گھریلو تشدد میرے لیے ایک بھیانک خواب ہے‘ اداکارہ اون راکیل ووڈ

جب مجھ پر تشدد کرنیوالا مجھے دھمکی دیتا یا حملہ کرتا تو میں اپنی کلائی کاٹ لیتی تاکہ وہ رک جائے میں ٹھیک نہیں ہوں کیونکہ میں جتنا بھی کام کرلوں میں ہمیشہ سکون کی تلاش میں رہتی ہوں‘اداکارہ

جمعرات مارچ 12:48

گھریلو تشدد میرے لیے ایک بھیانک خواب ہے‘ اداکارہ اون راکیل ووڈ
لاس اینجلس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مارچ2019ء) معروف اداکارہ ایون راکیل ووڈ نے سوشل میڈیا پر انکشاف کیا ہے کہ پرتشدد تعلق کے نتیجے میں وہ خود کو نقصان پہنچانے کی عادی ہوگئی تھیں۔انسٹاگرام اور ٹوئٹر میں مختلف پوسٹس میں انہوں نے گھریلو تشدد کے تجربے کا ذکر کیا جو اب بھی ان کے لیے بھیانک خواب ہے۔آئی ایم ناٹ اوکے کے ہیش ٹیگ کے ساتھ انہوں نے یہ پوسٹس شیئر کیں، یہ ہیش ٹیگ گھریلو تشدد کو اجاگر کرنے والی تحریر کا حصہ ہے۔

اداکارہ نے ایک ویڈیو میں بتایامیں ٹھیک نہیں ہوں کیونکہ میں جتنا بھی کام کرلوں میں ہمیشہ سکون کی تلاش میں رہتی ہوں اور میں سوچتی ہوں کہ کیسے خود کو محفوظ سمجھوں۔انہوں نے کہا میں تاحال کوشش کررہی ہوں کہ اس تجربے کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ جائوں مگر میں نہیں جانتی کہ میں کبھی ایسا کر پائوں گی یا نہیں، مجھے نہیں یاد کہ میں نے کبھی محسوس کیا ہو کہ میں خوفزدہ نہیں۔

(جاری ہے)

ایک ٹوئٹر پوسٹ میں انہوں نے لکھا 'دو سال کے پرتشدد تعلق کے نتیجے میں خود کو نقصان پہنچانے کی عادی ہوگئی تھی، جب مجھ پر تشدد کرنے والا مجھے دھمکی دیتا یا حملہ کرتا تو میں اپنی کلائی کاٹ لیتی تاکہ وہ رک جائے، ایسا کرنے سے عارضی طور پر تشدد رک جاتا۔ اس وقت میں اس تشدد کو روکنا چاہتی تھی اور جانے سے خوفزدہ تھیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں زبردستی ویڈیوز میں نازیبا کام کرنے پر مجبور کیا جاتا جس سے انہیں نفرت تھی تاکہ اگر وہ کچھ بولیں تو وہ شخص ان ویڈیوز کو اداکارہ کے خلاف استعمال کرسکے۔

انہوں نے کلائی کاٹنے کے نشانات کی تصویر بھی انسٹاگرام پر شیئر کی۔31 سالہ اداکارہ نے 2010 کے ایک فوٹوشوٹ کی تصاویر بھی شیئر کیں اور بتایا کہ اس تعلق کے نتیجے میں وہ اس وقت ذہنی اور جسمانی طور پر کتنی مشکلات کا شکار تھیں۔انہوں نے لکھاکہ 'فوٹوشوٹ کے دن میں اس پرتشدد تعلق کے نتیجے میں بہت کمزور ہوچکی تھی، میں کمزور تھی، بہت زیادہ ڈپریس اور بمشکل کھڑی تھی، شوٹ کے دوران میں رونے لگی اور مجھے گھر بھیج دیا گیا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 14/03/2019 - 12:48:04

Your Thoughts and Comments