آواز کا جانا سب سے زیادہ پریشان کن بات تھی، گلو کارہ شکیرا

ہمیشہ سوچتی تھی ایک دن میں بہت سی چیزوں سے دور ہوجائوں گی، اپنی جوانی کھودوں گی، اپنی خوبصورتی سے محروم ہوجائوں گی، آواز کھوجانے کے بارے میں نہیں سوچا ، انٹرویو

جمعرات نومبر 15:29

آواز کا جانا سب سے زیادہ پریشان کن بات تھی، گلو کارہ شکیرا
لاس اینجلس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 نومبر2019ء) دنیا بھر میں مشہور کولمبیا کی نامور گلوکارہ شکیرا نے اپنی زندگی کے سیاہ ترین لمحے کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ اٴْن کی آواز کا جانا اٴْن کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن بات تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کولمبیا کی سپر اسٹار، گلوکارہ شکیرا نے کہا کہ وہ دو سال قبل عارضی طور پر اپنی آواز سے محروم ہوگئی تھیں، اس خبر کا ملنا اٴْن کی زندگی کا ’سیاہ ترین لمحہ‘ تھا جس نے انہیں شدید متاثر کیا۔

تین مرتبہ گریمی ایوارڈ اپنے نام کرنے والی گلوکارہ نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ نومبر 2017 میں اٴْن پر انکشاف ہوا تھا کہ انہیں ’نکسیر‘ نامی بیماری لاحق ہے، اس بیماری میں ناک سے خون آتا ہے اور اٴْن کی آواز بھی غائب ہوگئی تھی۔

(جاری ہے)

شیکرا پر یہ خبر پہاڑ بن کر ٹوٹی کیونکہ اٴْن کیلئے آواز ہی سب کچھ تھی۔شکیرا نے کہا کہ جب آپ کے پاس سب کچھ موجود ہو تو آپ اٴْن چیزوں کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے جبکہ مجھے اپنی آواز پر فخر تھا، میری آواز میری شناخت تھی۔

انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ ایک دن میں بہت سی چیزوں سے دور ہوجائوں گی، اپنی جوانی کھودوں گی، اپنی خوبصورتی سے محروم ہوجائوں گی اور یہاں تک کہ ایک دن اپنے دوستوں کو بھی کھو دوں گی۔ لیکن میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ میں اپنی آواز بھی کھوسکتی ہوں۔شکیرا نے بتایا کہ جب تک اٴْنہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ دوبارہ گانا گا سکیں گی یا نہیں تو وہ وقت اٴْن کی زندگی کا سب سے ’تاریک ترین‘ لمحہ تھا۔انہوں نے کہا کہ میں اس کو ’معزہ‘ کہوں گی کہ میری آواز قدرتی طور پر ٹھیک ہوگئی، بغیر کسی سرجری کے جبکہ ڈاکٹروں نے انہیں سرجری کا کہا تھا۔ پھر 2018 میں انہوں نے کامیاب کانسرٹ کیا۔

متعلقہ ستارے‎ :

Shakira

شکیرا

Shakira

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

فنی صلاحیتوں کے قدردان دنیا بھرمیں موجود ہوتے ہیں،صائمہ خان

فنی صلاحیتوں کے قدردان دنیا بھرمیں موجود ہوتے ہیں،صائمہ خان

فلم و سٹیج کی معروف اداکارہ صائمہ خان کا کہنا ہے کہ فنی صلاحیتوں کے قدردان کسی ایک ملک میں نہیں بلکہ دنیا بھرمیں موجود ہوتے ہیں۔ اس لیے فنون لطیفہ اورکھیل کے شعبوں سے وابستہ لوگوں کے چاہنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے اس لیے فنون لطیفہ سے وابستہ ہر ... مزید

وقت اشاعت : 07/11/2019 - 15:29:47

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments