سٹیج ڈراموں میں پرفارم کرنا مشکل کام ہے

اداکارہ و گلوکارہ سدرہ نور کا شمار پاکستان کی چند ان فنکارائوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف اداکاری کے حوالے سے تین بڑے شعبوں ٹی وی، فلم اور سٹیج میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ

سیف اللہ سپرا

اداکارہ و گلوکارہ سدرہ نور کا شمار پاکستان کی چند ان فنکارائوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف اداکاری کے حوالے سے تین بڑے شعبوں ٹی وی، فلم اور سٹیج میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ گلوکاری کے میدان میں بھی اپنی ایک الگ شناخت بنائی۔ اداکاری کے حوالے سے فلم سب سے مقبول اور بڑا میڈیم ہے۔ سدرہ نور نے اردو، پنجابی اور پشتو تین زبانوں کی فلموں میں کام کیا ہے۔ انہوں نے سینکڑوں کی تعداد میں سٹیج ڈرامے کئے ہیں۔متعدد ٹی وی ڈراموں میںکام کیا ہے۔ ماڈلنگ بھی کی ہے۔ قصہ مختصر کہ انہوں نے پرفارمنگ آرٹ کے تقریباً تمام شعبوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے انتہائی مختصر وقت میں اپنے پرستاروں اور مداحوں کی ایک بڑی تعداد بنا لی ہے۔ آج کل وہ گلوکاری پر زیادہ فوکس کر رہی ہیں۔ انہوںنے خوبصورت گیتوں پر مبنی ایک البم بھی تیار کر لیا ہے جو بہت جلد ریلیز کر رہی ہیں۔ پاکستان کی اس خوبرو اور باصلاحیت فن کارہ کے ساتھ گزشتہ دنوں ایک نشست ہوئی جس میں شوبز انڈسٹری، ان کی فنی اور نجی زندگی کے حوالے سے تفصیل کے ساتھ گفتگو کی گئی جس کے منتخب حصے قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش کئے جا رہے ہیں:

س: آپ اپنے فنی سفر کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

ج: اداکاری کا مجھے بچپن سے ہی بہت شوق تھا اور یہ شوق مجھے ٹی وی ڈرامے دیکھ کر پیدا ہوا۔ اداکاری کے اس شوق میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب میں اپنے سکول میں ہم نصابی سرگرمیوں جن میں ٹیبلو اور ڈرامے شامل تھے، میں حصہ لیتی تو میری کلاس فیلوز اور میری اساتذہ میری پرفارمنس دیکھ کر میری بہت حوصلہ افزائی کرتیں۔ جب تعلیم سے فارغ ہوئی تو مجھے لاہور کے تماثیل تھیٹر میں زیر نمائش ڈرامہ’’گھنگھرو گرا شریفوں میں ‘‘ میں اداکاری کی پیش کش ہوئی جو میں نے قبول کر لی۔ یہ غالباً سال 2002ء کی بات ہے۔ اس ڈرامے کے پروڈیوسر سید افضال احمد اور ڈائریکٹر عرفان کھوسٹ تھے۔ اس ڈرامے میں میری پرفارمنس بہت پسند کی گئی اور جب یہ ڈرامہ ختم ہوا تو مجھے مزید کئی سٹیج ڈراموں ٹی وی اور فلموں میں پیش کش ہوئی میں نے دھڑا دھڑ ڈرامے اور فلمیں سائن نہیں کی بلکہ منتخب کام کیا اور معیاری کام کیا۔ میں نے سینکڑوں کی تعداد میں سٹیج ڈرامے کئے اور درجنوں فلموں میں کام کیا اوراب بھی کر رہی ہوں اب اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری بھی کر رہی ہوں میرا پہلا البم مکمل ہو گیا ہے جو بہت جلد ریلیز ہو گا۔ میری مقبول فلموں میں فلم ’’سوہا جوڑا‘‘ سرفہرست ہے اس فلم میں مجھ پرتین گانے عکسبند کئے گئے۔ یہ فلم سپرہٹ ہوئی۔ یہ پنجابی فلم تھی اور پرویز رانا اس کے ڈائریکٹر تھے۔ اس کے علاوہ ایک اردو فلم ’’دلہن ایک رات کی‘‘میں کام کیا۔ اس فلم میں میرے ساتھ اداکارہ ثنا اور شان تھے۔ ایک اور اردو فلم جھلک میں میں بھی کام کیا۔ اردو فلم’’ زمین کے خدا‘‘ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ پنجابی فلم سرکار میں بھی میرا مرکزی کردار تھا۔ ایک میری فلم ’’کالو شاہ پوریا‘‘ تھی اس فلم میں میرا آئٹم سانگ تھا۔

س: کیا آپ نے پشتو فلموں میں بھی کام کیا اور پشتو فلموں میں کام کا تجربہ کیسا رہا؟

ج: جی ہاں میں نے پشتو فلموں میں بھی کام کیا ہے۔ جو حقیقی آرٹسٹ ہے اس نے تو کام کرنا ہے فلم جس زبان میں بھی ہو جینوئن آرٹسٹ اس میں کام کرے گا۔ میں نے پنجابی فلموں میں بھی کام کیا ہے۔ اردو فلموں میں بھی کام کیا ہے اور پشتو فلموں میں بھی کام کیا ہے۔ بلکہ میری پشتو فلموں کی تعداد تو بہت زیادہ ہے۔ میری مقبول پشتو فلموں میں زخم، ستمگر، زورآور، کاکی جان، ذبادشاہ یم، جوش، دشمنی، غدار، انتہا اور جشن شامل ہیں۔ میں نے زیادہ تر پشتو فلمیں ڈائریکٹر ارشد خان ، حاجی نادر خان اور معروف فلمساز ادارے شاہد فلمز کے ساتھ کی ہیں۔

س: ٹی وی ڈراموں کا تجربہ کیسا رہا؟

ج: میں نے زیادہ تر فلموں اور سٹیج ڈراموںمیں کام کیا ہے۔ ٹی وی ڈراموں میں کم کام کیا ہے۔ اسلیے کہ سٹیج ڈرامے میں روزانہ پرفارم کرنا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ فلموں میں بہت مصروفیت تھی اسلئے ٹی وی کو زیادہ ٹائم نہ دے سکی۔ جہاں تک ٹی وی کے تجربے کا سوال ہے تو میں کہوں گی کہ بہترین میڈیم اور اچھا تجربہ رہا۔ میرا ٹی وی ڈرامہ ’’بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے‘‘ بہت مشہور ہوا۔

س: سٹیج ڈراموں کا تجربہ کیسا رہا؟

ج: میں نے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز ہی سٹیج ڈراموں سے کیا اور سٹیج ڈرامہ میرے لئے بہت لکی ثابت ہوا۔ میں نے سینکڑوں کی تعداد میں سٹیج ڈرامے کئے جن میں افضال احمد کا ڈرامہ گھنگھرو گرا شریفوں میں‘‘ سہیل احمد کا ڈرامہ امرائو جان اداء ہدایت کار نسیم وکی کا ڈرامہ رباعشق نہ ہووے، شامل ہیں۔ میں کہتی ہوں کہ سٹیج پر فارم کرنا سب سے زیادہ مشکل ہے وہ اس لحاظ سے کہ فلم ہو یا ٹی وی ڈرامہ اس کی عکسبندی کے دوران ری ٹیک کی گنجائش ہوتی ہے اس کے مقابلے میں سٹیج ڈرامے میں ری ٹیک کی گنجائش نہیں ہوتی۔ فنکار اچھی یا بری پرفارمنس دے تو اسے موقع پر ہی رسپانس مل جاتا ہے۔

س: آپ کا گلوکاری کا شوق کہاں تک پہنچا ہے؟

ج: گلوکاری کا شوق بھی پورا ہو گیا ہے آج کل زیادہ تر فوکس گلوکاری پر ہی ہے۔ پہلا البم تیار ہو گیا ہے جو بہت جلد ریلیز کیا جائے گا۔

س: آپ اداکاری بھی کر رہی ہیں اور گلوکاری بھی، کس شعبے کو زیادہ انجوائے کرتی ہیں؟

ج: اداکاری کا اپنا مزہ ہے اور گلوکاری کا اپنا میں دونوں شعبوں میں کام کرکے انجوائے کرتی ہوں۔

س:پاکستان کی فلم انڈسٹری کے حوالے سے آپ کیا کہیں گی؟

ج:پاکستان میں چند برسوں سے اچھی فلمیں بن رہی ہیں جن میں میں ہوں شاہد آفریدی، بن روئے، رانگ نمبر، پنجاب نہیں جائوں گی، لاہور سے کراچی، مہرالنسا وی لب یو،وار،طیفا ان ٹربل،جوانی پھر نہیں آنی،پرواز ہے جنون،پرچی،لوڈویڈنگ،آزادی،وجود اور سات دن محبت ان شامل ہیں۔ان فلموں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ اب بھی اچھی فلمیں بن رہی ہیں مجھے امید ہے کہ پاکستان کی فلم انڈسٹری بہت جلد اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر لے گی۔

س: کیا آپ کو گھرداری سے دلچسپی ہے؟

ج: جی ہاں مجھے گھر داری سے بہت دلچسپی ہے۔ میں ہر قسم کے کھانے بنا لیتی ہوں۔ گھرکی سجاوٹ خود کرتی ہوں۔

س: اپنے پرستاروں کو کوئی پیغام دینا چاہتی ہیں؟

ج: میں اپنے پرستاروں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں ملک میں امن و امان کے قیام کے لئے کام کریں۔ اس ملک میں کسی چیز کی کمی نہیں امن ہو گا تو ملک ترقی کرے گا۔