ریا چکر بورتی کا سارہ علی خان پر منشیات لینے کا الزام

سوشل میڈیا پرصارفین برس پڑے ، سیف علی خان کی بیٹی سارہ علی خان کو تمام مصنوعات کے اشتہارات سے ہٹانے کا مطالبہ

ہفتہ ستمبر 21:54

ریا چکر بورتی کا سارہ علی خان پر منشیات لینے کا الزام
ممبئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 ستمبر2020ء) بالی وڈ اداکارہ ریا چکر بورتی نے انسداد منشیات فورس نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کو دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ سارہ علی خان اور دیگر چند لوگ بھی ڈرگ اسکینڈل میں ملوث تھے۔خیال رہے کہ نار کوٹکس بیورو نے ریا چکربورتی کو 8 ستمبر کو رواں برس جون میں خودکشی کرنے والے اداکار سشانت سنگھ کیلئے منشیات کا بندوبست کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

ریا چکربورتی کو مسلسل تین دن تک تفتیش کے بعد اس وقت گرفتار کیا گیا جب انہوں نے نارکوٹکس حکام کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ وہ سابق بوائے فرینڈ سشانت سنگھ کے لیے منشیات کا بندوبست کرتی رہی تھیں۔ریا چکربورتی سے قبل ہی نارکوٹکس بیورو نے ان کے بھائی شووک چکر بورتی اور سشانت سنگھ راجپوت کے منیجر سیموئل مرنڈا اور باورچی دیپیش ساونت کو بھی گرفتار کیا تھا جب کہ اداکارہ سمیت اب تک مجموعی طور پر 10 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

(جاری ہے)

ریا چکربورتی کو گرفتار کیے جانے کے بعد ایک رات نارکوٹکس کے دفتر میں ہی رکھا گیا تھا، تاہم بعد ازاں 9 ستمبر کی صبح کو ہی انہیں ممبئی کی بدنام زمانہ بائکٴْلا جیل منتقل کردیا گیا تھا۔جیل میں دو راتیں گزارنے کے بعد ریا چکربورتی کے وکیل نے ممبئی کی خصوصی عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی، تاہم عدالت نے ان کی درخوست مسترد کردی تھی۔

رپورٹ کے مطابق این سی بی کی تفتیش کے دوران ریا چکر بورتی نے بتایا کہ ان کے اور سشانت سنگھ کے ساتھ راکول پریت سنگھ اور ڈیزائنر سیمون کھمباٹا بھی منشیات لیتے تھے۔ریا چکر بورتی کے انکشاف کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے شوبز سے جڑی ان شخصیات پر تنقید کی گئی اس کے ساتھ ہی ٹوئٹر پر سیف علی خان کی بیٹی سارہ علی خان کو تمام مصنوعات کے اشتہارات سے ہٹانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ایک صارف نے لکھا کہ سارہ علی خان کو تمام اشتہارات سے ہٹایا جائے، ہم اقربا پروری اور منشیات استعمال کرنے والوں سے تنگ آگئے ہیں۔انہوں نے لکھا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی مصنوعات استعمال کریں تو فوری ایکشن لیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 12/09/2020 - 21:54:00

Your Thoughts and Comments