سٹیج پر تماش بین غالب ہیں

سابق اداکار مہرالنساء کے خیال میں سٹیج پر اب صرف مجراباقی رہ گیا ہے۔ اگرحکومت کوئی جامع ثقافتی پالیسی بنادیتی تو یہ سٹیج کبھی اس نہج پرنہ پہنچتا
پاکستان کے معروف ادیب اور شاعراحمد ندیم قاسمی مرحوم کے منتخب افسانوں کی سیریز کے سلسلے قاسمی کہانی کے ڈرامے میں بھرائی میں ایک شوخ چنچل لڑکی مست جبرائی“ کا کردار شاید پی ٹی وی کے پرانے ناظرین کو آج بھی یاد ہوگا۔ آج سے کوئی پچیس برس پہلے مہرالنساء نامی لڑکی نے ڈرامہ سیریل ” فریب“ سے اپنے فنی سفرکا آغاز کیا تھا لیکن انہیں اصل شہرت ست بھرائی سے ملی ۔ نوے کی دہائی میں کئی یادگار کرداروں میں ٹی وی سکرین پر نظر آنے والی مہر النساء نے تھیٹر پربھی خوب کام کیا لیکن اس کا میاب سفر کو اچا نک بریک لگ گئی۔ ڈرامہ ناظر ین حیران تھے کہ اپنے دور عروج میں اتنی شاندار کارہ اچا نک کہاں غائب ہوگئیں لیکن دیر آید درست آید کے مصداق پانچ سال قبل مہر النساء دوبارہ ٹی وی سکرین پر پھر سے نظر آنا شروع ہوئی ہیں۔ مہر النساء اچانک کہاں غائب ہوگئی تھیں اور ایک عرصے بعد کہاں سے آنکلی ہیں؟ گورمے خواتین کو ان سب سوالوں کا جواب مہر النساء نے کچھ یوں دیا۔ سوال: ڈرامہ نگری میں کیسے آنا ہوا؟ مہر النساء : میں نے پہلا ڈرامہ چودہ سال کی عمر میں کیا تب میں نویں جماعت کی طالبہ تھی۔ دراصل ہمارے سکول میں کسی فنکشن کے دوران ایک پروڈیوسر صاحب نے مجھے پی ٹی وی میں کام کی آفر کی۔ گھر والوں نے بڑی مشکل سے اجازت دی بلکہ سچ تو یہ ہے کہ دادا جان کی سپورٹ کے بغیر میں ہرگز یہ کام نہیں کر سکتی تھی۔ میرا پہلا ڈرامہ فریب پی ٹی وی پر نشر ہوا تھا، اس ڈرامے کے ہدایتکار راشد ڈار صاحب تھے۔ فریب میں ، میں عجب گل کی ہیروئن تھی فلم سٹار رانی کا یہ پہلا اور آخری ڈرامہ تھا، کچھ عرصے بعد وہ انتقال کر گئیں۔ اس دور میں کوئی بھی آرٹسٹ اپنی اچھی پرفارمنس کی بدولت راتوں رات مشہور ہو جاتا تھا۔ تب ہر کسی کی خواہش ہوتی تھی کہ کسی نہ کسی طرح اسے پی ٹی وی پر کام مل جائے۔ میری خوش قسمتی رہی کہ مجھے پہلے ڈرامے میں ہی راشد ڈار صاحب جیسے نامور ڈائر یکٹر کی سرپرستی حاصل ہوئی اور میری پرفارمنس بھی ناظرین کو پسند آئی۔ اس کے بعد ڈراموں میں کام کا سلسلہ چل پڑا۔ سوال: آپ کے خیال میں کس ڈرامے نے آپ کو ملک گیر شہرت عطا کی؟ مہر النساء : ڈرامہ ست بھرائی“ نے میرے کیرئر کو عروج پر پہنچادیا۔ اس ڈرامے میں اپنے دور کے انتہائی سینئر فنکار یحانہ صدیقی اور خیام سرحدی نے میرے والدین کا کردار ادا کیا تھا۔’ست بھرائی“ اس قدر مقبول ہواکہ اس پر مجھے نیشنل ایوارڈ بھی ملا۔ احمدندیم قاسمی صاحب کے اس افسانے کو یونس جاوید صاحب نے ڈرامائی شکل دی تھی جبکہ اسے نامور ڈائریکٹر ایوب خاور صاحب نے بنایا تھا۔ سوال: پی ٹی وی پر چند برس کام کے بعد آپ اچانک کہاں غائب ہوگئی تھیں؟ مہر النساء : جن دنوں پی ٹی وی پر میری شناخت قائم ہو چکی تھی ، اچانک میرے والدین کو میری شادی کا خیال آگیا حالانکہ ان دنوں میں شوبز کے ساتھ ساتھ اپنی پڑھائی بھی جاری رکھے ہوئے تھی۔ بہر حال 20 سال کی عمر میں میری شادی ہوگئی اور یوں میں اپنے شوہر کے ساتھ کراچی شفٹ ہوگئی اور پھر ہم وہاں سے امریکی منتقل ہوگئے۔ سوال: کیا شادی کے بعد شوہر نے ڈراموں میں کام کرنے سے منع کر دیا تھا؟ مہر النساء : ایسی بات نہیں! میں نے خود ہی فیصلہ کرلیا تھا کہ اب میں اپنی ازدواجی زندگی پر توجہ دوں گی لہذا میں نے اپنے شوہر اور بیٹی کو بھر پور وقت دیا۔ مجھے ایک عرصے تک شوبز سے دور رہنے کا کوئی افسوس نہیں۔ اب چونکہ میری بیٹی کا لج میں پہنچ چکی ہے اس لئے میں ایک مرتبہ پھر شوبز میں واپس آگئی ہوں لیکن اب میں تھوڑا محدود کام کر رہی ہوں کیونکہ گھر کو وقت دینا بھی ضروری ہے۔ سوال: کیا شادی کے وقت تعلیم ادھوری رہنے کا افسوس ہوا؟ مہر النساء : یقینا اس وقت میں آگے پڑھنا چاہتی تھی لیکن والدین کا فیصلہ سر آنکھوں پر شادی کے بعد شوہر کی جانب سے مجھے زیادہ پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ انہوں نے تعلیم مکمل کرنے کے لئے میری بھر پور مد کی۔میں نے شادی کے بعد ہی ماسٹرز کیا ہے کیونکہ پڑھنے لکھنے اور سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ سوال: کیا آپ کی بیٹی بھی آپ کی طرح شوبز میں آئے گی؟ مہرالنساء: قطعاََ نہیں!! میں اپنی بیٹی کو شوبز میں لانے کی بجائے ڈاکٹر بنانا چاہتی ہوں۔ ابھی وہ ایف ایس سی (پری میڈ یکل) کررہی ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ ضرور ڈاکٹر بنے گی۔ میری بھی خواہش تھی کہ میں ڈاکٹر بنوں لیکن کم عمری میں ہی شوبز کا حصہ بن جانے اور پھر شادی ہونے کے باعث میری خواہش ادھوری رہ گئی۔ سوال: آپ نے قریباََ پندرہ سال بعد شوبز میں واپسی کی ، ناظرین کی جانب سے کیسا ریسپانس ملا؟ مہر النساء : جب میں نے شادی کے بعد شوبز سے کنار کشی اختیار کی تب میں کام کر کے کسی حد تک تھک چکی تھی لیکن میں نے سوچ رکھا تھا کہ جب عائلی زندگی اپنے ٹریک پر چڑھ گئی تو میں دوبارہ اس طرف آوٴں گی۔ میری خوش قسمتی کہ ایسا ہی ہوا، لوگ بھی منتظر تھے کہ مہر النساء کہاں غائب ہوگی بلکہ اس سارے عرصے کے دوران مجھے متواتر کام کی آفرز ہوتی رہیں لیکن میں بضدرہی کہ اس وقت شوہر اور بیٹی میری اولین ترجیح ہیں۔ خیر ! چار پانچ برس پہلے جب میں نے ہم سب امید سے ہیں اور چند پی ٹی وی ڈراموں میں کام کیا تو ناظرین نے بہت خوش آمدید کہا۔ گذشتہ چار برس سے میں خبرناک“ سے منسلک ہوں۔ مجھے بے حد خوشی ہے کہ لوگوں کو آج بھی فریب اور ست بھرائی سمیت میرے ڈارموں میں میرے کردار یاد ہیں سوال: اس دور کے ڈرامے اور مجموعی طور پر ٹی وی چیلر کے ماحول میں کیا فرق نظر آیا؟ مہر النساء : آج سے بیس تیس سال پہلے صرف ایک ہی ڈرامہ چینل تھا پی ٹی وی لیکن آج پاکستان میں تیسں کے قریب ڈرامہ چینل اور ساٹھ سے زائد نیوز چینل کام کر رہے ہیں۔ ٹی وی ڈرامہ بہت ترقی کر چکا ہے۔ نجی ٹی وی چینلز پر بہت اچھا کام ہورہا ہے۔ پروڈکشن میں انقلابی تبدیلیاں آ چکی ہیں اور شاندار لوکیشنز پر دل کش ڈرامے بن رہے ہیں لیکن سکرپٹ کے حوالے سے ابھی بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی ایک موضوع پر ڈرامہ ہٹ ہوجائے توسبھی چینلز اس ٹرینڈ کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ سوال :لیکن کامیڈی انفوٹینمنٹ پروگرامز کا ٹرینڈ نسبتاََ نیا ہے، آپ کو کیسا محسوس ہورہا ہے؟ مہر النساء : یہ بڑا چھوتا اور موٴثر آئیڈیا ہے۔ لوگ بھی بورنگ خبریں سننے اور دیکھنے کی بجائے انہیں تھوڑے مختلف انداز میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ نیوز اینکرز بھی اپنے انداز میں جدت اپنائے ہوئے ہیں جبکہ خبروں کی زبان میں بھی بدلا و آچکا ہے لہذا ان حالات میں خبر ناک‘ اور اسی طرز کے دیگر کئی پروگرام شائقین کے لئے تفریح کے ساتھ ساتھ معلومات اور ملکی مسائل کی جانکاری کا اہم ذریعہ ثابت ہوئے ہیں۔ ان پروگرامز میں ہنسی مذاق کرتے ہوئے سنجیدہ ترین مسائل پر اس انداز میں بات کی جاتی ہے کہ سننے والا تو متوجہ بھی رہتا ہے اور اس تک پیغام بھی بہ آسانی پہنچ جاتا ہے۔ مجھے اس نئی طرز کے پروگرام کا حصہ بنے پرنہایت خوشی اور اطمینان محسوس ہوتا ہے کیونکہ ہم لوگوں کے چہروں پر خوشیاں بکھیرنے کے ساتھ ساتھ انہیں معلومات بھی فراہم کررہے ہیں۔ سوال: آپ اپنے پروگرام میں سینکڑوں گیٹ اپ اپنا چکی ہیں، کیا خود کومختلف لوگوں کے سراپا میں ڈھالنا اور ہوبہو انہی وضع قطع اختیار کرنا مشکل کام نہیں؟ مہر النساء: اس پلیٹ فارم پر مجھے ایسے ایسے گیٹ اپ اپنانے کا موقعہ ملا کہ مجھے اندازہ بھی نہ تھا کہ میں ان مشکل ترین کرداروں کے ساتھ انصاف کر پاؤگی۔ بہرحال ٹی وی چینل کے ایک کامیڈی انفوٹینمنٹ شو اور ڈرامے میں زمین آسمان کا فرق محسوس کیا لیکن میں مطمئن ہوں کہ ناظرین پچھلے کئی برسوں سے مسلسل ہمارے کام کو پسند کر رہے ہیں۔ میں اب تک سو سے زیادہ کر یکٹر مختلف گیٹ آپ میں پرفارم کر چکی ہوں اور اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ ایک ڈرامہ آرٹسٹ اور کامیڈی شو کے کریکٹر ایکٹر کے کام میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ سوال: کون سا کریکٹر آپ کو زیادہ نیچرل یا آسان لگتا ہے؟ میر النساء : مجھے تو اپنے کئے ہوئے سبھی کریکٹرز ہی اچھے لگتے ہیں کیونکہ میں پوری محنت اور ایمانداری سے ہر کردار کی نبھانے کی کوشش کرتی ہوں لیکن میرے ساتھی فنکاروں کا خیال ہے کہ میں فلم سٹار میرا کے کردار کو بڑی خوبصورتی سے نبھاتی ہوں شاید میرے اندر اصلی والی میرا حلول کر جاتی ہے اور میں اس انداز سے اس کو کاپی کرتی ہوں کہ حقیقت کا گمان ہوتا ہے۔ کبھی کبھی مجھے افسوس ہوتا ہے کہ میرا کی انگلش کا پی کرتے کرتے میری اپنی انگریزی خراب ہوگئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میرا کو بھی اس بات کا اندازہ ہو چکا ہے کہ مہر النساء اس کی ممکری“ کرتی ہے بلکہ چند ماہ قبل اتفاقاََ میں اور میرا پی ٹی وی کے ایک پروگرام کی ریکارڈنگ کے سلسلے میں اکٹھی ہوئیں تو میرانے باقاعدہ مجھ سے پوچھا کہ کہیں اس پروگرام میں، میں اس کا (یعنی میرا) کامزاق تو نہیں اڑاوٴں گی؟ سوال:کیرئیر کے شروع میں آپ نے سٹیج پر بھی کام کیا ، اب دوبارہ شوبز کا حصہ بنے کے بعد سٹیج سے کیوں دور ہ ہیں؟ مہر النساء : آج سے کوئی پندرہ بیس برس پہلے میں نے سو سے زائد سٹیج ڈراموں میں کام کیا تھا۔ اس زمانے میں سہیل احمد، امان اللہ البیلا مستانہ اورببو برال جیسے فنکار سٹیج کے ماتھے کا جھومر تھے تب سٹیج کا ماحول بڑا شاندار تھاسٹیج پرمجرانما رقص بھی نہیں ہوتا تھا یہ سب کہیں 1997 میں شروع ہوا اور تب میں سٹیج چھوڑ کر گھر بسا چکی تھی میں شکر ادا کرتی ہوں کہ میں نے سٹیج کا عروج اور خالص تھیڑ دیکھا۔ سوال: آپ کے نزدیک سٹیج کے زوال کی اہم وجوہات کیا ہیں؟ مہر النساء : میرے مشاہدے کے مطابق سٹیج کواس نہج پر لانے کے ذمہ دارکئی عناصر ہیں۔ حکومت، سپانسر اور کسی حد تک اداکار خود بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ دراصل جس دن سٹیج ڈرامہ کمرشل ہوا، اسی دن سیٹج کی بنیادیں کمزور ہونا شروع ہو گئیں۔ اس زمانے میں کئی سینئیر فنکار بھی پیسہ کمانے اور اپنی حیثیت کو کیش کروانے کے چکر میں لگ گئے تھے۔ دوسری طرف سیٹج ڈراموں پر سرمایہ کاری کرنے والے دولت مند سپانسرز خودکو پروڈیوسر کہلوانے لگ گئے تھے۔ ان حالات میں بھی بعض نامور فنکاروں اور پروفیشنل پروڈیوسرز نے کسی حد تک اچھا اور صاف ستھرا کام کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی ایک نہ چلی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب سیٹج پر سکرپٹ، ریہرسل اور کہانی بھی یکسر غائب ہوگئی تو یہاں صرف مجرا باقی رہ گیا تب ڈرامے کی مار کیٹینگ نامور فنکاروں کی بجائے ڈانسرز کے نام پر ہونے کی اور شائقین تما تماش بینوں کو سہولت حاصل ہوگئی کہ ہیرا منڈی جانے کی بجائے یہاں پر سکون اور محفوظ ماحول میں سستا مجرا دیکھتے ہیں۔ ہماری قوم کا مسئلہ ہے کہ اسے جس طرف لے جایا جائے یہ اسی جانب چل پڑتے ہیں۔ سوال: کیا سٹیج جہاں آپ بھی کسی زمانے میں کام کیا کرتی تھیں، اب ناپید ہو چکا ہے ؟ مہر النساء : یہ بات سچ ہے کہ اب سیٹج سے ڈرامہ ختم ہوگیا ہے اور یہاں نئی قسم کی تفریح متعارف کروادی گئی ہے۔ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ماضی کے برعکس یہاں ماں بہن کا تقدس پامال ہوتا ہے اور مثبت پیغام کی بجائے لوگوں کے اخلاق کو بگاڑا جارہا ہے۔ میں سمجھتی ہوں سیٹج کے حالات سدھارنے کے لئے سبھی ذمہ داران کو خلوص نیت سے اقدامات کرنا ہوں گے تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ پروفیشنل پروڈیوسر اور آرٹسٹ کو حکومت نے بے یارومددگار چھوڑا ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے کوئی واضح ثقافتی پالیسی بھی آج تک نہیں بنائی جا سکی تو بھلا ان سے آرٹسٹ کی فلاح کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟ سوال: آپ نے کسی فلم میں کام کیوں نہیں کیا؟ مہر النساء:مجھے نہیں لگتا کہ میں فلم کے لئے فٹ ہوں۔ آفرز ہوتی رہتی ہیں لیکن فی الحال میں ذہنی طور پرفلم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ کچھ عرصہ پہلے حیدر امام رضوی کی فلم میں کام کے لئے میں نیم رضامندتھی لیکن بولڈ لباس اس کی وجہ سے میں نے انکار کردیا۔ سوال فٹنس برقرار رکھنے کے لئے کیا کرتی ہیں؟ مہر النساء : کام کی روٹین بڑی سخت ہے ہم دوپہر ایک بجے سے رات ایک بجے تک یہاں سٹوڈیو میں پروگرام کی ریکارڈنگ اوریہرسل کرتے ہیں، ہفتے میں پانچ دن ہم یہیں گزارتے ہیں۔ ان حالات میں ایکسرسائز وغیر مشکل ہو جاتی ہے لہذا میں فٹ رہنے کے لئے پورے دن میں صرف ایک مر تبہ رات کوئی کھانا کھاتی ہوں۔ میرا اصول ہے کہ میں ہمیشہ بھوک رکھ کر کھانا کھاتی ہوں تا کہ بعد میں ہضم کرنے کا مسئلہ نہ ہو۔ سوال:لباس کیا پسند ہے؟ مہر النساء : مجھے مغربی لباس زیادہ پسند ہے ، جینز شرٹ میں آرام دہ محسوس کرتی ہوں۔ ویسے شلوار قمیض اور اپنے ڈیزائن کئے ہوئے کپڑے بھی پہنتی ہوں۔ سوال: کیا گھر والوں کو آپ کی مصروفیات سے بھی گلہ ہوا؟ مہر النساء : گھر والوں کو بھی گلہ نہیں رہا کہ میں انہیں وقت نہیں دیتی شوہر کینیڈا میں ہوتے ہیں اس لئے چند ماہ بعد وہ پاکستان آجاتے ہیں اورکبھی میں چھٹیاں لے کر ان سے ملنے چلی جاتی ہوں۔ دراصل جب میں نے شادی کے بعد اپنی مرضی سے شوبز کو چھوڑا تو انہیں فورا اس بات کا احساس ہوگیا کے فیملی ہی میری پہلی ترجیح ہے اور میں اپنی فیملی کے لئے سب کچھ چھوڑ سکتی ہوں۔ سوال :آج کل کراچی میں چند اچھی فلمیں بن رہی ہیں، کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہماری سنیما انڈسٹری بحالی کی جانب بڑھ رہی ہے؟ مہر النساء بالکل ! بڑی خوش آئند بات ہے کہ اب تواتر سے اچھی فلمیں بنناشروع ہوگئی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ یہ سلسلہ مزید آگے جائے گا اور ہمارے فنکاروں اور تکنیکی عملے کو روزگار ملے گا۔ سوال: مستقبل کے حوالے سے کیا عزائم ہیں؟ مہر النساء: میری خواہش ہے کہ میں ایک شاندار ڈرامہ سیریل بناوٴں ، اس کے علاوہ میں پچھلے کئی سال سے اپنا بوتیک بھی چلا رہی ہوں۔ اس کام کو بھی مزید آگے لے جانے کی کوشش ہے۔