کپتان، کوچزاور سلیکٹرز کے تقرر سمیت اہم اختیارات چیئرمین احسان مانی سے وسیم خان کے سپرد

پی سی بی بورڈ آف گورنرز کے اکثریتی اراکین سے سرکولیشن ریزولوشن کے ذریعے اہم فیصلوں کی منظوری حاصل کرلی جب بھی بورڈ آف گورنرز کا اجلاس ہوگا سرکولیشن ریزولوشن کے ذریعے لیے گئے فیصلوں کی توثیق کرانا لازمی ہوگی ‘ماہرین

جمعرات مئی 13:58

کپتان، کوچزاور سلیکٹرز کے تقرر سمیت اہم اختیارات چیئرمین احسان مانی ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 مئی2019ء) پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے کپتان، کوچز، سلیکٹرز اور دیگر اہم تقرریوں کے اپنے اختیارات منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کے سپرد کر دیئے ۔ عدالتی معاملات اور تنازعات میں گھرے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ نے گورننگ بورڈ اجلاس طلب کرنے کے بجائے پی سی بی بورڈ آف گورنرز کے اکثریتی اراکین سے سرکولیشن ریزولوشن کے ذریعے اہم فیصلوں کی منظوری حاصل کرلی ہے۔

چیئرمین احسان مانی نے اپنے زیادہ تر کرکٹ سے وابستہ اختیارات ایم ڈی وسیم خان کے سپرد کردیئے ہیں اور اب احسان مانی کے اختیارات کم ہوگئے ہیں۔کوئٹہ کے اجلاس میں ہنگامہ آرائی کے بعد یہ معاملہ التواء کا شکار ہوگیا تھا لیکن پی سی بی بورڈ آف گورنرز کے اکثریتی اراکین سے سرکو لیشن ریزولوشن کے ذریعے ایم ڈی کی حیثیت کو بھی تسلیم کرالیا ہے۔

(جاری ہے)

کوئٹہ میٹنگ میں اکثر اراکین نے ایم ڈی کی تقرری کوغیر قانونی قرار دیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اختیارات ملنے کے بعد اب وسیم خان زیادہ تر کرکٹ فیصلے خود کرسکیں گے جس میں کپتان، کوچز، سلیکٹرز اور دیگر اہم تقرریاں شامل ہیں۔2014ء میں بورڈ آف گورنرز نے یہ تمام اختیارات نجم سیٹھی کو چیئرمین ایگزیکٹیو بورڈ کی حیثیت سے دیئے تھے جو کہ بی او جی کے پاس اختیارات منتقل کرنے کا آئینی حق ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بھی بورڈ آف گورنرز کا اجلاس ہوگا سرکولیشن ریزولوشن کے ذریعے لیے گئے فیصلوں کی توثیق کرانا لازمی ہوگی اور یہ نئی پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب دو ہفتے برطانیہ میں گزارنے کے بعد منگل کو چیئرمین احسان مانی نے آفس جوائن کیا اور بدھ کو ایم ڈی وسیم خان نے بھی دو ہفتے بعد اپنی ذمے داریاں سنبھال لیں۔ بدھ کو رات گئے پی سی بی نے اعلان کیا کہ گورننگ بورڈ نے 2017ء اور 18کے آڈٹ شدہ اکائونٹس کی منظوری دے دی ہے جبکہ گورننگ بورڈ نے سرمایہ کاری کی پالیسی کی بھی منظوری دی ہے۔

منظوری دینے والے اراکین میں احسان مانی، اسد علی خان لیفٹنٹ جنرل (ر) مزمل حسین، کبیر احمد خان، ایاز بٹ اور شاہ ریز روکڑی بھی شامل ہیں۔یاد رہے کہ کبیر خان، ایاز بٹ اور شاہ ریز روکڑی نے نعمان بٹ کے ساتھ مل کر بغاوت کی تھی لیکن پھر اپنے پہلے فیصلے پر یوٹرن لیا۔پی سی بی اعلامیے کے مطابق باغی گروپ کے سربراہ نعمان بٹ کا کیس ایڈجو ڈی کیٹر کے سامنے چل رہا ہے، اس لیے وہ آئین کے تحت کسی اجلا س کا حصہ نہیں بن سکتے۔ ایک اور باغی رکن کوئٹہ کے شاہ دوست کو ڈی نوٹی فائی کیا جاچکا ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 16/05/2019 - 13:58:55

Your Thoughts and Comments