قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز بلے باز یونس خان کی والدہ انتقال کرگئیں

والدہ گردے ناکارہ ہونے کے سبب ڈائیلسز پر تھیں :سابق ٹیسٹ کرکٹر

Zeeshan Mehtab ذیشان مہتاب منگل 27 اگست 2019 11:00

قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز بلے باز یونس خان کی والدہ انتقال کرگئیں
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔27اگست 2019ء) قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز بلے باز یونس خان کی والدہ انتقال کرگئی ہیں ۔سابق ٹیسٹ کرکٹر کے مطابق ان کی والدہ گردے ناکارہ ہونے کے سبب ڈائیلسز پر تھیں اور انہیں ڈائیلسز کے لیے ہی ہسپتال داخل کروایا تھا جہاں آج ان کا انتقال ہوگیا ہے ،خاندانی ذرائع کے مطابق ان کی نماز جنازہ رات 10بجے مردان میں ادا کی جائے گی اور وہیں تدفین ہوگی ۔

یونس خان نے 13 فروری 2000ءکو بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کراچی میں سری لنکا کےخلاف ایک روزہ سیریز سے کیا جہاں انھوں نے 46 رنز بنائے تھے۔پاکستان کے لیے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے یونس خان نے 26 فروری کو اپنے کیریئر کا پہلا ٹیسٹ سری لنکا کےخلاف راولپنڈی میں کھیلا اور اپنے پہلے ہی میچ میں سنچری بنائی۔

(جاری ہے)

یونس خان نے 118 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں جن میں34 سنچریاں سکور کیں اور 10099 رنز بنائے۔

انکا سب سے زیادہ سکور 313 ہے جو انھوں نے 2009 میں سری لنکا کےخلاف سکور کیے۔ یہ سکور پاکستان کی جانب سے کسی بھی کھلاڑی کا تیسرا سب سے زیادہ سکور ہے۔ پہلے نمبر پر337 رنز کے ساتھ حنیف محمد ہیں اور دوسرے نمبر پر 329 رنز کی اننگز کے ساتھ انضمام الحق براجمان ہیں ۔ان کا نام حال ہی میں وزڈن کے سال کے پانچ بہترین کھلاڑیوں میں شامل کیا گیا۔یونس خان نے پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا جاوید میانداد کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا۔

انھوں نے انضمام الحق کا سب سے زیادہ 25 سنچریوں کا ریکارڈ بھی توڑا۔یونس خان نے اپنی قیادت میں پاکستان کو 2009 ءمیں ٹی ٹونٹی کا عالمی چمپئن بنایا جو 1992 ءکے ورلڈکپ میں فتح کے بعد پاکستان کرکٹ کا سب سے بڑا اعزاز تھا۔ اس کے بعد انھوں نے ٹی ٹوئنٹی سے کنارہ کشی کا اعلان کیا تھا۔یونس خان نے نومبر 2015 ءمیں آسٹریلیا کےخلاف متحدہ عرب امارات میں ایک روزہ سیریز کے دوران ایک روزہ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔انھوں نے 265 ایک روزہ میچوں میں7 سنچریوں اور 48 نصف سنچریوں کی مدد سے 7249 رنز بنائے جبکہ 3 وکٹیں بھی حاصل کیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 27/08/2019 - 11:00:04

Your Thoughts and Comments