رمیز راجہ نے مصباح الحق کی بطور ہیڈ کوچ تعیناتی کی مخالفت کردی

مصباح دفاعی کپتان تھے ،ڈر ڈر کر کھیلنے والی ٹیمیں کبھی کامیابی حاصل نہیں کر پاتیں:سابق قومی کپتان

Zeeshan Mehtab ذیشان مہتاب منگل اگست 15:27

رمیز راجہ نے مصباح الحق کی بطور ہیڈ کوچ تعیناتی کی مخالفت کردی
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 20اگست2019ء) سابق کپتان رمیز راجہ نے سابق کپتان مصباح الحق کو قومی ٹیم کا ہیڈ کوچ بنانے کے خیال کی مخالفت کردی۔یوٹیوب پر جاری ایک ویڈیو میں رمیز راجہ نے کہا کہ مصباح الحق کی دفاعی حکمت عملی قومی ٹیم کے لیے کسی صورت درست نہیں ہوسکتی۔ان کا کہنا تھا کہ اپنے کرکٹ کیریئر کے دوران مصباح الحق نے آگے بڑھ کر جارحانہ انداز میں کھیلنے کے بجائے ہمیشہ دفاعی حکمت عملی اپنائی اور مخالف ٹیم کی جانب سے غلطی ہونے کا انتظار کیا، یو اے ای میں انہوں نے اسی اپروچ کے ساتھ کئی میچ جیتے مگر پاکستانی کرکٹ کو ایسا شخص چاہیے جو مخالف ٹیم کے گیم پلان کے مطابق چلنے کے بجائے خود اپنا کھیل بنائے اور نتائج کو اپنے حق میں کرلے۔

رمیز راجہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی ٹیم کو کرکٹ کا بے خوف اور نڈر برانڈ بننے کی طرف بڑھنا چاہیے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بھارتی کھلاڑی ویرات کوہلی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کوہلی نے اپنی جارحانہ اور بے خوف اپروچ کے ذریعے بھارتی ٹیم کو ٹیسٹ کرکٹ کی نئی بلندیوں پر پہنچادیا ہے۔ پاکستانی ٹیم کو بھی اسی طرح کا جارحانہ انداز اپنانے کی ضرورت ہے کیونکہ انفرادی طور پر پاکستانی کھلاڑیوں میں بے خوفی اور جارحانہ پن موجود ہے تاہم پاکستان کو ایسے انفرادی تھنک ٹینک کی بھی ضرورت ہے جو آج کے دور کی ماڈرن کرکٹ کی ضروریات کے عین مطابق پلان بناسکے جو پاکستانی کرکٹ کو آگے لے کر جاسکے۔

57 سالہ سابق کرکٹر کا یہ بھی ماننا ہے کہ پاکستانی ٹیم کو ہر طرح کی صورت حال میں عمدہ کھیل پیش کرنے والی ٹیم ہونا چاہیے کیونکہ اسی صورت میں پاکستانی ٹیم دنیائے کرکٹ کی بہترین ٹیموں کی سی عزت اور اعلیٰ مقام حاصل کرسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مصباح الحق کی قیادت میں پاکستانی ٹیم ایک ہی انداز میں بچ بچا کر اور ڈر ڈر کر کھیل سکتی ہے لیکن اگر قومی ٹیم کے کھلاڑی اپنی قسمت بدلنا چاہتے ہیں اور اپنے مداحوں کی تعداد بڑھانا چاہتے ہیں تو انہیں اپنا انداز اور سوچ بدلنی ہوگی کیونکہ میدان میں وہی جیتتا ہے جو کھل کر کھیلتا ہے اس لیے قومی ٹیم کو بھی نئی کامیابیوں کے لیے نئی سوچ اپنانی ہوگی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 20/08/2019 - 15:27:48

Your Thoughts and Comments