شادی ختم ہوئی لیکن زندگی چلتی رہی

طاہرہ سید کہتی ہیں کہ نعیم بخاری سے شادی کافیصلہ سوچ سمجھ کرہی کیا تھا ،اس وقت نہیں جا نتی تھی کہ نبھا نہیں سکوں گی

 فرح عماد

عموماََدیکھنے میںآ یا ہے کہ والدین جس شعبے میں ہوں ،بچے بھی اسی میں اپنانام اور مقام بناتے ہیں اور اگر والدین اپنے کیرئیر میں کامیاب ہوں توبچوں کے لئے راستے خود بخود آسان ہو جاتے ہیں ۔اس حد تک تو یہ بات ٹھیک ہے لیکن والدین کا نام اور مقام کسی بھی بچے کے کیرئیر کی کامیا بی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔بچہ جتنی محنت کر تا ہے وہ اتنا ہی آگے جاتا ہے .... یہاں اگر ہم بات کریں ملکہ پکھراج کی ، تو وہ گائیکی میں اپنا ایک نام اور مقام رکھتی تھیں جبکہ ان کی بیٹی ” طاہر ہ سید “ شاید ان کی طرح اپنی صلاحیتوں کا لو ہا نہیں منوا سکیں ۔اس با ت کو طاہر ہ خود بھی تسلیم کر تی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ محنت سے گھبراتی ہوں اورایسے کاموں میں نہیں پڑتی جن میں بہت زیادہ محنت درکار ہو ۔ طا ہرہ کاکہنا ہے کہ ان کی آواز فلموں کے لئے موزوں یہ تھی ۔انتہائی دلکش اور سلجھی ہوئی شخصیت کی مالک یہ خاتون بتاتی ہیں کہ ان کی والدہ ان پر بہت روک ٹوک کیاکرتی تھیں لیکن میں نے اپنے بچوں پر اسطرح کبھی روک ٹوک نہیں کی کیونکہ وقت کے تقاضے بدل چکے ہیں ۔ طاہرہ تےئس برس کی عمر میں معر وف قا نون دان نعیم بخاری کے سا تھ شا دی کے بند ھن میں بندھ گئیں ۔ ان کے دو بچے ہیں ایک بیٹی اور ایک بیٹا ،بیٹی امر یکہ میں رہتی ہیں اور بیٹا عمان میں .... والدین کی طرح دونوں بچے بھی وکیل ہیں اور کامیا ب ازدواجی زند گیا ں گزار رہے ہیں ۔طاہرہ سید کے سا تھ ایک خصوصی نشست میں ہو نے والی گفتگو کچھ یوں ہے ۔

سوال : کہاں پیدا ہو ئیں اور بچپن کہا گزارا ؟

طاہرہ سید : میں لاہور میں پیدا ہوئی اور سارا بچپن یہیں گزار ۔اس شہر سے میری بہت ساری یادیں وابستہ ہیں ، میں نے اسی شہر میں پڑھائی مکمل کی ۔

سوال : بچپن میں کیسی تھیں شرارتی یا سنجیدہ ؟

طاہرہ سید : میں بہت سنجیدہ قسم کی بچی تھی ، شرارتوں کا تو پتہ ہی نہیں تھا کہ کیا ہوتی ہیں ؟ بس اپنے کام سے کام رکھتی تھی ۔

سوال : جیسا کہ آپ بتاتی ہیں ،والد ڈانٹ ڈیپ تو بہت کر تی ہو گی ؟

طاہرہ سید : وہ والدین ہی کیا جو ڈا نٹ نہ کریں اور میری والدہ تو ویسے ہی مزاج کی بہت سخت عورت تھیں ،اس لئے روک ٹوک بھی زیادہ کر تی تھیں ۔ وہ اکثر مجھے کہا کر تیں کہ دو پٹہ ٹھیک طرح سے اوڑھو ،بو لنے کا انداز ٹھیک ہو نا چاہیے ، تلفظ کی ادائیگی بگاڑ کر نہیں کر نی .... وہ اکثر کہا کرتی تھیں کہ محفل ہو یا گھر ہر جگہ گفتگو نفیس انداز سے ہی کر نی چا ہیے۔

سوال : تو کیا آپ نے بھی اپنے بچوں کے ساتھ یہی رویہ ا پنایا ؟

طاہر ہ سید : جس وقت میری شادی ہو ئی اور میر ے بچے ہو ئے تو وقت تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا ، ہر چیز کے تقا ضے بدل رہے تھے .... میں نے محسوس کیا کہ ضرورت سے زیادہ روک ٹوک کی تو بچے مجھ سے بیزار ہو جائیں گے لہٰذا میں نے بہت زیادہ روک ٹوک سے کام نہیں لیا لیکن بچوں کی بنیاد ی تر بیت ضرور کی مثلا َ کو اٹھنے بیٹھنے اور بات کر نے ، بڑوں سے پیش آنے کا ڈھنگ ضرور بتایا ۔ میں سمجھتی ہوں کہ جب وقت تیزی سے ہاتھوں سے نکل رہا ہوتو وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے سمجھداری سے کام لینا چا ہیے ورنہ پچھتاوے کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آتا ! !

سوال : کس عمر میں والدہ کی طرح گانے کی امنگ پیداہوئی ؟

طاہرہ سید : امی کی طرح گانے کی امنگ میرے دل میں بالکل بھی پیدا نہیں ہوئی ، ہاں میری والدہ کو یہ شوق ضرور تھا کہ میں گائیکہ بنوں ،اس کے لئے انہوں نے مجھے با قا عدہ گانا سکھا تی تھیں ۔سمجھ لیں کہ میں نے جتنا بھی گایا دہ سب میری والد ہ کی ہی کو ششیں ہیں ۔

سوال : آپ کے بھائی شاید آپ کی گائیکی کے خلاف تھے ؟

طاہرہ سید : ان وقتوں میں گانے کو اتنا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا ،جہاں باہر کے لوگ ” کنز رو یٹیو “ تھے ،ویسے ہی میرے بھائی بھی تھے ۔دراصل وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں گانا گاوٴں ۔

سوال : کہا جاتا ہے کہ پہلا گانارات کے اندھیرے میں ریکارڈ کر وایا ،کیا یہ سچ ہے ؟

طاہرہ سید : اس کی وجہ ایک تو یہ تھی کہ میری والدہ بھی روایتی ماوٴں ہی کی طرح تھیں ،دوسرا اس وقت گانے کو اتنا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا ۔ چنانچہ جب میرے پہلے گانے کی ریکارڈ نگ تھی تو میری والدہ نے کہا کہ میری بیٹی رات کے اند ھیرے میں سٹوڈ یو آکر گانا ریکارڈ کر وائے گی اور جب وہ گانا ریکارڈ کروانے آئے تو اس وقت سٹو ڈیو میں کوئی غیر متعلقہ شخص نہ ہو ۔ اندازہ لگائیں کہ اس گانے کی سٹو ڈیو کی بجائے ریہر سل ہمارے گھر پر ہو تی رہی ۔

جب وقت تیزی سے ہاتھوں سے نکل رہا ہو تو سمجھداری سے کام لینا چاہیے ورنہ پچھتاوے کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آتا

سوال: کس عمر میں پہلی بارٹی وی پرآئیں ؟

طاہرہ سید : میں چودہ برس کی عمر میں پہلی بارٹی وی پر آئی لیکن خود کو ٹی وی پر دیکھ کر میں نے کسی غیر معمولی رد عمل کا اظہار نہیں کیا تھا۔

سوال : ” سُر کا سفر“ پرو گرام ہٹ ہونے کے با وجود آپ کے پاس آفرز کا ڈھیر نہیں لگا ،ایسا کیوں ؟

طاہرہ سید : اس وقت ایک چینل کے علا وہ کو ئی دوسرا چینل تو تھا نہیں تو آفرز کہاں سے آتیں ،بس جتنا کام ملتا تھا کر لیتی تھی ۔میں خود بھی اس پرو فیشن کے بارے میں سنجیدہ نہیں تھی اسی لئے میں میوزک کے شعبے میں بہت آگے تک نہ جا سکی اور اس چیز کا مجھے با لکل بھی افسو س نہیں کیو نکہ ،الحمد اللہ میں ایک مطمئن زندگی گزار رہی ہوں ۔

سوال: کمر شل گلو کاری کی طرف نہ آنے کی کیا وجہ تھی ؟

طاہرہ سید : میں نے کبھی خود کو ” کلاس “ کی سنگر سمجھا ہی نہیں اور مجھے بہت شروع سے ہی یہ معلو م تھا کہ میری آواز نہ کمر شل گلو کاری کے لئے موزوں اور نہ ہی فلموں کے لئے....اس کے علاوہ سچ بتاوٴں تو مجھے کبھی کمر شل گلو کا ری کے لئے آفر آئی بھی نہیں ۔

سوال : اپنی والدہ کو گائیکی میں کس مقام پر دیکھتی ہیں ؟

طاہرہ سید : میں سمجھتی ہوں کہ اپنے ہم عصروں میں میری والدہ کا مقام سب سے بلند ہے ۔انہوں نے گائیکی کو ایک بالکل نیا اوراچھوتا انداز دیا ۔ان کی گائی ہوئی غزلیں ،گیت ، ٹھمر یاںآ ج بھی مو سیقی کے طالب علموں کے لئے مشعل راہ ہیں اور یہی بات ان کی گائیکی کو دیگر گلوکاروں سے ممتاز کر تی ہے ۔

سوال : والدہ کے علاوہ آپ کو کس گلوکار نے متاثر کیا ؟

طاہرہ سید : مجھے بیگم اختر ، مہدی حسن اور نصرت فتح علی خان کی گلوکاری ہمیشہ متاثر کر تی ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو گائیکی کی بار یکیوں کو اچھی طرح سمجھتے تھے ۔

سوال: گھر میں سلیبر ٹیز کا آنا جانا بھی ہوتا ہوگا ؟

طاہرہ سید : ہا ں جی ہمارے گھر کا ماحول بہت ہی شاعر انہ اور مو سیقی سے بھر پور ،اہم شخصیات کا گھر میں آنا جانا بھی رہتا ....فیض احمد فیض اور رفیق غز نوی جیسے لوگ جب بھی آتے ،ان کی محافل میں بیٹھ کر بہت کچھ سیکھنے کو ملتا اور یہی اس وقت کی سب سے خو بصورت چیز تھی کہ ہم ان بڑے لو گوں کی باتیں سنتے ہی نہیں تھے بلکہ سمجھا اور سیکھا بھی کر تے تھے ۔

سوال : آج کل کی مو سیقی سے کتنی مطمئن ہیں ؟

طاہر ہ سید : مو جودہ مو سیقی وقت کے مطابق تو ٹھیک ہے ،جیسے وقت تقاضے ہیں ویسی ہی مو سیقی تخلیق ہو رہی ہے ۔ البتہ آج مجھے جو بات سب سے زیادہ اچھی لگتی ہے وہ یہ کہ گلو کا روں کو ان کی ڈیمانڈ کے مطابق پیسے دئیے جاتے ہیں ۔

سوال: آپ کے دور میں بھی مقابلہ تو ہو تا تھا ،آپ کس گلو کارہ یا گلو کار سے گھبرایا کرتی تھیں ؟

طاہرہ سید : میرا کسی سے مقا بلہ تب ہوتا نہ جب میں نے مو سیقی کو اپنا کیر ئیر بنایا ہوتا ؟ میرے دور میں جو گلو کار تھے وہ سب کے سب پرو فیشنل تھے اور میں کبھی کبھی گا تی تھی ایسی صو رتحا ل میں مقابلہ یا گھبرا ہٹ کیسی ؟

سوال: نئے گلو کار غزل گائیکی کی طرف نہیں آرہے ،اس کی کیا وجہ ہے ؟

طاہرہ سید : ہر انسان وہی کا م کرتا ہے جو اسے آسان لگتا ئے ،اب غزل گا نا اتنا آسان تو ہے نہیں ....اس کے لئے آپ کو ریاضت کے ساتھ ساتھ بہت سا ری چیزوں پر توجہ دینی ہو تی ہے شا ید اسی لئے آج کے نو جوان گلو کار غزل کی طرف آنے سے گھبر اتے ہیں ۔

سوال ۔بہت سے پرانے لوگ اکثر ٹی وی کے پروگرامز میں نظر آتے ہیں ،کبھی نظر نہیں آئیں ؟

طاہرہ سید : میں جتنا ہو سکے پر و گرامو ں میں شرکت کر تی ہوں ، جب ملک میں نہ ہوں تو الگ بات ہے ...باقی جتنا عرصہ پا کستان میں ہو تی ہوں کیونکہ صبح کے وقت اٹھنا میرے لئے کسی امتحان سے کم نہیں ہو تا ۔

سوال : آپ بہت خو بصورت ملبو سات زیب تن کر تی ہیں ،یہ آپ کی اپنی چوائس ہو تی ہے یا کسی ڈیزائنر کی؟

طاہرہ سید : میں لباس ہمیشہ اپنی چوائس کے مطابق ہی پہنتی ہوں مجھے کبھی کسی ڈیزائنر نے جوڑا نہیں بھیجا ،ویسے بھی میں کون سی عر وہ یا ماور احسین ہوں ( قہقہہ لگا تے ہوئے ) اگر کبھی کسی ڈیزائنر کو شوق سے پہنتی ہوں تو وہ حسن شہر یار ،ایچ ایس وائے میرے بیٹوں کی طرح ہے ۔

سوال : لباس کا انتخاب کرتے وقت کن رنگوں کو تر جیح دیتی ہیں ؟

طاہرہ سید : مجھے سب ہی رنگ پسند ہیں ،تمام رنگوں میں خود کو اچھی لگتی ہوں صرف مسڑڈ اور کا سنی رنگ پہننا پسند نہیں ۔

سوال : شادی کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا تھا یا جلد بازی میں ؟

طاہرہ سید : 23سال کی عمر میں کسی بھی لڑکے یا لڑکی میں جتنی سمجھ ہوتی ہے ا س حساب سے تو فیصلہ سوچ سمجھ کرہی کیا تھا ،اب رشتہ کامیاب نہ ہو سکا تو یہ الگ بات ہے ۔ بہر حال معلوم نہ تھا کہ نبھا نہ سکوں گی ۔

سوال : ازدواجی زندگی میں نا کامی کے بعد کس طرح خود کو سنبھالا ؟

طاہرہ سید : زندگی میں اچھے برے وقت آتے ہیں ،رشتے کی نا کامی کا مطلب یہ تو نہیں کہ زندگی ہے ۔ایک رشتہ بنایا ،چلا بس ٹھیک ہے ۔

سوال : کبھی دوسری شادی کرنے کا خیال نہیں آیا ؟

طاہرہ سید : نہیں ، میرے دل میں کبھی ایسا خیال نہیں آیا کیونکہ شادی کا سب سے بڑا تحفہ میرے دو بچے ہیں اور وہی میرے لئے سب کچھ ہیں ۔ان کی اچھی پرورش ہی میری زندگی کا مقصد تھا جس میں اللہ نے مجھے سر خرو کیا ہے ۔

مجھے شروع سے ہی یہ معلو م تھاکہ میری آواز نہ تو کمرشل گلو کاری کے لئے موزوں ہے اور نہ ہی فلموں کے لئے

سوال : بچوں کو اکیلے پالنا کتنا مشکل لگا ؟

طاہرہ سید : مجھے بچوں کو اکیلے پا لنا با لکل بھی مشکل نہیں لگا ،میں سمجھتی ہوں کہ جو مائیں مالی طور پر مستحکم نہیں ہو تیں شایدان کے لئے مشکل ہو تی ہو گی مگر میرے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا اس لئے کبھی محسوس نہیں ہوا کہ میں بچوں کو اکیلے پال رہی ہوں

سوال: آپ نے بتایا کہ آپ کا داماد آپ کے ہاتھ کا بنا کھا نا بہت شوق سے کھاتا ہے ،ایسا کیا بنا تیں ہیں آپ ؟

طاہرہ سید : میری بیٹی ،داماد اور ان بچے بھی میرے ہاتھ کا کھانوں کو بے حد پسند کرتے ہیں اور میں چاول کے علاوہ سب کچھ بنا لیتی ہوں ۔ جب بھی بیٹی کے پاس امریکہ جاتی ہوں تو آلو گوشت ،ٹماٹر گوشت ،قیمہ ،بھنا ہوا مرغ ،کڑی اور دال وغیرہ کی فر مائش اکثر ہوتی رہتی ہے جسے میں شوق سے پورا کرتی ہوں ۔

سوال : آپ سماجی کاموں میں بھی بہت مصروف رہتی ہیں ؟

طاہرہ سید : جی! جتنا ہو سکتاہے میں دوسروں کے کام آنے کی کو شش کرتی ہوں انسانی بھلائی کے لئے کام کرنے والی مختلف تنظیموں کے لئے میں اب تک تقر یباََ سو شوز کر چکی ہوں اور یہ بتانے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ میں اس قسم کے شوز کا معاوضہ نہیں لیتی ۔

سوال : حال ہی میں آپ نے ” کشف “ کیلئے گایا ہے اس کے بارے میں کچھ بتائیے؟

طاہرہ سید : کشف فاوٴنڈیشن میری بھانجی روشا نے ظفرکی ہے ،اس نے مجھے کہاکہ آپ ایک گانا گادیں تومیں نے گادیا ۔

سوال : آپ کو کن باتوں پر آج بھی غصہ آتاہے ؟

طاہرہ سید : جب کوئی وقت کی پا بندی نہ کرے ،کمٹمنٹ پوری نہ کرے ...اس کے علاوہ وہ لمحہ میرے لئے بہت زیادہ تکلیف دہ ہوتاہے جب والدین بچوں کے ساتھ انگلش میں بات کررہے ہوں کہ بچہ اردو نہیں جانتا ۔میرے سامنے کوئی بھی ایسا کرے تو میں ان سے باقاعدہ کہتی ہوں کہ اردو ہماری مادرن زبان ہے ،بچوں کو اردو بھی سکھائیں ۔افسوس ہوتاہے کہ ہم اردو بولنے پر شر مندگی محسوس کرنے لگے ہیں جبکہ میں اپنی بیٹی کے بچوں کے ساتھ پنجابی بھی بو لتی ہوں ۔

سوال : کوئی پیغام دینا چا ہیں گی ؟

طاہر ہ سید : غریبوں کی مدد کریں اور کوشش کریں کہ آپ کی وجہ سے کسی کا دل نہ دکھے ۔کسی انسان کا دل دکھانے سے بڑا گناہ کوئی نہیں ۔