بھارت کا چیمپیئنز ٹرافی کے بائیکاٹ پر غور
UrduPoint Android Application

بھارت کا چیمپیئنز ٹرافی کے بائیکاٹ پر غور

رواں سال آئی سی سی کے ورکنگ گروپ کی جانب سے آئینی اور مالی معاملات میں تبدیلیوں کی سفارش کی گئی , اجلاس رواں ماہ 24 اپریل کو ہو گا جس کے تحت ممکنہ طور پر بگ تھری کے خاتمے کی منظوری دی جائے گی

جمعہ اپریل 1:15 pm
نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اپریل2017ء)انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) کی جانب سے بگ تھری کے خاتمے کی کوششوں پر بھارتی کرکٹ بورڈ(بی سی سی آئی) نے سخت موقف اپناتے ہوئے اپنے خلاف فیصلہ آنے پر چیمپئنز ٹرافی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔رواں سال آئی سی سی کے ورکنگ گروپ کی جانب سے آئینی اور مالی معاملات میں تبدیلیوں کی سفارش کی گئی جس کو آئی سی سی بورڈ نے قبول کرتے ہوئے تبدیلیوں پر غور وخوض اور اراکین کو شامل کرنے کے لیے اپریل میں ہونے والے بورڈ کے اگلے اجلاس میں پیش کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

اس سلسلے میں اجلاس رواں ماہ 24 اپریل کو ہو گا جس کے تحت ممکنہ طور پر بگ تھری کے خاتمے کی منظوری دی جائے گی۔آئی سی سی نے 2014 میں تین ملکوں بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ پر مشتمل بگ تھری کا ایک مضبوط نظام قائم کیا

خبر کی مزید تفصیل پڑھئیے

تھا جس کو آئی سی سی سے زیادہ فوائد حاصل ہورہے تھے تاہم اس پر کرکٹ کے غیرجانبدار حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی اس نظام کے تحت مالی اور انتظامی معاملات کے تمام تر اختیارات بھارت ،ْآسٹریلیا اور انگلینڈ کے پاس تھا اور بڑھتے ہوئے ٹی وی رائٹس ،ْآئی پی ایل اور دیگر وجوہات کے سبب اس منصوبے کا سب سے زیادہ فائدہ بھارت نے اٹھایا۔

(خبر جاری ہے)

اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی سی سی کے ورکنگ گروپ نے اسے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس صورت میں سب سے زیادہ نقصان بی سی سی آئی کو ہو گا جس کی وجہ سے انہوں نے ابھی سے منصوبے کے خلاف پراپیگنڈا شروع کردیا ۔اس معاملے پر بی سی سی آئی کا جنرل اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ انڈیا آئی سی سی کے نئے آئین کی مخالفت کرے گا جس میں ہندوستان کا مالی حصہ ممکنہ طور پر کم کردیا جائے گا۔

مزید خبریں