروف ہیں جو رواں برس عیدالاضحی کے موقع پر ریلیز کی جائے گی اداکاری اور ماڈلنگ کے ساتھ ساتھ مہوش گلوکاری سے بھی شعف رکھتی ہے ایک نجی چینل سے انہوں نے کیمپئیرنگ کے فرائض بھی سرانجام دیے ہیں اپنے مختصر کیرئیر میں وہ کئی اعزازات اپنے نام کرچکی ہیں۔

سوال:بچپن کیسا رہا او ر پھر اداکاری کی جانب کیسے مائل ہوئیں؟

مہوش حیات:بچپن بہت حسین تھا اور اس کی یادیں بھی بہت پیاری ہیں بچپن میں سب پیار سے مجھے ”میشو“کہتے تھے اداکاری کا شوق بھی بچپن سے ہی تھا میں نے آٹھ سال کی عمر میں چائلڈ سٹار کی حیثیت سے کام کیا کیونکہ میری والدہ اور بہن کچھ عرصہ اس شعبے سے وابستہ رہی تھیں پہلی بار کیمرے کا سامنا کرنا بھی مجھے آج تک یاد ہے کم عمر ہونے کی وجہ سے سب مجھے سیٹ پرکیوٹ(Cute) بے بی کہتے تھے اور میرے کام کی تعریف کرتے تھے میری والدہ نے ابتداءمیں میری بہت رہنمائی کی میرا تعلق چونکہ ایک تعلیم یافتہ فیملی سے ہے اس لئے شوبز انڈسٹری میں داخلے پر کوئی مخالفت بھی نہیں ہوئی البتہ میں نے گریجوایشن کے بعد باقاعدہ فیشن انڈسٹری میں قدم رکھا ماڈلنگ کے بعد کب منی سکرین کا حصہ بن گئی یاد بھی نہیں،

سوال:عموماً کیرئیر کے آغاز میں اداکارائیں شہرت کے لئے شارٹ کٹ کا استعمال کرتی ہے آپ کا کیا خیال ہے؟

مہوش حیات:میں نے ابتداءسے ہی سوچ رکھا تھا کہ انڈسٹری میں اپنا مقام بناﺅں گی مگر شہرت کے لیے شارٹ کٹ کا استعمال کبھی نہیں کروں گی میں کم اور معیاری کام پر یقین رکھتی ہوں ماڈلنگ کے دوران مجھے ایک بسکٹ کے اشتہار سے شہرت ملی جس کے بعد مجھے ایکٹنگ کی آفرز ہوئیں میں نے اپنے پہلے ڈرامے ”گلابی ساڑھی“کو چیلنج سمجھ کر قبول کیا تھا درحقیقت اس کردار کے ذریعے میری اداکاری کا امتحان تھا جس میں میں بہت حد تک کامیاب رہی اور میری دلچسپی اداکاری میں بڑھ گئی،اپنی اداکاری کے حوالے سے میرا ماننا ہے کہ جب میں پیدا ہوئیں ہوں گی تو وہ خاص لمحہ ہوگا کیونکہ کامیابی نے خود مجھے منتخب کیا ہے میرا سٹار جدی ہیں اس سٹار کے تحت افراد اپنی منزل کی جانب گامزن رہتے ہیں چاہے انہیں کتنی ہی دیر کیوں نہ ہوجائے وہ ہار نہیں مانتے۔

سوال:اینکرنگ،ماڈلنگ،اداکاری اور گلوکاری کون سا شعبہ زیادہ پسند آیا؟

مہوش حیات:جب اینکر بنی تو مجھے یہ کام زیادہ دلچسپ لگا ماڈلنگ اور اداکاری میں آپ کا کردار مختلف ہوتا ہے یہاں کام کرنے والوں کے رویے بھی مختلف ہوتے ہیں لیکن بطور اینکر آپ اپنی حقیقی شخصیت کے ساتھ موجود ہوتے ہیں بطور میزبان آپ کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہے بہر حال میں بطور اینکر پرسن فخر محسوس کرتی ہوں کیونکہ یہ میری پہچان بن چکی ہے ماڈلنگ سے تو اکثر فنکار ایکٹنگ کی طرف آئے ہیں اگرچہ اداکار بھی ماڈلنگ کی جانب راغب ہوتے ہیں لیکن یہ تعداد بہت کم ہیں،

سوال:آپ کو انڈسٹری میں کون سے اداکار اچھے لگتے ہیں؟

مہوش حیات:بہت سے اداکار اچھے لگتے ہیں جن کے ساتھ میں کام بھی کرتی ہوں جیسے احسن خان ہمایوں سعید البتہ میرے ڈائریکٹر شعیب منصور اور اداکار شان منصور کے ساتھ کام کرنے کی خواہش ہیں ویسے آج کل میں اپنی فیورٹ ٹیم نبیل قریشی اور فضا کی ہدایت کاری میں بننے والی ایک فلم ”لوڈ ویڈنگ“میں کام کررہی ہوں جبکہ میرے ساتھ اداکار فہد مصطفی سکرین شئیر کریں گے ان تینوں کے ساتھ میں نے ایکٹر ان لاءمیں کام کرکے بہت انجوائے کیا تھا۔

سوال:کیا آپ کے خیال میں حسن شہرت کی ضمانت ہیں؟

مہوش حیات:میرے نزدیک حقیقی حسن آپ کا رویہ ہے جسمانی خوبصورتی تو وقت کے ساتھ ماند پڑجاتی ہے لیکن ذہنی خوبصورتی ہمیشہ قائم رہتی ہے مجھے ہمیشہ ذہانت اور اچھی گفتگو متاثر کرتی ہیں لڑکیوں اور خاص طور پر ہیروئنز کو اپنی تعریف پسند ہوتی ہے لوگ میرے حسن کی بھی تعریف کرتے ہیں مگر میں باصلاحیت ادکارہ کہلوانا زیادہ پسند کرتی ہوں میرے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ میں مغرور ہوں مگر حقیقت اس کے برعکس ہے میں انڈسٹری میں ہر دلعزیز ہوں البتہ میں زیادہ لوگوں کو دوست نہیں بناتی اور نہ ہی زیادہ لوگوں پر اعتماد کرتی ہوں۔

سوال:آپ نے شادی کے حوالے سے کیا سوچ رکھا ہے؟

مہوش حیات:میں ایسے شخص سے شادی کروں گی جس سے میری ذہنی مطابقت ہوگی جو میرے کام کی عزت کرے گا اور مجھے کام کرنے سے نہیں روکے گا جب بھی کوئی خوابوں کا شہزادہ ملا شادی کرلوں گی میرا خیال ہے کہ اس دنیا میں کہیں نہ کہیں میرا شریک سفر موجود ہیں مگر فی الحال میں اپنی کامیابی اور شہرت انجوائے کرنا چاہتی ہوں ویسے (مسکراتے ہوئے)میں شادی کرکے اپنی آزادی ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی،

سوال:آپ کو اکثر بولڈ لباس پہننے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟

مہوش حیات:میں بے شرم نہیں ہوں اور نہ ہی میرا لباس عریاں ہوتا ہے دراصل لوگوں کی نظروں میں فتور ہیں میں اگر حجاب بھی پہن لوں تو لوگ تاڑنے سے باز نہیں آئیں گے لوگ ہر حال میں اداکاراﺅں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ملک کے مجموعی طور پر صورتحال ایسی ہے کہ خواتین کو ہی مختلف بہانوں سے ہراسا کیا جاتا ہے یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ خواتین بولڈ لباس پہنیں گی تو لوگ انہیں ہراساں نہیں کریں گے وہ تو نقاب والیوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔

سوال:بالی ووڈ سے آفر کا انتظار تو ہگا؟

مہوش حیات:مجھے بھارتی فلموں میں کام کرنے کے بارے میں سوچنے کی فرصت ہی نہیں ہے مجھے اپنے ملک پاکستان نے ہی سٹار بنادیا ہے اور مجھے ایک شناخت اور پہچان دی ہے آج دنیا میں جہاں کہیں بھی جاتی ہوں مداح مجھے بحیثیت پاکستانی پہنچانتے ہیں تو بے پناہ خوشی ہوتی ہے میں پاکستانی فلموں کو سپر سٹار کہلوانا چاہتی ہوں مجھے بالی ووڈ سے کوئی دلچسپی نہیں ویسے ہمارے یہاں کی بعض فنکارائیں بالی ووڈ میں کام کرنے کے بیتاب ہوتی ہے چاہے انہیں مختصر رول کے لئے ہی کیوں نہ کاسٹ کیا جائے ہر خطے کی ایک ثقافت ایک ہے ہمیں اپنی شناخت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی کسی دوسرے کی شناخت سے متاثر ہوکر اپنا فن نکھارنا چاہیے اگر ہم انڈین ڈراموں کی سی کلاس نقالی کررہے ہیں تو اپنے بہترین آئیڈیاز کو خراب کررہی ہیں البتہ یہ درست ہے کہ فن کو سرحد میں قید نہیں کیا جاسکتا۔

سوال:سننے میں آیا تھا کہ آپ بے نظیر کا کردار ادا کررہی ہیں؟

مہوش حیات:مجھے خوشی ہوگی کہ اگر میں کسی بائیو گرافی فلم میں بے نظیر کا کردار نبھاﺅں تاہم اس خبر میں حقیقت نہیں کہ میں بے نظیر کا کردار کررہی ہوں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ میں بے نظیر کے کردار کے لئے بہترین رہوں گی میری بھی خواہش ہے کہ میں اپنی پسندیدہ سیاست دان اور بہترین خاتون کا کردار کروں۔

سوال:سینئر اداکار نئے اداکاروں سے حسد کرتے دکھائی دیتے ہیں آپ کیا تبصرہ کریں گی؟

مہوش حیات:جب تک نئے لوگ کسی شعبے میں نہیں آئیں گے فلم ہو یا فیشن کوئی بھی انڈسٹری ترقی نہیں کرسکتی سینئرز کب تک یہ ذمہ داریاں نبھاسکتے ہیں اور آپ نئے لوگوں کا راستہ بھی نہیں روک سکتے اگر ان میں ٹیلنٹ ہوگا تو وہ خودبخود اپنا راستہ بنالیں گے مجھے سینئر اداکاراﺅں میں نادیہ جمیل اور ثانیہ سعید بہت اچھی لگتی ہیں اداکارہ عائشہ خان نے ایک ڈرامے میں بڑی بہن کا رول کیا تھا بس مجھے ان کا رویہ پسند نہیں آیا مجھے بہت دکھ ہوتا ہے جن سینئر کو ہم اپنا آئیڈیل مانتے ہیں وہ ہماری کامیابی سے حسد کرتے ہیں ایسے سینئر کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ میرا موڈ خراب ہوجس سے میری پرفارمنس میں فرق آئے تاہم میں انہیں نظر انداز کردیتی ہوں۔

سوال:کون سا کردار ادا کرنے کی خواہش ہے؟

مہوش حیات: میری بہت سی خواہشات ہیں جن کی تکمیل کے لئے میں محنت کررہی ہوںروزمرہ زندگی بہت سارے کردار میں دیکھتی ہوں اور میری یہ خواہش ہوتی ہے کہ انہیں پرفارم کروں جیسے ایک جھگی نشین عورت ایک نابینا اور گونگی بہری عورت شہزادی ڈیانا ایسے کردار ہیں جنہیں کرنے کی خواہش ہے شاید مستقبل میں مجھے کوئی ایسا کردار مل جائے آگئے آگئے دیکھے ہوتا ہے کیا؟

سوال:آخر انڈسٹری کی بحالی حکومت کی ترجیحات میں کیوں شامل نہیں؟

مہوش حیات:ہمارے ملک کے حالات اگرچہ زیادہ اچھے نہیں ہے لیکن دوسری جانب دیکھا جائے تو فنکار ریاست کی ترجیحات میں شامل نہیں اس لئے انہیں فراموش کردیا جاتا ہے فنکار کو کام ملتا ہے نہیں ملتا اس کی معاشی مجبوریاں کیا ہیں؟حکومت کو کوئی سروکار نہیں فنکار کی زندگی میں ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جب وہ اپنے تجربات کو بیان کرنے کا اہل ہوتا ہے اس لئے میری یہ خوش نصیبی ہوگی کہ میں اپنے ملک کے ہیروز اور اہم شخصیات پر کوئی ڈرامہ یا فلم پروڈیوس کرسکوں جس کا سکرپٹ بھی میں خود لکھوں گی۔