سعودی عرب کی پہلی تھیٹر ادکارہ نجات مفتاح

سعودی عرب کی پہلی تھیٹر ادکارہ نجات مفتاح

نوجوان نجات مفتاح جو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی طالبہ ہیں، پہلی بار عوامی سطح پر پیش کیے گئے تھیٹر ڈرامے میں ایک بری خاتون کا کردار ادا کرکے اداکاری کے کیریئر کا آغاز کردیا

پیر فروری 7:58 pm
ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 فروری2018ء) گزشتہ برس دسمبر میں سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار خواتین کا کنسرٹ منعقد کیا گیا تھا، تاہم اب پہلی بار مقامی خاتون نے تھیٹر میں اداکاری کرکے نئے دور کا آغاز کردیا۔نوجوان نجات مفتاح جو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی طالبہ ہیں، انہوں نے پہلی بار عوامی سطح پر پیش کیے گئے تھیٹر ڈرامے میں ایک بری خاتون کا کردار ادا کرکے اداکاری کے کیریئر کا آغاز کردیا۔

اس کنسرٹ میں لبنانی گروکارہ ببا توازی نے گلوکاری کے جوہر دکھائے۔خواتین کے میوزک کنسرٹ کا انعقاد سعودی حکومت کے اصلاحاتی پروگرام کے تحت کیا گیا، جس کے تحت 2030 تک نہ صرف ثقافت، میوزک، کھیلوں، انفارمیشن ٹیکنالوجی و صنعتی شعبوں میں خواتین کو ذیادہ سے ذیادہ مواقع فراہم کرنا ہے۔

(خبر جاری ہے)

وڑن

خبر کی مزید تفصیل پڑھئیے

2030 کے تحت ہی سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی ختم کرکے انہیں رواں برس جولائی سے ڈرائیونگ کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

اسی وڑن کے تحت ہی سعودی عرب میں سینما کھولے گئے ہیں، اور گزشتہ برس جنوری میں وہاں 35 سال بعد پہلی فلم ریلیز کی گئی تھی۔ اسی وڑن کے تحت ہی اب نجات مفتاح نے تھیٹر ڈرامے میں اداکاری کرکے نئی تاریخ رقم کردی۔العربیہ کے مطابق نجات مفتاح پہلی بار 9 فروری کو دارالحکومت ریاض میں ہونے والے تھیٹر ’دی امپیریئرز نیو گروو‘ میں پہلی بار جلوہ گر ہوئیں، جس میں انہوں نے عظمیٰ نامی بری خاتون کا کردار ادا کیا۔خیال رہے کہ گزشتہ دسمبر میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ’کنگ فہد کلچر سینٹر‘ میں پہلی بار خواتین کا میوزک کنسرٹ پروگرام منعقد کیا گیا تھا۔۔