واں آئی سی سی ورلڈ کپ، دفاعی چیمپئن آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے ہرا کر تیسری کامیابی حاصل کر لی، پاکستانی ٹیم 307 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 46ویں اوور میں 266 رنز بنا کر آئوٹ، وہاب اور حسن علی کی جارحانہ بیٹنگ بھی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکیں، وارنر کی سنچری، عامر کی 5 وکٹیں، وارنر میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے

بدھ جون 22:30

ٹائونٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 جون2019ء) بارہویں آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں ڈیوڈ وارنر کی شاندار سنچری کے بعد کمنز اور سٹارک کی عمدہ بائولنگ کی بدولت دفاعی چیمپئن آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے کر تیسری کامیابی حاصل کر لی، آسٹریلوی ٹیم پہلے کھیلتے ہوئے 49 اوورز میں 307 رنز بنا کر آئوٹ ہو گئی، وارنر 107 اور فنچ 82 رنز بنا کر نمایاں رہے، محمد عامر نے 5 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا، جواب میں پاکستانی ٹیم مطلوبہ ہدف کے تعاقب میں 46ویں اوور میں 266 رنز بنا کر آئوٹ ہو گئی، امام الحق 53 رنز بنا کر نمایاں رہے، 200 کے سکور پر 7 وکٹیں گرنے کے بعد وہاب ریاض نے عمدہ بلے بازی کا مظاہرہ کر کے ٹیم کو جیت کی امید دلائی تاہم ان کے آئوٹ ہونے کے بعد گرین شرٹس کی جیت کی امیدیں دم توڑ گئیں، وہاب نے 3 چھکوں کی مدد سے 45 رنز بنائے، کمنز نے 3 وکٹیں لیں، وارنر میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

(جاری ہے)

بدھ کو ٹائونٹن میں کھیلے گئے ورلڈ کپ کے 17ویں میچ میں پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر پہلے آسٹریلیا کو بیٹنگ کی دعوت دی تو عالمی و دفاعی چیمپئن 49 اوورز میں 307 رنز بنا کر آئوٹ ہو گئی، کپتان ایرون فنچ اور ڈیوڈ وارنر نے ٹیم کو 146 رنز کا رنز کا جاندار آغاز فراہم کیا، یہاں پر محمد عامر نے فنچ کو آئوٹ کر کے ٹیم کو پہلی کامیابی دلائی، انہوں نے 82 رنز بنائے، سٹیون سمتھ بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے اور 10 رنز بنانے کے بعد محمد حفیظ کی گیند پر کیچ آئوٹ ہو گئے، 223 کے سکور پر میکسویل 20 رنز بنانے کے بعد شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر بولڈ ہو گئے، وارنر آسٹریلیا کے چوتھے آئوٹ ہونے والے کھلاڑی تھے جو 107 رنز کی عمدہ اننگز کھیلنے کے بعد شاہین آفریدی کی گیند کا نشانہ بنے، اس کے بعد کینگروز کا کوئی بھی کھلاڑی متاثرکن کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکا اور اس کی وکٹیں یکے بعد دیگرے گرتیں گئیں، عثمان خواجہ 18 رنز بنانے کے بعد عامر کی گیند پر کیچ آئوٹ ہوئے، شان مارش 20 رنز بنانے کے بعد عامر کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے، نیتھن کولٹر نیل اور پیٹ کمنز 2، 2 اور مچل سٹارک 3 رنز بنا کر چلتے بنے، گرین شرٹس کے بائولرز نے آخری 10 اوورز میں عمدہ لائن و لینتھ بائولنگ کا مظاہرہ کر کے آسٹریلوی ٹیم کو 307 رنز تک قابو کیا، عامر نے کیریئر بہترین بائولنگ کرتے ہوئے 30 رنز کے عوض 5 کھلاڑیوں کو نشانہ عبرت بنایا، شاہین آفریدی نے 2 جبکہ حسن علی، وہاب ریاض اور حفیظ نے ایک، ایک وکٹ لی۔

جواب میں پاکستانی ٹیم مطلوبہ ہدف کے تعاقب میں 45.4 اوورز میں 266 رنز بنا کر آئوٹ ہو گئی، شاہینوں کی اننگز کا آغاز مایوس کن تھا اور 2 کے سکور پر اسے فخر زمان کا نقصان اٹھانا پڑا جو بغیر کوئی رن بنائے پیٹ کمنز کی گیند پر کیچ آئوٹ ہوئے، اس موقع پر بابر اعظم نے امام الحق کے ساتھ مل کر ٹیم کو سہارا دینے کی کوشش کی تاہم 56 کے سکور پر کولٹر نیل نے بابر اعظم کو آئوٹ کر کے ٹیم کو بڑی کامیابی دلائی، وہ 30 رنز بنا پائے، اس موقع پر حفیظ نے امام الحق کا ساتھ دیا، دونوں بلے باز اچھا کھیل رہے تھے کہ 135 کے مجموعی سکور پر کمنز نے امام الحق کو آئوٹ کر کے اہم پارٹنرشپ توڑ دی، انہوں نے 53 رنز بنائے، اگلے اوور میں گرین شرٹس کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب حفیظ جو کہ اچھی بیٹنگ کر رہے تھے فنچ کی گیند پر کیچ آئوٹ ہو گئے، انہوں نے 46 رنز بنائے، کمنز نے اپنے اگلے اوور میں شعیب ملک کو آئوٹ کر کے ٹیم کو بڑی کامیابی دلائی، ملک بغیر کوئی رن بنائے چلتے بنے، آصف علی بیٹنگ کا جادو چلانے میں ناکام رہے اور 5 رنز بنا کر رچرڈسن کی گیند پر کیچ آئوٹ ہوئے، 160 کے سکور پر 6 وکٹیں گرنے کے بعد حسن علی نے جارحانہ انداز اپنایا اور 15 گیندوں پر 3 چھکوں اور 3 چوکوں کی مدد سے 32 رنز بنا کر سکور 200 تک پہنچا دیا، یہاں پر رچرڈسن نے حسن کو آئوٹ کر کے ٹیم کو ساتویں کامیابی دلائی، اس موقع پر وہاب ریاض آسٹریلوی بائولرز کے سامنے ڈٹ گئے، انہوں نے 3 چھکوں اور 2 چوکوں کی مدد سے 45 رنز بنا کر ٹیم کو جیت کی امید دلائی تاہم 264 کے مجموعی سکور پر سٹارک نے وہاب کو آئوٹ کر کے ٹیم کو اہم کامیابی دلائی، وہاب کے آئوٹ ہوتے ہی گرین شرٹس کی جیت کی امیدیں بھی دم توڑ گئیں، عامر بغیر کوئی رن بنائے سٹارک کی گیند پر بولڈ ہوئے، سرفراز احمد آخری آئوٹ ہونے والے کھلاڑی تھے جو 40 رنز بنانے کے بعد رن آئوٹ ہو گئے، کمنز نے 3 سٹارک اور رچرڈسن نے 2، 2، کولٹر نیل اور فنچ نے ایک، ایک کھلاڑی کو آئوٹ کیا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 12/06/2019 - 22:30:20

Your Thoughts and Comments