ثنا سفیناز کو نئی لان کلیکشن کی تشہیر پر تنقید کا سامنا

ثنا سفیناز نے کینیا میں اپنی نئی لان کلیکشن کی شوٹ کی جس میں ماڈلز کے ارد گرد سیاہ فارم افراد کو دکھایا گیا مہنگی لان کی تشہیر غریب عوام کو استعمال کر کے کی جا رہی ہے جس پر کمپنی کو شرم آنی چاہیے ،لوگوں کا رد عمل نئی لان کلیکشن کی تشہیری مہم افریقہ کے قدیم فیشن اور رنگوں سے متاثر ہے ،کمپنی نے تمام تصاویر کو سوشل میڈیا سے ہٹا دیا

ثنا سفیناز کو نئی لان کلیکشن کی تشہیر پر تنقید کا سامنا
ممبئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مارچ2018ء) ملبوسات بنانے والی پاکستان کی معروف برانڈ ثنا سفیناز کو اپنی نئی لان کلیکشن کی تشہیر پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑگیا۔موسمِ بہار کی آمد کے ساتھ ہی لان کی نت نئی کلیکشن بھی متعارف کروا دی جاتی ہے جس کی تشہیر کیلئے کمپنیاں نئے نئے انداز اپناتی ہیں، کئی مرتبہ تو یہ تشہیری مہم کامیاب ہوجاتی ہے تاہم کبھی چھوٹی سی غلطی بھی نقصان دہ ثابت ہوجاتی ہے۔

ثنا سفیناز نے حال ہی میں کینیا میں اپنی نئی لان کلیکشن کی شوٹ کی جس میں ماڈلز کے ارد گرد سیاہ فارم افراد کو بھی دکھایا گیا۔جیسے ہی یہ تصاویر منظرِ عام پر آئیں، سوشل میڈیا پر اس کے خلاف غصے کا اظہار شروع ہوگیا اور صارفین ٹوئٹر پر یہ کہتے نظر آئے کہ اس مہم کے ذریعے کمپنی نسل پرستی اور صنفی امتیاز کو ہوا دے رہی ہے۔

(جاری ہے)

کچھ لوگوں کے مطابق مہنگی لان کی تشہیر غریب عوام کو استعمال کر کے کی جا رہی ہے جس پر کمپنی کو شرم آنی چاہیے۔

شدید تنقید کے باعث ثنا سفیناز برانڈ نے ان تمام تصاویر کو سوشل میڈیا سے ہٹا دیا اور انسٹا گرام پر ایک پوسٹ کے ذریعے وضاحت کی۔۔کمپنی کے مطابق نئی لان کلیکشن کی تشہیری مہم افریقہ کے قدیم فیشن اور رنگوں سے متاثر ہے اور اس مہم کا مقصد افریقی خواتین کو بااختیار بنانا اور ان کی مدد کرنا ہے۔کہا گیا کہ یہ مہم خواتین میں شعور پیدا کرنے کے لیے کی جاتی ہے اور یہ بھی کینیا کی خواتین کے لیے ہے۔

ثنا سفیناز نے بتایا کہ کینیا کے شہر مسائی میں وہاں کے حکومتی عہدیداران سمیت تمام لوگوں نے ٹیم کا والہانہ استقبال کیا ،جہاں ان کی ثقافت کا تجربہ بھی ہوا۔۔کمپنی نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مسائی کے سربراہ سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اس لان کلیکشن کی شوٹ سے ہونے والی آمدنی بطور فنڈز وہاں کے بچوں کی تعلیم، صحت اور خواتین کے اخراجات کیلئے فراہم کی جائے گی۔کہا گیا کہ اس لان مہم کا مقصد کسی کے جذبات مجروح کرنا یا نسل پرستی کو فروغ دینا نہیں تھا، لیکن پھر بھی ان تمام تصاویر کو ہٹا لیا گیا ہے۔ کمپنی نے معذرت کرتے ہوئے لکھا کہ اس مہم کے پیچھے کوئی منفی سوچ نہیں تھی بلکہ اس کا مقصد مسائی کے افراد کے ساتھ کام کرکے ان کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 10/03/2018 - 17:15:01

Your Thoughts and Comments