عزیز میاں قوال کو مداحوں سے بچھڑے 18 برس بیت گئے

حکومت پاکستان کی جانب سے 1989 میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا

عزیز میاں قوال کو مداحوں سے بچھڑے 18 برس بیت گئے
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) اپنی قوالیوں کے ذریعے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کرنے والے شہرہ آفاق قوال عزیز میاں کو ہم سے بچھڑے 18 برس بیت گئے لیکن ان کی سحر انگیز قوالیاں آج بھی حاضرین پر وجد طاری کردیتی ہیں۔فن قوالی کی اصل روح کو دنیا کے سامنے جن قوالوں نے پیش کیا ان میں عزیز میاں قوال کا نام نمایاں ہے۔ عزیز میاں قوال 17 اپریل 1942 کو نئی دلی میں پیدا ہوئے، قیام پاکستان کے بعداہل خانہ کے ہمراہ لاہور میں سکونت اختیار کی۔

معروف قوال استاد عبدالوحید سے قوالی کے فن سیکھنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے عربی، فارسی اور اردو میں ایم اے کیا۔ ان کا نام عبدالعزیز تھا جب کہ ’’میاں‘‘ ان کا تکیہ کلام تھا جس کی وجہ سے وہ عزیز میاں کے نام سے جانے جاتے تھے۔

(جاری ہے)

ان کی گائی ہوئی قوالیوں میں ’’میں شرابی‘‘، ’’تیری صورت‘‘ اور ’’اللہ ہی جانے کون بشر ہے‘‘ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود آج بھی مقبول عام ہیں۔

عزیز میاں نے وطن عزیزسمیت دنیا کے بیشتر ملکوں میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے سامنے یادگار پرفارمنس پیش کرنے پر دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کی۔ وہ اپنی بیشتر قوالیاں خود لکھتے تھے جب کہ انہوں نے علامہ محمد اقبال اور قتیل شفائی کا کلام بھی انتہائی مہارت سے گایا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے 1989 میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 06/12/2018 - 12:23:50

Your Thoughts and Comments