سٹیج ڈرامہ مجروں کی نذر ہوگیا

کامیڈین سلیم البیلا کہتے ہیں کہ سٹیج ڈرامہ تو آج بھی ہورہا ہے لیکن یہ وہ سٹیج نہیں جو سینئر نے ہمارے حوالے کیا تھا کیونکہ اب اس کا دارومدار صرف مجرے پر رہ گیا ہے

محمد اظہر

لاہور میں تھیٹر کی تاریخ بہت پرانی ہے اگرچہ یہاں قیام پاکستان سے پہلے بھی تھیٹر کا دور دورہ تھا لیکن 80 کے عشرے میں مزاحیہ تھیٹر نے عروج دیکھا تب امان اللہ طارق جاوید،شوکی خان عابد خان جاوید کوڈو سہیل احمد،البیلا ببو برال مستانہ اور کئی دیگر فنکاروں نے اس نئی طرز کے فن کوجلا بخشی اور خوب نام کمایا نوے کے عشرے میں کمرشل تھیٹر کی پذیرائی اور بڑے کامیڈینز کی مقبولیت سے متاثر ہوکر مزید کئی نئے چہرے سٹیج پر آئے جن میں ایک نمایاں نام سلیم البیلا کا ہے اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے سلیم البیلا نے اپنی شباہت اور نیچرل سٹائل میں شاندار کامیڈی کرکے جلد ہی سٹیج پر اپنا سکہ جمالیا آج کل وہ ایک ٹی وی پروگرام ”خبر ناک“ سے وابستہ ہے اور ٹیم کے مرکزی کرداروں میں شمار ہوتے ہیں سلیم البیلا نے مختلف ٹی وی ڈراموں اور سٹ کامز میں کام کے علاوہ حال ہی میں اردو فیچر فلم”سایہ خدائے ذوالجلال“ میں بھی کام کیا ہے سلیم البیلا کے فنی سفر کے حوالے سے گفتگو کا احول پیش ہیں،،،،،،

سوال:کچھ اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں بتائیں؟

سلیم البیلا:میرا بچپن اوکاڑہ کی گلیوں میں گزرا والدین کی آمدنی واجبی سی تھی تعلیم بھی زیادہ نہ حاصل کرسکا شاید مقدر میں یہی لکھا تھا۔

سوال:کب پتا چلا کہ آپ کے اندر اداکار چھپا بیٹھا ہے؟

سلیم البیلا:اداکاری کا بچپن سے شوق تھا لیکن میں آج بھی دعویٰ نہیں کرسکتا کہ میں ایک اداکار ہوں ہاں روزی روٹی کے لیے اداکاری کی کوشش کررہا ہوں آج تک میں نے جس قدر کام کیا وہ میری خداداد صلاحیتوں اور سینئرز کی سرپرستی کی بدولت ہی ممکن ہوسکا ویسے میں شروع سے ہی ہنس مکھ اور موج مستی کرنے والا انسان ہوں اور سب سے اہم بات کہ میں نے تنقید کو کبھی خود پر حاوی نہیں ہونے دیا تھا شاید کامیڈی کے لئے اس قدر قوت برداشت ضروری ہے میں آج بھی اس مشکل فن کو سیکھنے کے عمل سے گزر رہا ہوں۔

سوال:آداکاری کا جنون کب سر پر سوار ہوا والدین کا ردعمل کیا تھا؟

سلیم البیلا:جب پڑھائی چھوڑ دی تو دل کیا کیوں نہ ڈراموں میں کام کیا جائے لاہور یا کراچی جانے کے وسائل نہیں تھے اس لئے شہر میں ہی ادکاری کا شوق پورا کرنے کی ٹھان لی اس زمانے میں اوکاڑہ کا ٹاﺅن ہال اس قسم کی سرگرمیوں کا مرکز تھا میں نے وہاں جاکر کام کی درخواست کی تو بلامعاوضہ کام مل گیا چونکہ گھر کا چولہہ جلانے کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی اس لئے والدین کو میرا کام پسند نہیں آیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے اداکاری فارغ لوگوں کا کام ہے پھر1992 میں،میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اوکاڑہ میں سٹیج ڈرامہ پروڈکشن شروع کی ہم لاہور سے بڑے سٹیج فنکاروں کو بلواکر خود بھی ان کے ساتھ کام کیا کرتے تھے اس کے بعد ہم نے دیگر شہروں کا رخ کیا،ہم ڈرامہ فنکار اپنے ہاتھوں سے سیٹ بناتے حاضرین کے لئے کرسیاں ٹھیک کرتے انتظامات مکمل کرنے کے بعد جب ڈرامے کو پبلسٹی کے لئے ڈھول والے کو تانگے پر بٹھا کر بازاروں اور عوامی مقامات پر سپیکر کے ذریعے اعلان کرتے تو بڑے ناموں کے ساتھ اپنا تعارف بھی کروادیتے،

سوال:محمد سلیم سے” سلیم البیلا “کیسے بنے؟

سلیم البیلا:کامیڈی کے شعبے میں میرے استاد البیلا ہے جبکہ میں امان اللہ صاحب سے بھی بہت متاثرہوں جب میں لاہور آیا تو امان اللہ صاحب سے ملاقات نہ ہوسکی لیکن خوش قسمتی سے البیلا صاحب مل گئے میں نے ان کے گھٹنوں کو چھوکر درخواست کی کہ مجھے اپنی شاگردی میں لے لیں اور اجازت دے کہ میں اپنے نام کے ساتھ البیلا لکھ سکوں؟اس پر انہوں نے کہا کہ نام سے کیا ہوگا نام تو میں دے دوں گا لیکن کام کیسے کروں گے کیونکہ کامیڈی کوئی ہنر نہیں کہ شاگرد کو سکھایا جائے ؟میں نے پر اعتماد لہجے میں کہا کہ آپ بس مجھے اپنا نام کی اجازت دے دیں کام کے حوالے سے میں آپ کو شرمندہ نہیں کروں گا بس اسی دن میں ان کا ”گنڈا بند شاگرد“بن کر سلیم سے سلیم البیلا ہوگیا۔

سوال:تھیٹر سے ٹی وی تک کا سفر کیسے طے کیا؟

سلیم البیلا:یہ تقریباً 1999 کا ذکر ہے جب میں نے پہلی مرتبہ الحمرا تھیٹر میں پرفارم کیا اور جب امان اللہ خبرناک کا حصہ بنے توانہوں نے مجھے بھی آڈیشن کے لئے بلوایا ہر فنکار کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ آگے بڑھے سٹیج آرٹسٹ بھی چاہتا ہے کہ اسے ٹی وی یا فلم جیسا بڑا پلیٹ فارم ملے میرے دل میں بھی خواہش مچلتی تھی کہ کسی بڑے کامیڈی شو کا حصہ بنوں سو میں اللہ کا انتہائی شکر گزار ہوں کہ چند منٹ کے آڈیشن میں نہ صرف مجھے ”اوکے“سگنل ملا بلکہ پہلے ہی شو میں میری پرفارمنس کو بھی بے حد سراہا گیا۔

سوال:کیا محنت کی بدولت کوئی اچھا فنکار بن سکتا ہیں؟

سلیم البیلا:ہرگز نہیں میں سمجھتا ہوں کہ فنکار صرف پیدائشی ہوتا ہے البتہ بعد میں اس فن کو نکھارا ضرور جاسکتا ہیں میرے نزدیک یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص ڈرامہ سکول ایکٹنگ اکیڈمی یا کسی بڑے فنکار کی شاگردی میں آکر فنکار بن جائے فنکاری کے جراثیم خون میں ہونا ضروری ہے،

سوال:سٹیج پر سینکڑوں لوگوں کے سامنے کرنے میں اور ٹی وی پر کامیڈی پروگرام کی ریکاڈنگ میں کتنا فرق ہیں؟

سلیم البیلا:
دونوں میڈیم خاصے مختلف ہیں سٹیج پر ایک کامیڈین شائقین کی مخصوص تعداد کے سامنے اپنی پرفارمنس دیتا ہے کوئی اچھا ڈائیلاگ،گیٹ اَپ پر شائقین کی تالیاں فوراً وصول ہوجاتی ہے اگر حاضرین کو پرفارمنس پسند نہ آئے یا پرفارمر کے منہ سے کوئی غلط بات نکل جائے تو گالیں بھی پڑجاتی ہے جہاں تک ٹی وی کے کامیڈی شوکی بات ہے یہاں بھی کئی مرتبہ لائیو پروگرام چلتا ہے لیکن تب بھی پروگرام میں چند سیکنڈ کی تاخیر سے نشر کرنے کی سہولت موجود ہوتی ہے یا بعض اوقات مشکل صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے وقفہ لے لیا جاتا ہے،

سوال:کیا سٹیج کے مقابلے میں ٹی وی پر کام کرنا زیادہ باعزت ہے؟

سلیم البیلا:سچ بات کہوں گاکہ موجودہ تھیٹر شائقین کی بجائے تماش بینوں کے لیے چل رہا ہے جبکہ دوسری طرف ٹی وی ہمارے بیڈ رومز کا حصہ ہے یعنی بچہ بوڑھا عورت مرد اور پڑھا لکھا یا ان پڑھ تقریباً سبھی افراد ٹی وی دیکھتے ہیں اس لئے یہاں کام کرنے کے معیار میں بھی فرق ہیں اور عزت بھی زیادہ ہے ہمارے ذہنوں میں ہمارے احساس ذمہ داری کی بدولت بھی ہمارا کام زیادہ نکھر جاتا ہے،

سوال:کیا آپ کی کامیابی سٹیج کی مرہون منت کہی جاسکتی ہے؟

سلیم البیلا:بلاشبہ حقیقت یہی ہے کہ میری بنیادی فنی تعلیم یعنی اداکاری سیکھنے کا عمل سٹیج سے ہی شروع ہوا تب اساتذہ یعنی ہمارے سینئر فنکار جن میں حاجی البیلا سہیل احمد امان اللہ اور ان جیسے دیگر آرٹسٹ جنہیں لوگ آج بھی حقیق سپر سٹار مانتے ہیں ہمیں آگے بڑھنے کا موقع دیتے تھے ہم نے بھی ان کی دل سے عزت کی اور بدلے میں انہوں نے جو کچھ ہمیں سکھایا اسی کی بدولت ہمیں پہچان ملی بلکہ آج میرے دامن میں جو بھی ہیں وہ انہی سینئر ز کے وسیلے سے ہے سٹیج پر پرفارمنز کو میں اپنی فنی کامیابی کی بنیاد مانتا ہوں،

سوال:
آپ پنجابی جگت کرنے سے باز نہیں آتے آخر کیوں؟

سلیم البیلا:صاف سی بات ہے کہ ہم جغرافیائی اعتبار سے پنجابی ہیں اور یہی ہماری مادری زبان بھی ہے اس لئے پنجابی زبان میں ہم اپنا مدعا زیادہ بہتر انداز میں بیان کرسکتے ہیں اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ پنجابی زبان کا تلفظ چہرے کے اُتار چڑھاﺅ ٹائمنگ اور کسی حد تک ذو معونیت ایسا تاثر قائم کرتی ہے جو اُردو میں تھورا مشکل ہوتا ہے اس لئے ہم اُردو زبان میں مزاح پیدا کرنے کی لاکھوں کوشش کریں کسی نہ کسی طرح زبان پھسل کر پنجابی ڈگر پر چل پڑتی ہے،

سوال:
کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ سٹیج ڈرامہ اپنی موت مرچکا ہے؟

سلیم البیلا:یہ بات سو فیصد درست ہیں کہ سٹیج سے اب ڈرامہ یکسر ختم ہوگیا ہے اور یہاں نئی قسم کی تفریح یعنی مجرا متعارف کروادیا گیا ہے اس کے علاوہ سکرپٹ ناپید ہونے کی وجہ سے فحش جگت بازی کے دوران اکثر یہاں ماں بہن کا تقدس پامال ہوتا ہے اس ضمن میں میں سمجھتا ہوں کہ سٹیج کی تباہی کی ذمہ داری شائقین پر بھی عائد ہوتی ہے شائقین کی ایک بڑی تعداد پانچ سو روپے میں اچھا ڈرامہ دیکھنے کی بجائے دو ہزار روپے میں گندی جگتیں اور مجرا دیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں آج بھی میوزیکل کامیڈی ڈرامہ کے نام سے ڈانس پر مبنی سٹیج ڈرامے کامیابی سے چل رہے ہیں آخر کوئی دیکھنے کے لئے آتا ہے تو پروڈیوسر سارا انتظام کرتے ہیں،

سوال:کیا آپ سٹیج پر رقص کے حق میں نہیں؟

سلیم البیلا:میں سٹیج پر رقص کا مخالف نہیں ہوں میں سمجھتا ہوں کہ اگر ڈرامے کی کہانی اس بات کا تقاضا کرے اور تہذیب میں رہ کر ڈانس کیا جائے تو کسی حد تک درست ہیں البتہ اعضاءکی شاعری کے نام پر بے ہنگم ڈانس اور طوائفوں کے انداز میں مجرا قطعاً اچھی روایت نہیں میرے سمیت سبھی سٹیج فنکاروں کی خواہش ہے کہ لاہور کا روایتی سٹیج پھر سے زندہ ہوجائے لیکن سچ تو یہ ہے کہ موجودہ سٹیج ڈرامے کو پرانی نہج پر لانا انتہائی مشکل ہیں۔

سوال:کیا ٹی وی کی طرح سٹیج پر بھی صاف ستھرا کام نہیں ہوسکتا؟

سلیم البیلا:کیوں نہیں!جس طرح ہمارے آرٹسٹ ٹی وی کے کامیڈی شو ز میں شاندار اور صاف ستھرا کام کرتے ہیں اسی طرح سٹیج پر بھی اچھی تفریح مہیا کی جاسکتی ہے لیکن اس کام کے لیے سبھی ذمہ داران کو خلوص نیت سے اقدامات کرنے ہوں گے فنکاروں اور آرٹس کونسل کے ساتھ ساتھ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن محکمہ ثقافت ہوم ڈیپارٹمنٹ اور پولیس کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

سوال:کیا زندگی پلاننگ کے مطابق گزاری ہے یا زندگی جدھر چاہے لے اُڑے؟

سلیم البیلا:میں محنت کا قائل ہوں ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ زندگی کا ہر آنے والا دن پہلے سے بہتر ہوگا پھر مالک جہاں پہنچادے یہ میری قسمت پر منحصر ہے بہر حال میں اپنی زندگی سے مکمل طورپر مطم¿ن ہوں۔