گانا گانے کی پاداش میں مجھے گھر سے نکال دیا گیا تھا گلوکار عطا اللہ عیسی خیلوی

منگل مئی 23:04

گانا گانے کی پاداش میں مجھے گھر سے نکال دیا گیا تھا گلوکار عطا اللہ ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 14 مئی2019ء) نامور گلوکار عطا اللہ عیسی خیلوی نے کہا ہے کہ گلوکاری میں دو چیزیں لازمی ہیں جس میں سر اور لے نہیں وہ گلوکار ہو ہی نہیں سکتا ،یہ دو چیزیں ہی کسی کو گلوکار بنانے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں ۔انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر کسی میں ٹیلنٹ نہ ہو تو نہ وہ گلوکار اور اداکار نہیں بن سکتا ہے ۔

(جاری ہے)

مجھے گائیکی کی دنیا میں 41سال کا عرصہ گزر چکا ہے ،میں نے 16سال کی عمر میں گانا شروع کیا اور اسی جرم کی پاداش میں مجھے گھر سے نکال دیا گیا اور میں نے اپنی جدوجہد کو جاری رکھا اور بلآخر خدا نے مجھے وہ منزل عطا کر دی جسکی کوئی خواہش کر سکتا ہے ۔ میرے گانے میں سوز اور درد قدرتی ہے ۔عطا اللہ عیسی خیلوی نے کہا کہ میں پاکستانی ہوں اور پاکستانی ہونے پر مجھے فخر ہے کیونکہ آج میں جو کچھ بھی ہوں وہ پاکستان کی وجہ سے ہی ہوں

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 14/05/2019 - 23:04:39

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments