پاکستان کے نامور غزل گائیک استاد غلام علی 78برس کے ہو گئے

پاکستان کے نامور غزل گائیک استاد غلام علی 78برس کے ہو گئے
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 دسمبر2018ء) پاکستان کے نامور غزل گائیک استاد غلام علی 78برس کے ہو گئے ۔غلام علی 5دسمبر 1940کو پیدا ہوئے اور بڑے غلام علی خان کے شاگرد ہیں۔غلام علی نے 1960 ء میں ریڈیو پاکستان، لاہور کے لیے گانے کا آغاز کیا۔ ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی غزلوں کی دھنیں بھی ترتیب دیں۔ ان کی دھنیں راگ کی بنیاد پر ہوتی ہیں اور بعض اوقات ان میں مختلف راگوں کا امتزاج پایا جاتا ہے۔

وہ گھرانا-گائیکی کو غزل کے ساتھ ملانے کے لیے معروف ہیں جو سامعین کے دل کو چھو لیتی ہے۔ انہوں نے پنجابی گیت بھی عمدہ گائے ہیں جنھیں خاصی شہرت حاصل ہوئی ہے۔ پاکستان سے تعلق رکھنے کے باوجود، وہ بھارت میں بھی اسی طرح مقبول ہیں۔ وہ آشا بھوسلے کے ساتھ ایک مشترکہ البم بھی کرچکے ہیں۔

(جاری ہے)

انکا شمار عصر حاضر کے بہترین غزل گلوکاروں میں ہوتا ہے۔

غزل سرائی میں انکا انداز اور اتار چڑھا منفرد مانا جاتا ہے کیونکہ اس میں دیگر غزل گائیکوں کے برعکس، ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کا رنگ جھلکتا ہے۔ پاکستان، بھارت، نیپال، بنگلہ دیش کے علاوہ امریکہ ،برطانیہ اور مشرق وسطی کے ممالک میں بھی خاصے مقبول ہیں۔ غلام علی کی متعدد غزلیں بالی ووڈ فلموں میں بھی لی گئی ہیں۔ انکی مشہور و معروف غزلوں میں چپکے چپکے رات دن، کل چودھویں کی رات تھی، ہنگامہ ہے کیوں برپا، کیا ہے پیار جسے، یہ دل یہ پاگل دل اور ہم کو کس کے غم نے مارا شامل ہیں۔ انکا حالیہ البم حسرتیں گلوبل انڈین میوزک اکیڈمی ایوارڈ 2014ء کے موقع پر بہترین غزل البم کے زمرے کے لیے نامزد ہوا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 05/12/2018 - 13:52:45

Your Thoughts and Comments