ڈھاکہ میںساف کے انتخاب میں پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے سنیئر نائب صدر سید خادم علی ..

ڈھاکہ میںساف کے انتخاب میں پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے سنیئر نائب صدر سید خادم علی شاہ آئندہ چار سال کیلئے سائوتھ ایشین فٹ بال فیڈریشن کے بلا مقابلہ سنیئر نائب صدر منتخب ہوگئے

پیر اپریل 5:58 pm
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) ڈھاکہ میںساف کے انتخاب میں پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے سنیئر نائب صدر سید خادم علی شاہ آئندہ چار سال کے لیے سائوتھ ایشین فٹ بال فیڈریشن کے بلا مقابلہ سنیئر نائب صدر منتخب ہوگئے۔ جبکہ B.F.F. کے صدر غازی صلاح الدین بھی سائوتھ ایشین فٹ بال فیڈریشن کے بلا مقابلہ صدر منتخب ہوئے۔12 اپریل کو بنگلادیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ہونے والے انتخابات میں سائوتھ ایشین فٹ بال فیڈریشن میں نو منتخب باڈی جس میں پاکستان کے سید خادم علی شاہ بلا مقابلہ سنیئر نائب صدر منتخب ہوئے جبکہ بنگلہ دیش کے غازی صلاح الدین بھی سائوتھ ایشین فٹ بال فیڈریشن کے بلا مقابلہ صدر منتخب ہوگئے۔

اسکے علاوہ باقی تمام نشستوں پر مقابلہ ہوا۔ پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے صدرسید فیصل صالح حیات نے اپنے بیان میں کہا کہ سید خادم علی شاہ کا بلا مقابلہ منتخب ہونا پاکستان کے لیے باعث عزت اور فخر کی بات ہے۔

(خبر جاری ہے)

سید خادم علی شاہ کی قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت ان کے مقابلے میں کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا جب کہ دشمن ملک بھارت نے بھی ان کے

خبر کی مزید تفصیل پڑھئیے

مقابلے میں الیکشن لڑنے کی ہمت نہیں کی۔

الیکشن کے علاوہ اس اجلاس میں اہم فیصلے ہوئے جس میں 2019 میں منعقد ہونے والی ساف انڈر 15 چمپئین شپ میں پاکستان کے کھلاڑی ایکشن میں نظر آئیں گے اس ایونٹ میں پاکستان کی شرکت یقینی ہو گئی ہے جبکہ سائوتھ چمپئین شپ2020 کی میزبانی پاکستان کو مل گئی ہے۔سائوتھ ایشین کے دیگر ممبران نے اس موقع پر سید خادم علی شاہ کی فٹ بال میں خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بلا مقابلہ ساف کے سنیئر نائب صدر منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی جس پر سید خادم علی شاہ ان سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا یہ سب آپ لوگوں کی محبت ہے۔

سید خادم علی شاہ نے مزید کہا کہ مستقبل میں بھی جنوبی ایشیا میں فٹ بال کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔PFF کے صدر فیصل صالح حیات نے مزید کہا کہ سید خادم علی شاہ کا بطور سنیئر نائب صدر انتخاب پاکستان کے لیے بڑی کامیابی ہے۔انکی اس کامیابی سے نہ صرف عالمی برادری میں پاکستان کا نام بلند ہوگا بلکہ وطن عزیز میں فٹ بال کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو زبردست استحکام ملے گا۔

مزید خبریں