چیڈوک بوسمین کی آخری فلم سیاہ فام افراد کے استحصال پر مبنی

’’ما رینی، بلیک بوٹم‘‘ کی کہانی معروف افریقی نژاد امریکی گلوکارہ ما رینی کے میوزیکل کیریئر کے گرد گھومتی ہے

جمعرات اکتوبر 12:16

چیڈوک بوسمین کی آخری فلم سیاہ فام افراد کے استحصال پر مبنی
نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 اکتوبر2020ء) رواں ماہ 29 اگست کو آنتوں کے کینسر کے باعث محض 43 سال کی عمر میں چل بسنے والے ہولی وڈ اداکار چیڈوک بوسمین کی آخری فلم ’’ما رینی، بلیک بوٹم‘‘ کا پہلا ٹریلر ریلیز کردیا گیا۔’’ما رینی، بلیک بوٹم‘‘ کی کہانی معروف افریقی نژاد امریکی گلوکارہ ما رینی کے میوزیکل کیریئر کے گرد گھومتی ہے۔

ما رینی 1885 میں امریکی ریاست جارجیا میں افریقی نڑاد سیاہ فام گھرانے میں پیدا ہوئی تھی، جن کے آباؤ اجداد کو غلام کے طور پر امریکا لایا گیا تھا۔فلم کی مرکزی کہانی امریکا میں 19 ویں صدی میں غلام گھرانوں میں پیدا ہونے والے سیاہ فام افراد کے استحصال کے گرد گھومتی ہے، تاہم فلم میں زیادہ تر استحصال کا نشانہ بننے والے موسیقاروں کو دکھایا گیا ہے۔

(جاری ہے)

’’ما رینی، بلیک بوٹم‘‘ کی کہانی 1920 کی ہے جب کہ بلوز موسیقی امریکا میں اپنی جڑیں پختی کر رہی تھی، یہ موسیقی افریقہ سے غلام بنا کر لائے گئے سیاہ فام امریکیوں کی خصوصی موسیقی تھی۔’’ما رینی، بلیک بوٹم‘‘ میں بھی بلوز موسیقی میں اپنا نام بنانے والی گلوکارہ ما رینی اور ان کے سیاہ فام بینڈ کو دکھایا گیا ہے، جنہیں جنسیت، رنگ و نسل کی بنیاد پر استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔

’’ما رینی، بلیک بوٹم‘‘ میں چیڈوک بوسمین نے گلوکارہ ما رینی کے ایک پیانو بجانے والے رکن کا کردار ادا کیا ہے، جو مستقبل میں امریکا میں اپنی میوزک ریکارڈسٹ کمپنی بنانے کے خواہاں ہوتے ہیں۔مختصر دورانیے کے ٹریلر کو دیکھ کر عندیہ ملتا ہے کہ فلم میں نہ صرف سیاہ فام موسیقاروں بلکہ اس وقت استحصال کا نشانہ بننے والے سیاہ افراد کی زندگی بھی دکھائی جائے گی۔

شوبز ویب سائٹ ورائٹی کے مطابق 'ما رینی، بلیک بوٹم' کی کہانی اسی نام سے بنائے گئے امریکی ایوارڈ یافتہ ڈرامے سے لی گئی ہے اور اب اس فلم کو نیٹ فلیکس پر جاری کیا جائے گا۔ٹریلر میں بتایا گیا ہے کہ ’’ما رینی، بلیک بوٹم‘‘ کو رواں برس 18 دسمبر کو نیٹ فلیکس پر ریلیز کیا جائے گا۔’’ما رینی، بلیک بوٹم‘‘ کینسر سے چل بسنے والے چیڈوک بوسمین کی آخری فلم ہوگی، انہوں نے اپنے کیریئر میں محض ڈیڑھ درجن سے بھی کم فلموں میں کام کیا تھا۔

چیڈوک بوسمین کی کامیاب ترین فلم 'بلیک پینتھر' تھی، جسے 2018 میں ریلیز کیا گیا تھا، انہوں نے چند بائیوگرافی فلموں میں کھلاڑیوں، سیاستدانوں اور انسانی حقوق کے سیاہ فام علمبرداروں کے شاندار کردار بھی ادا کیے۔چیڈوک بوسمین نے 2003 میں اداکاری کی شروعات کی تھی اور ابتدائی طور پر انہوں نے ٹی وی میں قسمت آزمائی اور بعد ازاں 2013 کے بعد فلموں میں دکھائی دیے۔

’’بلیک پینتھر‘‘ جیسا شاندار اور فلمی ناقدین و شائقین کے خیالات بدلنے والا کردار ادا کرنے کے باوجود چیڈوک بوسمین کو آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد نہیں کیا گیا تھا تاہم انہوں نے دیگر چند ایوارڈز جیت رکھے تھے۔چیڈوک بوسمین رواں برس 29 اگست کو آنتوں کے کینسر کے باعث چل بسے تھے، ان میں 2016 میں چوتھے اسٹیج کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 22/10/2020 - 12:16:54

Your Thoughts and Comments