کمل ہاسن نے ایک فلم کے سین میں مجھے کاٹ دیا تھا جس پر پھوٹ کر رویا تھا،نوازالدین صدیقی

کمل ہاسن مکمل، بے تحاشہ صلاحتیں رکھنے والے اداکار ہیں، میں ان کے آگے کچھ نہیں بول سکتا،انٹرویو

جمعرات اکتوبر 18:25

کمل ہاسن نے ایک فلم کے سین میں مجھے کاٹ دیا تھا جس پر پھوٹ کر رویا تھا،نوازالدین ..
ممبئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 اکتوبر2020ء) بھارتی اداکار نواز الدین صدیقی نے کہاہے کہ سینئر اداکار کمل ہاسن نے اپنی ایک فلم کے سین میں مجھے کاٹ دیا تھا جس پر میںپھوٹ پھوٹ کر رویا تھا ۔ ایک انٹرویومیں نوازالدین صدیقی نے اپنے کیریئر کے آغازسے متعلق بات کی ۔ انہوں نے کہاکہ ’کیریئر کے آغاز میں انہوں نے بہت کچھ برداشت کیا جیسے کہ فلموں میں عکس بند کروائے گئے سین کا آخر میں کاٹ دیا جانا، چھوٹے چھوٹے کردار حاصل کرنے کیلئے بہت محنت کرنا وغیرہ‘۔

نواز الدین صدیقی نے بھارتی سینئر اداکار، ڈانسر، فلم ڈائریکٹر، اسکرین رائٹر، پروڈیوسر، پلے بیک سنگر اور سیاست دان کمل ہاسن کو اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کمل ہاسن سے بہت متاثر ہیں اور کمل کا نام بھی لیتے ہوئے ہچکچاتے ہیں، اٴْن سے کمل ہاسن کا آسانی سے نام بھی نہیں لیا جاتا، وہ کمل ہاسن ، دلیپ کمار، نصیرالدین شاہ ، اینتھونی ہاپکنز اور ڈینزل واشنگٹن کو اپنا اٴْستاد مانتے ہیں۔

(جاری ہے)

نواز الدین صدیقی نے بتایا کہ ’اٴْن کا خواب تھا کہ وہ کمل ہاسن کے ساتھ سکرین پر دکھائی دیں، قسمت نے انہیں یہ موقع بھی دیا، انہوں نے کمل ہاسن کے ساتھ ایک ہندی فلم ’ہے رام‘ میں معمولی سا کردار ادا کیا، وہ کمل ہاسن کی فلم میں معمولی سا کردار ملنے پر بچوں کی طرح خوش ہو رہے تھے، مگر جب فلم فائنل ہوئی تو اٴْن کا کمل ہاسن کے ساتھ فلمایا گیا سین فلم میں موجود نہیں تھا‘۔

نواز الدین صدیقی نے کہا کہ’فلم کی ایڈیٹنگ کے دوران وہ سین کاٹ دیا گیا تھا جس پر وہ خوب پھوٹ پھوٹ کر روئے تھے اور اٴْنہیں کمل ہاسن کی بیٹی بھارتی اداکارہ شروتی ہاسن نے خاموش کروایا تھا۔‘انہوں نے بتایا کہ ’اٴْن کے رونے پر کمل ہاسن نے اٴْن سے بات کی اور بتایا کہ یہ فلم کی ضرورت تھی اٴْن کا سین ضرورت کے تحت کاٹا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں پھر وہ کمل ہاسن سے کیسے ناراض ہو سکتے تھے‘۔نوازالدین صدیقی نے کہا کہ ’کمل ہاسن ایک مکمل، بے تحاشہ صلاحتیں رکھنے والے اداکار ہیں، وہ کمل ہاسن کے آگے کچھ نہیں بول سکتے ہیں‘۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 29/10/2020 - 18:25:39

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments