پی سی بی گورننگ بورڈ کے اکثریتی ممبران نے پی سی بی چیئرمین کے اختیارات کی ایم ڈی کو منتقلی،

سرمایہ کاری پالیسی میں تبدیلی و 2017-18ء کے آڈٹ شدہ اکائونٹس کی منظوری دیدی اب کپتان، کوچز، سلیکٹرز و دیگر اہم عہدوں پر تقرری کا اختیار چیئرمین پی سی بی کی بجائے ایم ڈی پی سی بی کو ہوگا

جمعرات مئی 15:18

پی سی بی گورننگ بورڈ کے اکثریتی ممبران نے پی سی بی چیئرمین کے اختیارات ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 مئی2019ء) پی سی بی گورننگ بورڈ کے اکثریتی ممبران نے پی سی بی چیئرمین کے اختیارات ایم ڈی کو منتقل کر دیئے، سرمایہ کاری پالیسی میں تبدیلی اور 2017-18ء کے آڈٹ شدہ اکائونٹس کی منظوری دیدی۔ منظوری دینے والے ممبران میں چیئرمین پی سی بی احسان مانی، ارشد علی خان، لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین، کبیر احمد خان، محمد ایاز بٹ اور محمد شاہریز عبداللہ خان شامل تھے۔

بتایا گیا ہے کہ پی سی بی نے باقاعدہ گورننگ بورڈ کا اجلاس بلانے کی بجائے بورڈ آف گورنرز کے ممبران کی اکثریت سے سرکولیشن ریزولیشن کے ذریعے مذکورہ معاملات کی منظوری لی، اسطرح بورڈ آف گورنرز کی منظوری سے پی سی بی چیئرمین احسان مانی کے اہم اختیارات جس میں کپتان، کوچز، سلیکٹرز اور دیگر اہم تقرریاں شامل ہیں کے اختیارات منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کو منتقل ہوگئے اور اب ایم ڈی مذکورہ تمام عہدوں کے بارے میں خود فیصلے کرسکیں گے۔

(جاری ہے)

احسان مانی کے پاس اب بورڈ میں کم اختیارات ہونگے۔ 2014ء میں بورڈ آف گورنرز نے یہ تمام اختیارات نجم سیٹھی کو چیئرمین ایگزیکٹو بورڈ کی حیثیت سے دیئے تھے۔ بی او جی کے پاس اختیارات منتقل کرنے کا آئینی حق ہے۔ واضح رہے کہ پی سی بی کے چیئرمین نے کوئٹہ میں گورننگ بورڈ کا اجلاس طلب کیا تھا لیکن بورڈ کے متعدد ارکان نے پی سی بی کے ایجنڈا سے اتفاق نہ کیا تھا۔

متعدد اراکین نے ایم ڈی کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور ہنگامہ آرائی کے بعد یہ معاملہ التواء کا شکار ہوگیا تھا۔ پی سی بی میں بغاوت کرنے والے گورننگ بورڈ کے رکن نعمان بٹ کو معطل کردیا گیا تھا جبکہ دیگر اراکین نے اپنے فیصلے پر یوٹرن لیتے ہوئے پی سی بی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد پی سی بی بورڈ آف گورنرز کے اکثریتی اراکین سے سرکو لیشن ریزولوشن کے ذریعے ایم ڈی کی حیثیت کو بھی تسلیم کر والیا گیا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 16/05/2019 - 15:18:20

Your Thoughts and Comments