یہاں پیسہ ہی سب کچھ ہے

آج کل یہ چلن عام ہے کہ زیادہ سے زیادہ کام پکڑو اور پیسے بنا ؤ شاید اسی لئے میں ڈرامہ رائٹرز اورپروڈیوسرز کو اچھی نہیں لگتی کیونکہ میں سکر پٹ کے حوالے سے سوال اُٹھاتی ہوں
کشمیری گھرانے سے تعلق رکھنے والی ، دھیمے لہجے اور ابلاغی صلاحیتوں کی مالک معروف ٹی وی میزبان اور اداکارہ حنا بیات نے اپنے فنی سفرکا آغاز ٹی وی پروگرام 'انداز اپنا اپنا“ سے کیا ہے پی ٹی وی کا بہترین ٹاک شو قراردیا گیا۔ جس کے بعد حنا نے باتیں ملاقاتیں ، الجھن سلجھن اور جیوحنا کے ساتھ جیسے شوز سے بطور ٹی وی ہوسٹ نمایاں پہچان بنائی۔ ان کے مشہور زمانہ ڈرامہ سیریلز میں ہمسفر ، زندگی گلزار ہے، مقدس، شہر ذات ،متاع جاں ہے تو دعا تلخیاں، آہستہ آہستہ ،تم کون پیاص‘نم ، دل بنجارہ ، جل پری، جھمکا جان، بیگانگی، آہستہ آہستہ اورعون زارا ہیں۔ میزبانی اور اداکاری کے
حوالے سے حنا کوکئی اہم اعزازات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ انہوں نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیزائن سے فیشن ڈیزائننگ کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیشن کی سمجھ بوجھ کی بدولت حنا کے پہننے اوڑھنے کے انداز میں نفاست اور جدت جھلکتی ہے جو انہیں ان کی ہم عصر اداکاراوٴں میں نمایاں اور منفرد بناتی ہے۔
سوال: آپ ٹی وی کا تو ایک جانامانا چہرہ ہیں لیکن عام زندگی میں کیسی ہیں؟
حنا بیات : میں ایک انسان ہوں، ایک پاکستانی ہوں، ایک مسلمان ہوں، ایک بیوی ہوں، ایک بیٹی ہوں اور ایک بہن ہوں میری نظر میں ایک انسان ہونا سب سے اہم ہے بنسبت اس کے کہ آپ دنیا میں اپنے آپ کوکیسے منواتے ہیں؟ مجھے لوگوں کے درمیان رہنا اچھا لگتا ہے۔ جو بھی مجھے ملتا ہے، میں ان سے خوش دلی سے ملتی ہوں۔ کچھ لوگوں کے ساتھ آپ کاجلد تعلق بن جاتا ہے لیکن جہاں تک دوستی کی بات ہے تو مجھے دوست بنانے میں وقت لگتا ہے اس لئے مجھے ان لوگوں سے ذرا گھبراہٹ ہوتی ہے جو بہت جلد گھل مل جاتے ہیں اور دوست نے کی کوشش کرتے ہیں….
سوال: آپ کوبچپن کی سیر کروائی جائے تو سب سے زیادہ کیا یاد آتا ہے؟
حنا بیات : (مسکراتے ہوئے ) خوبصورت اور بھر پوربچپن یاد آتا ہے، میں چار بہنوں میں سب سے چھوٹی ہوں۔ چونکہ میرے والد آرمی میں تھے اس لئے بعض اوقات وہ فیملی کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے تھے۔ میں نے جب ہوش سنبھالا تو ہم کراچی منتقل ہو گئے تا کہ ہماری تعلیم متاثر نہ ہو۔ ہمارے
گھر میں اصول وضوابط کا بہت خیال رکھا جاتا تھا، گھر سے کچھ ہی فاصلے پر سکول تھالیکن ہمیں اجازت نہیں تھی کہ فوجی جیپ میں سکول چلے جائیں کیونکہ ابا کہتے تھے کہ آپ لوگ سویلین کی حیثیت سے سرکاری گاڑی میں نہیں بیٹھ سکتے۔ ابا کی غیر موجودگی میں امی نے ہم بہنوں کی بڑی سخت تربیت کی لیکن ہم امی سے کوئی بھی بات کر سکتے تھے۔ ہمارے زمانے میں محلے کے سب بچوں کی آپس میں دوستیاں ہوتی تھیں ہمیں کتابیں بطور تحفہ ملتی تھیں۔ ہم ٹی وی پر کوئی پروگرام دیکھتے تھے تو ٹی وی بند کر کے آپس میں اظہار رائے کرتے تھے۔ میں نانی نانا، دادی دادا کے قصے سنائے جاتے تھے، میری امی ورکنگ وومن نہیں تھیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے بہت کام کیا اورہمیں بھی کوالٹی ٹائم دیا، ہم نے ان کی زندگی اور ان کے عمل سے بھی بہت کچھ سیکھا۔

سوال : آپ اپنی تینوں بہنوں کو اپنی تین مائیں کہتی ہیں ایسا کیوں؟
حنابیات: (مسکراتے ہوئے ) ماشاء اللہ میری تین بہنیں اور میری جیٹھانی اب تو مجھے لگتا ہے کہ میری امی کے علاوہ بھی میری چار چھوٹی امیاں ہیں۔ کسی کو ماں کا درجہ د ے دینا معمولی بات نہیں اور اگر میں انہیں ماں کی طرح سمجھتی ہوں تو اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ سبھی مجھے بالکل اپنی اولاد کی طرح ہی سمجھتی ہیں۔ میں آنکھیں بند کر کے قسم کھا سکتی ہوں کہ میری بہنوں کو مجھ سے بھی حسد نہیں ہوا۔ آج کل تو دوسرے رشتوں میں ہی نہیں اپنے بہن بھائیوں میں بھی حسد اور رشک جیسی بیماریاں لگ جاتی ہیں۔ مجھے میری بہنوں میں ہی سہیلیاں بھی مل گئیں میرے بچے نہیں ہیں ، میری بہنوں
کے بچے اور میری جیٹھانی کے بچوں کو میں اسی طرح پیارکرتی ہوں، ان پر غصہ کرتی ہوں جس طرح یہ میرے اپنے بچے ہیں اور وہ مجھ سے گلہ نہیں کرتیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ ضرور بچے کی ہی غلطی ہوگی۔
سوال:کبھی اپنی اولاد کی کمی محسوس نہیں ہوتی؟
حنابیات: میں سچ کہوں تو اب نہیں ہوتی… ایک ایسا وقت بھی آیا کہ میری بہنوں نے کہا کہ تم رولوتو میں نے کہا کیوں؟ تو کہنے لگیں تمہیں رونا آرہا ہوگا میں نے کہا نہیں آرہا آپ مجھے کیوں رلانا چاہتی ہیں؟ وہ کہنے لگیں کیونکہ تمہارا دل چاہ رہا ہوگا۔ ایک مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ جب میری بہن کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی تو میں اسے دیکھتی بھی نہیں تھی، مجھے لگتا تھا کہیں اسے میری نظر نہ لگ جائے لیکن پھر مجھے احساس ہوا کہ اگر میں یہ بات واقعی مانتی ہوں کہ اللہ جوہمیں ستر ماوٴں سے زیادہ چاہتا ہے تو وہ مجھے تکلیف کیوں دے گا؟ اب میرے اندر یہ اطمینان سرایت کر چکا ہے کہ اللہ میرے لئے کوئی غلط فیصلہ نہیں کرسکتا۔ ایسے میں ہم دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کو جذباتی طور پرکبھی تنہانہیں چھوڑتے ، روجر کی خواہش تھی کہ ہم بچہ گود لے لیں لیکن میں اس کے لئے تیارنہیں تھی ، انہوں نے مجھے مجبورنہیں کیا بلکہ کہا کہ جب میں خود ذ ہنی طور پر تیار ہوں گی تب ایسا کریں گے، پھر ایک وقت آیا جب دو مرتبہ سب کچھ فائنل ہو چکا تھاتو کسی نہ کی وجہ سے ہم بچہ گود نہیں لے سکے۔ اب میں سوچتی ہوں دنیا میں اتنے پیارے پیارے بچے ہیں اگر ہم انہی کے کام آ جائیں تو کیا برائی ہے۔ ندا فاضلی کہہ گئے ہیں:
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں ز مین کہیں آسماں نہیں ملتا
سوال:سنا ہے آپ شادی کے بعد شوبز کی رونقوں کا حصہ بنیں؟
حنابیات بالکل ! ہوا یوں تھا کہ ہمارے فوٹوگرافر کے پاس میری شادی کی تصویر میں کسی نے دیکھ کر مجھ سے رابطہ کیا کہ ہم آپ سے ایک اشتہار کروانا چاہتے ہیں۔ میں نے منع کر دیا کہ میں بالکل ٹی وی پرنہیں آسکتی ، میرے ابا مجھے جان سے مار دیں گے۔ کیونکہ شادی سے پہلے ابا نے بھی اجازت نہیں دی تھی، مجھے میرے شوہر نے حوصلہ دیا۔ مجھے ابا کی ایک بات بہت اچھی لگتی ہے انہوں نے مجھ سے کہا تھا میں نہیں چاہتا کہ میری بیٹی کی کہیں تصویرلگی ہو اور کوئی اس پر بری نظر ڈالے، میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اللہ میرا ساتھ دے کہ میں جو بھی کام کروں ، اللہ مجھے اس میں عزت دے اور لوگ مجھے عزت کی نگاہ سے دیکھیں، یہ کوشش آج تک جاری ہے۔
سوال: انڈ سٹریل ڈیزائنر کی ڈگری لینے کے بعد ہوسٹنگ کا خیال کیسے آیا؟
حنابیات : میرا زیادہ تر وقت ٹی وی ہوسٹنگ کرتے گزرا۔ ویسے بھی مجھے لگتاہے ہم نے ابلاغ کرنا
چھوڑ دیا ہے، ہم ٹی وی کی ہیڈلائن اور اخباروں کی سرخیوں میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ بہرحال آج سے کوئی 20 سال پہلے جب سیماطا ہر صاحب نے مجھے انداز اپنا پنا شو آفر کیا ہمارے ہاں لوگ میوزک، ارکیٹکچر‘ فیشن ‘رائٹنگ اور پینٹنگ جیسے آرٹ اورتخلیقی شعبوں کو سنجیدہ نہیں سمجھتے تھے، اس کے بعد بھی کئی موضوعات پر شوز کئے لیکن بدقسمتی سے اب چینل میں لوگ سنجیدہ معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور میرا کام کر نے کاانداز کچھ مختلف ہے، میں ایک ایک موضوع پرمہینوں ریسرچ کرتی تھی اور پر ٹی وی پر پروگرام پیش کرتی تھی لیکن اب لوگ محنت نہیں کرتے۔ اب بھی اگر مجھے کسی سنجیدہ شو کی پیشکش کی جائے تو میں کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آج کل تو ڈراموں میں اتنی ایکٹنگ نہیں ہوتی جتنی مارننگ شوز میں ہوتی ہے۔
سوال: اچھا تو ا یکٹینگ کا خیال کیسے آیا؟
حنابیات: میں جس زمانے میں الجھن سلجھن اور جیوحنا کے ساتھ کرتی تھی، اسی دوران میں نے اداکاری کا آغاز بھی کر دیا، مجھے لگتا تھا اداکاری کا شاید میرا مزاج نہیں تھا لیکن جب مجھے مجبور کیا گیا تو میں ا یکٹینگ کی طرف آگئی، ویسے آج بھی لوگوں کو میرے شوز یاد ہیں۔
سوال: آج کل کے ٹی وی ڈراموں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
حنابیات : آج کل کام بہت ہورہا ہے لیکن معیارگر رہا ہے۔ رائٹر ایک وقت میں تین چار سکرپٹس پر کام کر رہا ہوتا ہے۔ جب ہمارے پاس سکرپٹ آتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ کہانی میں اچانک یہ جھول کیوں آ گیا؟ کردار سازی میں اتنے مسائل ہوتے ہیں کہ سمجھ نہیں آتا، یہ کیا ہورہا ہے؟ آج کل یہی رحجان ہے کہ زیادہ سے زیادہ کام پکڑو اور پیسے بناؤ… اسی لئے شاید میں بہت سے رائٹرز اور پروڈیوسرز کو اچھی نہیں تھی کیونکہ میں سکرپٹ اور کردارکے حوالے سے سوال اٹھاتی ہوں اور سوال کرنا میراحق ہے۔ دوسری طرف اسی عادت کی وجہ سے بہت سے لوگ میرے ساتھ کام کرنا پسند بھی کرتے ہیں۔ ویسے بھی بہت سے لوگ اداکاروں سے امید باندھ لیتے ہیں جب کوئی آ کر کہتا ہے کہ یہ ڈرامہ ہم نے آپ کی وجہ سے دیکھا تو بہت خوش ہوتی ہے لیکن جب کوئی یہ کہہ دے کہ آپ سے یہ توقع نہیں تھی تو پھر مجھے آسکربھی لا دیں تو اطمینان نہیں ملے گا۔
سوال: اپنی مصروفیات سے فیملی کے لئے وقت کیسے نکالتی ہیں؟
حنا بیات:فیملی کے لئے مجھے واقعہ وقت نکالنا پڑتا ہے پہلے جب اپنا شوکر تی تھی۔ تو زندگی میں بڑا نظم و ضبط اور سکون تھا، اپنی مرضی سے کام ہوتا تھالیکن اب اداکاری میں یہ سب نہیں ہوتا کیونکہ بارہ گھنٹے کی شفٹ ہوتی ہے جوکسی بھی طرح جائز نہیں ہے، اسی لئے ہمیں فلم اور ٹی وی دیکھنے کا وقت نہیں ملتا لیکن جب فرصت ملتی ہے تو میں ، روجر اور امی فلم دیکھنے سینما ضرور جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مجھے فیملی اور دوستوں کے ساتھ باہر کھانے پر جانا، ملنا ملا نا، گپ شپ کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔ بڑی بہن امریکہ میں ہوتی ہیں جب وہ پاکستان آتی ہیں تو میری کوشش ہوتی ہے کہ میں اس دوران کام سے وقفہ لے لوں تاکہ ہم سب اکھٹے وقت گزار سکیں۔
سوال: آپ کو روجر داؤدصاحب کی کس بات نے اس قدر متاثر کیا کہ آپ نے شادی کا فیصلہ کرلیا؟
حنابیات: (مسکراتے ہوئے )میں ہمیشہ کہتی ہوں کہ میرے والدین ”لبرل کنزرویٹو“ تھے ہمیں بہت ساری آزادی دی گئی مگر اپنی اقدار کا خیال رکھنا بھی سکھایا گیا۔ یہ نہیں تھا کہ بیٹا آپ ڈیٹنگ کرتے رہیں۔ ہمیں یہ پتاتھا کہ اگرکہیں چھپ چھپا کر کوئی ایسا کام کر بھی لیا تو امی واقعی ٹانگیں توڑ دیں گی۔ تاہم میری اور روجر کی ایک مشترکہ دوست تھیں جن کی شادی کیلئے روجر لندن سے پاکستان آئے تھے، اس کی شادی کے دوران ہماری دوستی ہو گئی بلکہ ہمارا دوستوں کا بہت بڑا گروپ تھالیکن ہم دونوں کی اتنی اچھی دوستی ہو گئی کہ ان کی اپنی گرل فرینڈ سے لڑائیاں ہوتیں تو میں انہیں صلح جوئی
کے مشورے دیتی لیکن پھر ایک دن روجر نے ، جو صرف میرے اچھے دوست تھے میرے والد کے پاس آ کر میرا ہاتھ مانگ لیا اور میں تو شاک“ میں چلی گئی کہ یہ کیسے ہو گیا ؟ تھوڑی سی ناراض بھی ہوئی کہ ہماری تو دوستی تھی، ایسا تھوڑی ہوتا ہے لیکن پھر روجر نے مجھے راضی کیا کیونکہ محبت جیسالفظ تب سمجھ آتا ہے جب آپ ایک ساتھ کچھ وقت ساتھ گزارتے ہیں۔ ویسے بھی جو شروع کا دور ہوتا ہے اسے محبت نہیں کہتے، اس میں صرف آ پ ایک دوسرے کو اچھے لگ رہے ہوتے ہیں لیکن یہ میں ضرور ہوں گی کہ میں روجر کو بطور انسان بہت پسند کرتی تھی ، ان سے دوستی کی وجہ سے ان کی ہر اچھائی برائی کا پتا تھالیکن جس چیز سے میں متاثر تھی ، وہ روجر کا دل ہے۔ روجر بہت فراخ دل ہیں اور جس انسان کا دل بڑا ہوتا ہے، وہ پھر ہر معاملے میں بڑا ہوتا ہے خواہ پیسہ ہو یا جذبات.. وہ آپ کے اپنوں کو بھی اپنا لیتاہے۔ میں اندر سے بہت سنجیدہ مزاج ہوں اس لئے مجھے ایسا ساتھی چاہیے تھا جس کے ساتھ کی وجہ سے میں روتے روتے بھی ہنس پڑوں، مجھے لگتا ہے کہ اللہ تعالی نے میری وہ دعا سن لی۔ حال ہی میں ہماری شادی کی پچیسویں سالگرہ تھی تو ہم نے سوچا کہ کام سے بریک لے لیتے ہیں تو میں نے کہا کہ ایسی جگہ جاتے ہیں جو ہم دونوں کو بہت پسند ہے، انہوں نے میری طرف دیکھا اور میں سمجھ گئی وہ کہاں جانا چاہتے ہیں؟ انہوں نے مجھ سے کہا چلو اللہ کو تھینک یو کر کے آتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی ہم فیملی کے ساتھ عمرہ اورحج کر چکے ہیں. لیکن اس مرتبہ ایسا لگا جیسے صرف اللہ ہے اور میں ہوں مجھے لگا کہ اب اللہ سے اور کیا مانگوں؟ اس نے اتنا تو نواز دیا ہے۔
سوال: کیا آپ نے کبھی لذیذ کھانے کھلا کر شوہر کے دل میں جگہ بنانے کی کوشش بھی کی؟
حنا بیات : میرے تو شوہر بہت اچھا کھانا بناتے ہیں بلکہ جب ہماری شادی ہوئی تو مجھے کھانا بنانا نہیں آتا تھا تو میں کہتی تھی شکر ہے کسی کو تو کھانا بنانا آتا ہے لیکن رو جراٹالین فوڈ کے ماہر ہیں ، انہیں پاکستانی کھانا بنانانہیں آتا۔ مجھے تو یوں کہیں کہ سر پر پڑی تو کرنا پڑابلکہ میں تو ابھی بھی اتنے شوق سے کچن میں نہیں جاتی کیونکہ مجھے گرمی سے بڑی گھبراہٹ ہوتی ہے ہاں لیکن جب موسم اچھا ہوتو کھانا بنانے کا مزا آتا ہے۔
سوال: آپ کشمیری ہیں، کھانے کی شوقین تو ہوں گی؟
حنا بیات : بالکل اس میں بھی امی کا ہاتھ ہے کیونکہ جس زمانے میں غیر کی کھانوں سے متعلق کئی اجزاء پاکستان سے ملتے ہی نہیں تھے، انہوں نے اس دور میں بھی ہمیں میکسیکن ، انڈونیشین اور اٹالین تک، ہرکھا نا بنا کر کھلایا ہے لیکن اس کے باوجود مجھے کشمیری روایتی کھانے بہت پسند ہیں۔ سفید چاول، کڑم کا ساگ ، ٹماٹر پیر نمک ماس اوریخنی و غیر ... یہ سب مجھے جہاں بھی ملے، میرا پیٹ جتنا بھی بھرا ہوں میں کھالیتی ہوں۔ یہ نہیں میں فرنچ سے لے کر اٹالین تک ہر طرح کا کھانا پسند کرتی ہوں سوائے فاسٹ فوڈ کے ہاں البتہ سٹریٹ فوڈ کے بن کباب، گندے سے تلے ہوئے سموسے، چاٹ، دہی بھل وغیرہ بڑے شوق سے کھاتی ہوں ..
سوال: سمندر سے اتنی شدید محبت کی آخر وہ کیا تھی کہ شادی کے بعد روجر کو بھی نہیں روک لیا؟
حنا بیات :میں بچپن سے ہی سمندر کے قریب رہی ہوں، ابھی تک ہمارے گھر سے سمندر نظر آتا ہے ، مجھے سمندر پر جا کر ایک عجیب سی آزادی کا احساس ہوتا ہے کھلا آسمان کھلی زمین کھلا پانی اور اگر وہاں بیٹھیں تو پانی اور ہوا کی آواز میں جوسر اور ردھم ہے اس سے واقعی اللہ یاد آتا ہے، ایک ایک لمحے میں عجیب سا اطمینان ہے، یہاں تک کہ آپ سورج چڑھتے اور اترتے ہوئے قریب سے دیکھ سکتے ہیں۔ ویسے سمندر تو اورملکوں میں بھی ہیں لیکن چونکہ یہ میرا ملک ہے میرا شہر ہے یہاں میرا گھر ہے میرا تو دل ہے یہاں یہ میرے قائد اعظم کا شہر ہے۔ آپ دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں، آپ کا دل آپ کی جڑیں وہیں ہوتی ہیں جہاں آپ کا گھر ہوتا ہے لیکن کراچی کے علاوہ میں بہاولپورگئی تو وہاں صفائی دیکھ کر عش عش کراٹھی، وہاں آج بھی ریاستی ورثے کے اثرات موجود ہیں۔
سوال: شا پنگ کا شوق ہے؟
حنابیات : شا پنگ کا شوق صرف اس حد تک ہے کہ جب کوئی ضرورت ہوتی ہے تو ایک لسٹ بناتی ہوں اور اس کے تحت جلدی جلدی شاپنگ کر لیتی ہوں۔ پہلے میں بہت کنجوس ہوتی تھی لیکن اب شاہ خرچ آدمی کے ساتھ رہتے رہے میں بھی ایسی ہوگئی ہوں کبھی کبھار جب یونہی نکل جاتی ہوں تو جو پسند آئے لے لیتی ہوں لیکن میرا دل نہیں چاہتا کہ میں صرف اپنے لئے خریداری کروں اور جب اپنی بہنوں کے لئے بھی کچھ لے لوں تو پھر وہ جیب پر بھاری پڑنے لگتا ہے۔
سوال: آپ عام زندگی میں کیسا لباس پہننا پسند کرتی ہیں؟
حنا بیات: اکثر لوگ مجھے چھیٹر تے ہیں کہ میرے لباس و انداز میں امی کاعکس جھلکتا ہے خصوصا میں امی کی طرح ہی ساڑھی پہنتی ہوں اس لئے میں اکثر کہتی ہوں کہ میں نے امی کاسٹائل چرالیا ہے اور کچھ میرا انداز بھی منفرد ہے۔ میری بھانجی نتاشہ کمال میرے کپڑے ڈیزائن کرتی ہے، شوبز تقریبات میں اس کے بنائے کپڑے پہنتی ہوں۔ ویسے میرا کوئی ایک سٹائل نہیں ہے میں کچھ بھی پہن لیتی ہوں خواہ مشرقی ہو یا مغربی ساڑھی،غرارہ ،تنگ پاجامہ شلوار اور پینٹس وغیرہ۔ مگر میں ڈھکا ہوا لباس ہی پہنتی ہوں۔ ہاں لیکن یہ ضرور دیکھتی ہوں کہ جس کپڑے کی جو قیمت ادا کر رہی ہوں اسے میں اتنا پہن سکوں گی یانہیں کیونکہ بعض عورتیں دس دس ہزار کے جوڑے تو لے لیتی ہیں مگر وہ ایک مرتبہ سے زیادہ پہنے نہیں جاتے تو میں ایسا نہیں کرتی میں پیسے کی اہمیت کو جانتی ہوں، میں یونہی پیسے پھینک نہیں سکتی کپڑوں کے رنگوں کے معاملے میں موسم کا خیال رکھتی ہوں مثلا گرمیوں میں نسبتا ہلکے رنگ اچھے لگتے ہیں اور سردیوں میں ذرا گہرے۔ مجھے لگتاہے بلیک کلر کے ساتھ کوئی بھی رنگ ملا کر انہیں تو وہ بہت اچھا لگتا ہے۔ میں کپڑوں کے ساتھ مختلف اسیسر یز بھی ضرور پہنتی ہوں کیونکہ اگر کپڑے سادہ بھی ہوں تو اسیریز کے ساتھ انہیں فارمل لک دی جاسکتی ہے۔
سوال:اپنے کرداروں کے لباس بھی آپ خود منتخب کرتی ہیں؟
حنابیات: بالکل! مجھے اپنے کرداروں کے لئے وارڈروب خود ڈیزائن کرنے کا بہت مزا آتا ہے، وارڈروب اگر پروڈکشن ہاوٴس بھی دے رہا ہوتو ڈائریکٹر میری رائے کو ضرور اہمیت دیتے ہیں۔ کردار کو بنانے کے لئے صرف کپڑے ہی نہیں، ان کے رنگ بھی کرداری نوعیت کے مطابق منتخب کرتی ہوں۔
سوال :فلم کرنے کے حوالے سے کیا سوچا ہے؟
حنابیات:فلم کے حوالے سے میری ایک ہی ڈیمانڈ ہے کہ مجھے کوئی ایساکردار دیا جائے جس کی فلم میں کوئی اہمیت ہو۔ آج کل کی فلموں میں کردار سازی پر بالکل توجہ نہیں دی جارہی اور میں کردار پر سمجھوتہ میں نہیں کرتی، آخر کیوں کروں؟ ، ہاں مجھے کامیڈی فلمیں زیادہ پسند ہیں، مجھے لگتا ہے کامیڈی کردار بے معنی نہیں ہوتے ، ہر ایک کا کوئی نہ کوئی مقصد اور پیغام ہوتاہے۔
سوال: ہمسفر کے بعد ماہرہ اور فوادتو بالی ووڈ پر چھا گئے ، آپ کو بھی ایسی آفرز تو آئی ہوں گی؟
حنا بیات: سچ کہوں تو انڈیا میں کام کرنے کے حوالے سے مجھے ہمیشہ سے وہی اندیشہ ر ہا جو کچھ عرصہ پہلے ہمارے اداکاروں کے ساتھ وہاں ہوا اور اہم بات یہ ہے کہ انڈیا نے کبھی ہمارے لوگوں کوسٹارنہیں بنایا بلکہ وہ ہمارے سٹارز بھی وہاں لے کر جاتے ہیں بلکہ اکثر انہیں زیرو کر دیتے ہیں۔ تاہم اگر کوئی منفرد معیاری کر دار مجھے آفر کیا جائے تو محض پاکستان اور انڈیا ہی نہیں، میں ایران جانے کو بھی تیار ہوں۔
سوال: شوبز میں کن لوگوں سے زیادہ دوستی ہے؟
حنابیات : میں نے ہمیشہ اپنا کام اور ذاتی زندگی کو الگ رکھا ہے اور ایسا صرف شوبز میں ہی نہیں ، اگر میں کسی بینک میں بھی جاب کرتی تو بھی ایسا ہی ہوتا... ہاں کچھ لوگ ایسے ہیں جوشو بز کے ذریعے مجھے نہیں ملے بلکہ پہلے سے میرے دوست تھے مثلا مصباح خالد کو میں بچپن سے جانتی ہوں، عائشہ عالم کو میں سکول سے جانتی ہوں۔ اب کچھ دوست ایسے ہیں جوشو بز کی وجہ سے ملے اور ان کے ساتھ کام کے بعد بھی میں وقت گزارناپسند کرتی ہوں جن میں حائصم حسین ‘شمیم ہلالی مہرین جبار، سرمد کھوسٹ حسیب حسن بیگل ، ماہرہ خان ، صنم سعید، روبینہ اشرف، عمیر رانا اور ارجمند شامل ہیں۔
سوال: آپ کوفلم بینی کا بھی شوق ہے تو کیسی فلمیں دیکھنا پسند کرتی ہیں؟
حنا بیات: کریزی کامیڈی سے لے کر انتہائی بلکہ خوفناک حد تک سنجید ہ فلمیں دیکھتی ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھے ڈراوٴنی فلمیں بھی پسند ہیں مثلا پاکستانی فلم آئینہ، ارمان ، تہذیب جبکہ بالی ووڈ میں گرودت کرن جوہر، سنجے لیلا بھنسالی اور منی رتنم کی سبھی فلمیں دیکھتی ہوں۔ ہا لہ وڈ کی مجھے”لو رینز وز آئل“ بہت پسند ہے۔ اس کے علاوہ میں اینیمیٹڈ اور ایرانی فلمیں بھی دیتی ہوں۔

سوال: میوزک میں پسندیدہ کون ہے؟
حنا بیات : میوزک میں ہمیشہ سے مجھے میڈم نور جہاں ، کشور کمار بہت پسند ہیں۔ بچپن میں امی کی وجہ سے میوزک سے بھی کافی لگاوٴ تھا فریدہ خانم اقبال بانو، صابری برادران اور نصرت فتح علی خاں کو بہت سنتے تھے، اس لئے قوالیوں اور غزلوں کا میرا خاص ذوق ہے۔ آج کے دور کے گلوکاروں کی بات کریں تو شفقت امانت علی ،راحت فتح علی خاں، اے آر رحمن کامیوزک بہت پسند ہے، البتہ مجھے مغربی طرز کا میوزک اتنا زیادہ پسند نہیں ہے۔ جہاں تک گانے کی بات ہے میں ہمنوائی میں شامل ہو جاتی ہوں مگر اکیلے میں کبھی غسل خانے میں بھی نہیں گایا۔
سوال: آپ کوڈ انس کا بھی شوق ہے تو بھی ڈانس سے متعلق کوئی کردارکرنے کی خواہش نہیں ہوتی؟
حنابیات: ڈانس کا کوئی ایساویسا شوق۔۔۔ ڈرامہ سیر یل عون زار اور آہستہ آہستہ میں، میں نے تھوڑا بہت ڈانس کیا تھالیکن ہمارے ہاں ڈانس کے حوالے سے کوئی ایسا کردار مجھے نظر بھی نہیں آتا لیکن اگر بھی ایسا ہوتو میں ضرور کروں گی۔ کچھ ہی دن پہلے مجھے ایک خاتون ملی جو کہنے لگی کہ آپ نے اور نگریزا میں وہ کردار کیوں نہیں کیا؟ مجھے لگا وہ مجھے ارسہ غزل کے کردار کے بارے میں کہہ رہی ہیں تو انہوں نے کہا نہیں وہ جوثنا فخرنے کیا ہے، مجھے بڑی حیرت ہوئی اور میں نے اس کے پروڈیوسر کو بتایا تو و کہنے لگے میں تو یہ خیال ہی نہیں آیا۔ بہر حال میری بھی خواہش ہے کہ کوئی کامیڈی، کوئی ڈانس والا یا چٹ پٹا کر دار ملے۔
سوال:سنا ہے آپ کو گرمی سے گھبراہٹ ہوتی ہے تو کراچی میں گزارا کیسے کرتی ہیں؟
حنابیات : مجھے کراچی کا موسم بہت اچھا لگتا ہے ، ہاں البتہ ہیومیڈیٹی سے گھبراہٹ ہوتی ہے (مسکراتے ہوئے کیونکہ اس میں میرے بال خراب ہوجاتے ہیں۔ امی ہمیشہ کہتی ہیں کراچی بڑا غریب پرور شہر ہے گرمی ہوتی ہے تو تیز ہوائیں چلتی ہیں جبکہ سردی میں تیز دھوپ نکلتی ہے ایسے میں کوئی غربت کا ما راشخص جو سردیوں اور گرمیوں کے الگ بسترنہیں لے سکتا، اس کا بھی گزارا ہو جاتا ہے۔ ویسے مجھے کراچی سے زیادہ لاہور کی گرمی سے گھبراہٹ ہوتی ہے جس میں بہت گھٹن ہوتی ہے۔