خواتین باکسنگ کے فروغ کے لئے لیاری کے اسکولوں سے بھرپور تعاون کریں گے‘سیکریٹری اسپورٹس ہارون احمد خان

جمعرات اکتوبر 17:21

خواتین باکسنگ کے فروغ کے لئے لیاری کے اسکولوں سے بھرپور تعاون کریں ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 اکتوبر2018ء) محکمہ کھیل سندھ بھر میں خواتین باکسنگ کے فروغ میں گہری دلچسپی رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج آصفہ بھٹو کا کیا ہوا وعدہ پورا کررہے ہیں اور خواتین باکسرز کے لئے دو نئے باکسنگ رنگ ایسو سی ایشن کے حوالے کررہے ہیں‘ اس بات کا اظہار صوبائی سیکریٹری اسپورٹس ہارون احمد خان نے سندھ باکسنگ ایسو سی ایشن کے سیکریٹری اصغر بلوچ کو انٹرنیشنل لیول کے دو باکسنگ رنگ حوالے کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ باکسنگ ایسو سی ایشن نے سندھ کی تاریخ میں پہلی بار خواتین باکسرز کلب کی بنیاد رکھ کر تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے اور ان کی زیر تربیت لیاری کی ایک بچی رضیہ بانو انٹرنیشنل سطح پر متعارف ہوئی۔ سیکریٹری اسپورٹس نے کہا کہ محکمہ کھیل رضیہ بانو کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گا تاکہ وہ پاکستان کا نام روشن کرسکے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر گورنمنٹ گرلز سیکنڈری اسکول ولی محمد حاجی یعقوب لیاری میں ڈھائی ہزار طالبات کے علاوہ رکن قومی اسمبلی شکور شاد‘ ڈائریکٹر اسپورٹس شہزاد پرویز‘ سابق ایم پی اے بابو غلام حسین‘ استاد عبدالغنی درویش‘ صدر سائوتھ باکسنگ رسول بخش بلوچ‘ سیکریٹری عبدالرزاق ‘ اسکول پرنسپل میڈم صابرہ اور سندھ کراٹے ایسو سی ایشن کے عبدالحمید بھی موجود تھے۔

اسکول پرنسپل میڈم صابرہ نے سیکریٹری اسپورٹس ہارون احمد خان سے مطالبہ کیا کہ لیاری میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے ضر ورت اس بات کی ہے کہ اسکول کی سطح پر کوچنگ کیمپ کا انعقاد کیا جائے تاکہ گراس روٹ لیول سے نیا خواتین ٹیلنٹ ابھر کر سامنے آسکے اور اسکول کے بچوں کو باکسنگ کا سامان اور مکمل کٹس بھی فراہم کی جائیں۔ قبل ازیں خواتین باکسنگ کے دو نمائشی مقابلوں کا اہتمام کیا گیا تھا جسے سیکریٹری اسپورٹس اور دیگر مہمانوں نے دیکھا پہلے مقابلے میں ماریہ نے اقعاء کو0-3سے شکست دی جبکہ دوسرے مقابلے میں شازیہ نے زیب النساء کو1-2سے زیر کرکے جیت رقم کی‘ بعد ازاں سیکریٹری اسپورٹس ہارون احمد خان نے ڈائریکٹر اسپورٹس شہزاد پرویز‘ رکن قومی اسمبلی شکور شاد‘ میڈم صابرہ ‘اصغر بلوچ اور دیگر مہمانوں کے ہمراہ ربن کاٹ کر دونوں باکسنگ رنگ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 11/10/2018 - 17:21:46

Your Thoughts and Comments