لاہور حملے میں زخمی ہونیوالے سنگاکارا پاکستان آنے کیلئے تیار

اگر ایم سی سی کا دورہ ممکن ہوا تو میں اس کا حصہ ہوں گا:سابق سری لنکن کپتان

پیر اکتوبر 22:47

لاہور حملے میں زخمی ہونیوالے سنگاکارا پاکستان آنے کیلئے تیار
لندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 21 اکتوبر2019ء) ایم سی سی کے صدر اور سابق سری لنکن کپتان کمار سنگاکارا نے ایم سی سی کے دورہ پاکستان کا عندیہ دے دیا،یہ بھی کہا کہ میں بھی پاکستان آنے کیلئے تیار ہوں۔ایک انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا کہ آپ پاکستان میں کرکٹ کی واپسی کو کس طرح دیکھتے ہیں انہوں نے جواب دیا کہ سری لنکا کا دورہ پاکستان دیکھ کر بہت اچھا لگا اور ردعمل سے واضح ہے کہ یہ ایک بہترین دورہ تھا،سری لنکا کے کھلاڑیوں نے بھی دورہ پاکستان کو خوب انجوائے کیا، وہاں سکیورٹی انتظامات بھی سخت تھے اور پاکستان میں مہمان کھلاڑیوں کو تمام سہولیات بھی فراہم کی گئیں تھیں۔

سنگاکارا نے بتایا کہ ایم سی سی بھی اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے کے لیے بات غور کر رہی ہے، پی سی بی کے مینیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان بھی ورلڈ کرکٹ کمیٹی کے اجلاس میں ایم سی سی کو سیکیورٹی کے اعتبار سے مختلف منصوبے بھی پیش کیے اور بتایا کہ یہ دورہ کس طرح ہوسکتا ہے، اگر ایم سی سی کا دورہ پاکستان منعقد ہوجائے تو یہ پاکستان میں کرکٹ کی واپسی کے لیے ایک غیر معمولی پیشرفت ہوگی۔

(جاری ہے)

سنگاکارا نے کہا کہ پاکستان نے سکیورٹی کے اعتبار سے بہت کچھ کیا ہے، یہاں آہستہ آہستہ لیکن یقین طور پر کرکٹ بحال ہوجائے گی اور پاکستانی کھلاڑی اپنے ہوم کرا?ڈ کے سامنے میچز کھیل رہے ہوں گے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ پاکستان جانے کیلئے تیار ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر ایم سی سی کا دورہ ممکن ہوا تو میں اس کا حصہ ہوں گا۔خیال رہے کہ پاکستان میں کرکٹ سمیت دیگر بین الاقوامی کھیلوں کے دروازے اس وقت بند ہوگئے تھے جب 3 مارچ 2009 کو سری لنکن ٹیم پر دہشتگرد حملہ ہوا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

اعصام الحق کا ڈیوس کپ مقابلے پاکستان سے باہر منتقل کرنے پر ایونٹ کا ..

اعصام الحق کا ڈیوس کپ مقابلے پاکستان سے باہر منتقل کرنے پر ایونٹ کا بائیکاٹ

ٹینس اسٹار اعصام الحق نے بھارتی اثرورسوخ پر انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن کی طرف سے ڈیوس کپ مقابلے پاکستان سے باہر منتقل کرنے پر ایونٹ کا بائیکاٹ کردیا۔نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان ٹینس فیڈریشن کے صدر سلیم سیف اللہ کے نام احتجاجی خط میں ستارہ امتیاز پانے والے ... مزید

وقت اشاعت : 21/10/2019 - 22:47:19

Your Thoughts and Comments