کرکٹ آسٹریلیا نے پلیئرزکا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوششیں شروع کردیں

پیر جولائی 15:11

کرکٹ آسٹریلیا نے پلیئرزکا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوششیں شروع کردیں
سڈنی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 24 جولائی2017ء) کرکٹ آسٹریلیا نے پلیئرزکا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔کرکٹرز ایسویسی ایشن کے چیف ایگزیکٹیو الیسٹر نکولسن نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ کرکٹ بورڈ کے ساتھ معاوضوں اور ریونیو میں شراکت کے حوالے سے بات چیت کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے تاہم اتوار کو ان کی اور کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹیو جیمز سدرلینڈ کی ملاقات ہوئی ہے جس میں سدرلینڈ کی جانب سے پہلا سوال ہی یہ پوچھا گیا کہ جب ان کی باقاعدگی کے ساتھ بات چیت ہورہی ہے تو پھر یہ تاثر کیوں دیا گیا کہ مذاکرات ختم ہوچکی ہے۔

جواب میں نکولسن کا کہنا تھا کہ تمام پلیئرز کو اصل صورتحال سے آگاہ رکھنا ان کی ذمہ داری اور اس کے ساتھ وہ جاننا چاہتے تھے کہ آخر کرکٹ آسٹریلیا کے ارادے کیا ہیں۔

(جاری ہے)

نکولسن نے کسی بھی معاہدے میں کافی وقت لگنے کے اپنے بیان کے بارے میں کہا کہ گذشتہ ایم او یو کو حتمی شکل دینے میں بھی 18 ماہ لگ گئے تھے، نئے معاہدے میں بھی کافی وقت لگ سکتا ہے۔

میٹنگ کے بعد کرکٹ آسٹریلیا کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بات چیت کافی تعمیری رہی ہے تاہم انھوں نے اس حوالے سے زیادہ تفصیل بیان نہیں کی۔ سی اے دراصل اپنے کمرشل پارٹنرز کو یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ بات چیت کا عمل مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے تاکہ ان کا اعتماد برقرار رہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں فریقین میں ہی مختلف اسباب کی وجہ سے غصہ پایا جاتا اور کوئی بھی دوسرے پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے، اسی وجہ سے معاملہ سلجھنے کے بجائے الجھ رہا ہے، دونوں ہی فریقین کو اس بات کا احساس ہے کہ وہ اپنے جھگڑے کو زیادہ طول نہیں دے سکتے کیونکہ براڈ کاسٹرز، اسپانسرز اور دوسرے نیشنل بورڈز کا اعتماد حاصل کرنا دونوں کی ہی مجبوری ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 24/07/2017 - 15:11:17

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments