مصباح الحق کے ساتھ میری کیمسٹری کافی ملتی ہے،جتنی سپورٹ کی ضرورت ہوگی میں دوں گا‘ وقار یونس

ہمارا مقصد پاکستان ٹیم کو اوپر لے کر جانا ہے،کوشش کروں گا پاکستان کی بولنگ لائن بہتر پرفارم کرے اور اوپر جائے سرفراز احمد تجربہ کار ہیں، ٹیم کو ان کی ضرورت ہے، عمر اکمل اور احمد شہزاد کو ٹیم سے دور رکھنے کا کبھی نہیں کہا‘ بولنگ کوچ کی میڈیا سے گفتگو

جمعہ ستمبر 23:21

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 ستمبر2019ء) پکستان کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ وقار یونس نے کہا ہے کہ ہیڈ کوچ مصباح الحق کو جتنی سپورٹ کی ضرورت ہوگی میں دوں گا، ہمارا مقصد پاکستان ٹیم کو اوپر لے کر جانا ہے،کوشش کروں گا کہ پاکستان کی بولنگ لائن بہتر پرفارم کرے اور اوپر جائے، سرفراز احمد تجربہ کار ہیں، ٹیم کو ان کی ضرورت ہے، کپتان کون ہوگا فیصلہ کرنا چیئرمین کا کام ہے،عمر اکمل اور احمد شہزاد کو ٹیم سے دور رکھنے کا کبھی نہیں کہا ۔

نوجوان بولرز میں بہت ٹیلنٹ ہے، نسیم شاہ بھی باصلاحیت ہے اور محمد حسنین بھی ان بولرز میں شامل ہے جو جلد ٹیم میں جگہ بنائیں گے۔یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سری لنکن ٹیم آرہی ہے جو خوش آئند ہے، امید ہے کہ اسی طرح پاکستان کے میدان آباد ہوں گے، سری لنکن ٹیم میں باصلاحیت کھلاڑی شامل ہیں کسی بھی ٹیم کوکمزور یا ریلو کٹا نہیں کہنا چاہیے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ سابق کوچ اظہر محمود نے بہت اچھا کام کیا اورجتنا کریڈٹ دیا جائے کم ہے، اظہر محمود نوجوان ہے اور سیکھ رہا ہے جبکہ عثمان شنواری کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے جس پر میں کچھ نہیں کہہ سکتا البتہ اگر میری نظر سے دیکھیں تو اظہر محمود ابھرتے ہوئے کوچ ہیں۔اب نئے سرے سے آغاز ہو رہا ہے، ہیڈ کوچ کے انڈر ہی سب کام کرتے ہیں، مجھے اپنا رول پتہ ہے ،ہم مل کر کام کریں گے۔

انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ عمر اکمل اور احمد شہزاد کو پاکستان ٹیم سے دور رکھا جائے ، ماضی میں کچھ غلط فہمیاں پھیلائی گئی تھیں۔ ان باتوں میں کوئی حقیقت نہیں۔انہوںنے کہاکہ ہیڈ کوچ کے مائنڈ سیٹ کے ساتھ چلنا پڑتا ہے،ہیڈ کوچ کے ماتحت ہی سب کام کرتے ہیں، مصباح الحق کے ساتھ میری کیمسٹری کافی ملتی ہے، کوشش ہو گی موجودہ ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح کو جتنی ہو سکے سپورٹ دیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹریننگ کیمپ کے دوران بائولرز محنت کر رہے ہیں، ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ میں نئی چیزیں ہوئی ہیں۔ ہم سب کا مقصد پاکستان ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔انہوں نے کہاکہ کرکٹ ٹیم کے لیے لگائے کیمپ کے دوران فٹنس کو بہتر کیا جا رہا ہے، بائولرز بھرپور پریکٹس کر رہے ہیں۔۔انہوںنے کہاکہ یہ کسی کی ٹیم نہیں پاکستان کی ٹیم ہے،میری کوشش ہے کہ سب کی مدد کروں، کمنٹری تو ہوتی رہتی ہے پھر کر لیں گے۔پریس کانفرنس کے دوران سوال پوچھا گیا کہ آپ کب آسٹریلیا سے پاکستان واپس آ رہے ہیں تو اس پر وقار یونس کا کہنا تھا کہ کوشش کر رہا ہوں کہ جلد پاکستان منتقل ہو جائوں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 20/09/2019 - 23:21:09

Your Thoughts and Comments