MENU Open Sub Menu

ملکی برآمدات میں سبزیوں اور پھلوں کاحصہ مزید بڑھانے کیلئے موثر اقدامات کی اشد ضرورت ہے،میاں زاہدحسین

حکومت نئی بین الاقوامی منڈیوںتک رسائی ، پییکجنگ ،کولڈ اسٹوریج اور موثر برانڈنگ کی صورت میں اس شعبے کی مدد کرے،صدر کراچی انڈسٹریل الائنس

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مارچ2018ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہاپاکستان امریکا، یورپ ، مشرقِ وسطیٰ،مشرقِ بعید،سری لنکا، افغانستان اور بھارت سمیت کئی ممالک کو پھل اور سبزیاں برآمد کرتا ہے۔ پاکستان دنیا میں کینو کی پیداوار میں چھٹا بڑا ملک ہے جسکی کل پیداوار کا 33فیصد مشرقِ وسطیٰ کو برآمد کیا جاتا ہے، جبکہ انڈونیشیا، فلپائن اور سری لنکا کو بھی قابل ذکر مقدار برآمد کی جاتی ہے۔

آم یورپی ممالک سمیت افغانستان، بحرین، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور فرانس سمیت کئی ممالک میں برآمد کیا جاتا ہے۔ کھجور کی پیداوار ملک میں 535 ہزار ٹن ہے جس میں سے 86ہزار ٹن برآمد کی جاتی ہے۔

چلغوزہ کی تقریباً22فیصد پیداوار برآمد کی جاتی ہے ، چلغوزہ کی برآمد کے اعتبار سے پاکستان چین کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ جرمنی پاکستانی چلغوزہ کا سب سے بڑا خریدار ہے جسکے بعد فرانس اور مشرق بعید کا نمبر آتا ہے۔

میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میںکہا کہ امریکہ کی روس پر پابندی لگانے کے بعد روس کی اہم مارکیٹ پاکستان کے لئے ایک موقع ہے جہاں پاکستان بآسانی رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ حکومت نئی بین الاقوامی منڈیوں کی تلاش میں پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایسوسی ایشین کے ہاتھ مضبوط کرے اور کولڈ اسٹوریج سہولیات میں اضافہ، پیکیجنگ سہولیات کی فراہمی اور ملکی پیداوار کی موثر برانڈنگ کی صورت میں اس شعبے کو درپیش مسائل کو حل کرے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ ملک میںکولڈ اسٹوریج کی کمی کی وجہ سے جب کسی پھل یا سبزی کی پیداوار بڑھتی ہے تو کاشتکار کو نقصان ہوتا ہے جبکہ پیداوار کی کمی کی صورت میں عوام کو پریشانی اور مہنگائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پورا سال بالخصوص رمضان اور اہم تہواروں پر سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوتا ہے، ٹماٹر کی قیمتوں میں موجودہ غیر معمولی کمی اسکی ایک مثال ہے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ حکومت ملک بھر میں کولڈ اسٹوریج سہولیات قائم کرنے کے لئے فوری اقدامات کرے تاکہ سارا سال پھلوں اور سبزیوں کی فراہمی طلب اور رسد کے مطابق ہو اور کاشتکاروں اور عوام دونوں کو پریشانی سے بچایا جاسکے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ سی پیک کے تحت ملک میں ہونے والے ترقیاتی کاموں اور سڑکوں کے جال بچھنے سے سبزیوں اور پھلوں کا ملکی منڈیوں اور بندرگاہوں تک پہنچنا مزید آسان ہوگیاہے جس سے اس شعبے میں مزید ترقی ہوگی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع میسر ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ پھلوں اور سبزیوں کی موجودہ پیداوار، قابل کاشت زمین کاصرف 5سے 8 فیصد حصّہ مہیا کررہا ہے ، جس میں اضافے کی کافی گنجائش ہے۔ناقابل کاشت زمین کو قابل کاشت بناکر پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ کیا جاسکتا ہے، جس کے لئے حکومت اقدامات کرے۔ کئی ممالک بشمول جاپان ، مشرقِ بعید اور مشرق وسطیٰ ممالک میں پاکستان کی سبزیوں اور پھلو ں کی خاص طلب پائی جاتی ہے جس سے ملکی پیداوار میں اضافہ کرکے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 14/03/2018 - 16:50:30

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments