ایشا امبانی کی مہنگی ترین شادی میں نامور شخصیات نے چار چاند لگا دیئے

شادی میں بالی وڈ کے نوبیاہتا جوڑے پریانکا نک جونس اور دپیکا رنویر بھی سب کی توجہ کا مرکز بنے

جمعرات دسمبر 18:38

ایشا امبانی کی مہنگی ترین شادی میں نامور شخصیات نے چار چاند لگا دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 دسمبر2018ء) بھارت کے ارب پتی تاجر مکیش امبانی کی صاحبزادی ایشا امبانی شادی کے بندھن میں بندھ گئیں ،ْاس مہنگی ترین شادی میں عزیز و اقارب سمیت نامور ارب پتی شخصیات، سیاستدانوں، کھلاڑیوں اور بالی وڈ اسٹارز نے بھی شرکت کی اور چار چاند لگا دیئے۔ایشا امبانی ایک اور ارب پتی تاجر کے بیٹے آنند پیرامل کے ساتھ گزشتہ روز بھارتی شہر ممبئی میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں جبکہ اس سے قبل سنگیت اور دیگر تقریبات بھارتی شہر ادھے پور میں منعقد کی گئی تھیں۔

اٴْدھے پور میں ہونے والی شادی سے پہلے کی تقریبات میں ملکی اور غیر ملکی مہمانوں کو پہنچانے کیلئے 100 چارٹرڈ طیاروں کی خدمات حاصل کی گئیں جبکہ کئی فائیو اسٹار ہوٹلز بھی بٴْک کروائے گئے تھے۔

(جاری ہے)

اس شادی کو گذشتہ 35 برسوں میں ہونے والی مہنگی ترین شادی قرار دیا جارہا ہے جس میں پیسا پانی کی طرح بہایا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شادی پر آنے والے اخراجات کا تخمینہ تقریباً دس کروڑ ڈالر (14 ارب پاکستانی روپی) لگایا گیا ہے۔

ایشا امبانی کی شادی میں دنیا بھر سے مہمان شرکت کے لیے بھارت پہنچے، جن میں امریکا کی سابق خاتونِ اول ہیلری کلنٹن اور مشہور امریکی گلوکارہ بیونسے بھی شامل تھیں۔علاوہ ازیں امیتابھ بچن، شاہ رخ خان، عامر خان، انیل کپور، ریکھا، مادھوری ڈکشت، روینہ ٹنڈن، عالیہ بھٹ، کرن جوہر اور دیگر بالی وڈ ستارے بھی شریک تھے۔شادی میں بالی وڈ کے نوبیاہتا جوڑے پریانکا نک جونس اور دپیکا رنویر بھی سب کی توجہ کا مرکز بنے۔

شادی کی تمام رسمیں ہندو رسم رواج سے نبھائی گئیں اور دلہن دلہا بھی روایتی عروسی ملبوسات میں دکھائی دئیے۔بالی وڈ ستاروں نے بھی جھل مل کردہ عروسی ملبوسات کا انتخاب کیاجہاں کسی نے ساڑھی تو کسی نے لہنگا چولی کو ترجیح دی۔شادی کی تقریبات میں بالی وڈ ستاروں کے علاوہ بھارتی کرکٹ کھلاڑیوں نے بھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ شرکت کی۔شادی میں بے شمار سیلفیز، تصاویر اور ویڈیوز بنائی گئیں جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/12/2018 - 18:38:41

Your Thoughts and Comments